سینیٹ میں قرارداد نامنظور، سابق امریکی صدر ٹرمپ مواخذے سے بری

سینیٹ میں قرارداد نامنظور، سابق امریکی صدر ٹرمپ مواخذے سے بری

Spread the love

واشنگٹن(جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) ٹرمپ کیخلاف مواخذہ

امریکی سینیٹ نے سابق صدرڈونلڈ ٹرمپ کو مواخذے کے الزام سے بری کر دیا،

سابق صدر پر کیپٹل ہل پر عوام کو حملے کیلئے اکسانے کا الزام تھا، مواخذے کی

قرارداد پر سینیٹ میں ہونیوالی ووٹنگ میں سابق صدر کو مجرم ٹھہرانے کے حق

میں 57 جبکہ مخالفت میں 43ووٹ پڑے جبکہ مواخذے کیلئے قانون کے مطابق

سینیٹ کی دو تہائی اکثریت یعنی 67 ووٹ درکار تھے جو حاصل نہ ہوسکے اور

یوں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مواخذے سے بری قراردیدیا گیا، قبل ازیں سینیٹ

نے گواہوں کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا تھا- ہفتے کی صبح جب استغاثہ اور دفاعی

ٹیم اپنے ابتدائی دلائل مکمل کر چکے تو ڈیموکریٹس نے گواہوں کو طلب کرنے

کیلئے رائے شماری کا مطالبہ کیا جس کے بعد سو ارکان کی سینیٹ میں کل پچاس

ڈیمو کریٹس کیساتھ پانچ ریپبلکن ارکان نے بھی انکا ساتھ دیا اور اس طرح 45 کے

مقابلے پر 55 ارکان کے و وٹوں کی بنیاد پر یہ مطالبہ منظور کر لیا گیا۔

=یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا مواخذہ، ڈیموکریٹس کی پراسیکیوشن ٹیم کے دلائل مکمل

کانگریس کی کوریج کرنیوالے خصوصی رپورٹرز نے خیال ظاہر کیا تھا گواہوں

کی پیشی کی وجہ سے مقدمے کے حتمی فیصلے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ اس سے

قبل سینیٹ میں ودنوں ڈیمو کریٹک اور ریپبلکن ارکان نے اس امر پر اتفاق کیا تھا

کہ مقدمے کا حتمی فیصلہ ایک ہفتے کے اندر کر دیا جائےگا۔ 9 فروری کو ڈیمو

کریٹک پارٹی کے ایوان نمائندگان کے نومنیجر نے سینیٹ میں آ کر استغاثہ کے

طور پر اپنے دلائل کا آغاز کیا تھا جسے انہوں نے 11 فروری کو مکمل کر لیا تھا۔

ٹرمپ کی دفاعی ٹیم نے 12 فروری کو اپنے دلائل پیش کئے اور خلاف توقع اپنے

لئے مخصوص 16 گھنٹے کے وقت میں سے صر ف دو گھنٹے کے بعد اپنے دلائل

ختم کر دیئے۔ اس کے بعد سوالات اور جوابات کا سلسلہ شروع ہوا اور اب گواہوں

کو بھی طلب کر لیا گیا ہے جن کی شہادتوں کے بعد دونوں فریقوں کو حتمی دلائل

پیش کرنے کا ایک اور موقع دیا جائیگا۔ اس کے بعد سینیٹ ارکان مقدمے کی

جیوری کے طور پر اپنا ووٹ ڈالیں گے اور دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی تو ٹرمپ

مجرم قرار پائیں گے، استغاثہ کو اتنے ووٹ نہ مل سکے تو ٹرمپ بری ہو جائیں

گے۔

=قارئین= کاوش پسند آئی ہو گی، فالو کریں اپ ڈیٹ رہیں

سو ارکان کی کل سینیٹ میں ڈیمو کریٹک اور ریپبلکن ارکان کی تعداد برابر یعنی

پچاس پچاس ہے اور دو مرحلوں پر پانچ ارکان نے ڈیمو کریٹک ارکان کا ساتھ دیا

ہے اگر اسے مدنظر رکھا جائے تو توقع ہے مواخذے کے مقدمے میں استغاثہ کو

55 کے قریب ووٹ ملیں گے اور67 ارکان کا مطالبہ دو تہائی ہدف پورا نہ ہو

سکنے کے با عث ٹرمپ بری ہو جائیں گے۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی دفاعی

ٹیم کا کیس کمزور ہے اور گواہوں کی پیشی کے بعد یہ مزید کمزور ہو جائیگا لیکن

پھر بھی ریپبلکن کی اکثریت ٹرمپ کو بچانے کیلئے ووٹ ڈالیں گے۔ سوال و جواب

کے سیشن میں دفاعی ٹیم سے سوال کیا گیا اگر کیپٹل بل پر حملے کو ٹرمپ کی

حمایت حاصل نہیں تھی تو انہوں نے حملے کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی۔

دفاعی ٹیم لاجواب ہو کر اس سوال کو ٹال گئی۔ ایک سینیٹر نے بتایا انہوں نے

حملے کے دوران ٹرمپ کو فون کرکے مدد طلب کی تو ان کا جواب تھا یہ لوگ

میری شکست کو تسلیم نہیں کرتے۔

ٹرمپ کیخلاف مواخذہ

Leave a Reply