trump

سابق امریکی صدر ٹرمپ کیخلاف کیپٹل ہل پر حملے کا مقدمہ درج

Spread the love

واشنگٹن (جے ٹی این آن لائن انٹرنیشنل نیوز) ٹرمپ کیپٹل ہل مقدمہ

سابق صدر ٹرمپ اور ان کے چند ساتھیوں کیخلاف واشنگٹن کی ایک وفاقی عدالت

میں کیپٹل ہل حملے کی تحریک دینے کا مقدمہ درج ہوگیا ہے۔ عدالت نے ایوان

نمائند گان کی مواخذہ ٹیم کے ایک منیجر ڈیموکریٹ کانگریس مین ایرک سویل ویل

کی طرف سے کارروائی کرنے کی درخواست منظور کر کے ملزمان کو نوٹس

جاری کردیئے ہیں۔ سابق صدرٹرمپ کے علاوہ جن دیگر ملزمان کو نامزد کیا گیا

ہے ان میں سابق صدر کے ایک بیٹے ڈونلڈ جونیئر ٹرمپ، ان کے وکیل نیویارک

سٹی کے سابق میئر روڈی گیولیانی اور البامہ ریاست سے تعلق رکھنے والے ایک

ریپبلکن کا نگر یس مین موبروکس شامل ہیں۔

=-= یہ بھی پڑھیں:نیویارک سٹی گورنمنٹ کو ٹرمپ کے مالیاتی ریکارڈ تک رسائی مل گئی

یاد رہے کانگریس کے ایوان زیریں ایوان نمائندگان نے 6 جنوری کو کیپٹل ہل پر

ٹرمپ کے حامیوں کے حملے کے بعد مظاہرین کو اکسانے کے الزام میں سابق

صدر کےخلا ف مواخذے کی تحریک منظور کرلی تھی اس روز ایوان نمائندگان

میں صدارتی انتخابات کے الیکٹورل ووٹوں کی گنتی کی رسمی کارروائی ہونا تھی

جس میں ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن پہلے ہی کا میا ب ہوئے لیکن

ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹر مپ ا پنی ہار کو ووٹوں کی گنتی میں دھاندلی کا الزام لگا

کر ماننے سے انکار کر رہے تھے۔ ٹرمپ کے حامیوں نے کیپٹل ہل پر دباﺅ ڈالنے

کیلئے مظاہرے کا اہتما م کیا تھا جس سے ٹرمپ نے خطاب کرتے ہوئے انہیں مبینہ

طور پرحملے پر اکسایا تھا بعد میں سینیٹ میں مواخذے کیلئے باقاعدہ عدالتی

کارروائی ہوئی جہا ں ٹرمپ کیخلاف ٹھوس شواہد پیش ہوئے لیکن مواخذے کے

حق میں اکثریتی ووٹ ڈالے جانے کے باوجود وہ بری ہوگئے تھے کیونکہ مجرم

قرار دینے کیلئے دوتہائی ووٹوں کی ضرورت تھی۔

==–== ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا پس منظر
——————————————————————————

آئینی اعتبار سے صرف سینیٹ کو کسی صدر پر مواخذے کا مقدمہ چلا نے کا

اختیار حاصل ہے، ایوان نمائندگان کی ڈیموکریٹک سپیکر نینسی پلوسی نے سینیٹ

میں مواخذے کی تحریک میں دلائل پیش کرنے کیلئے منیجرز کی جو ٹیم تیار کی

تھی، ان میں وفاقی عدالت میں دعوے دائر کرنیوالے کانگریس مین ایرک سویل ویل

بھی شامل تھے۔ اس مقدمے میں مدعی نے سابق صدر ٹرمپ پر الزام لگایا ہے کہ

کیپٹل ہل کی عمارت کے باہر اور اندر 6 جنوری کو جو فساد برپا ہوا تھا اس کے

لئے انہوں نے مظاہرین کو اکسایا تھا۔ درخواست میں مدعی نے لکھا ہے کہ اس

ہولناک کارروائی پرٹرمپ خوشی مناتے رہے اور اس بات پر پریشانی کا اظہار

کرتے رہے کہ ان کی ٹیم کے دوسرے ارکان ان کی طرح اتنے پرجوش کیوں نہیں

ہیں۔ سابق صدر ٹرمپ کو کسی بھی صدر کی طرح امریکی کمانڈر انچیف کے

طور پر کوئی کارروائی کرنے کو استثنیٰ حاصل ہے لیکن ذاتی حیثیت سے ان کے

کسی عمل پر ان کیخلاف قانو نی کارروائی ہوسکتی ہے۔

=قارئین=: خبر اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

ٹرمپ کیپٹل ہل مقدمہ

Leave a Reply