ٹرمپ کا مواخذہ

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نومبر میں ہونیوالے وسط مدتی انتخابات میں ڈیمو کرٹیک پارٹی کو ایوان نمائندگان میں تو اکثر یت حاصل ہو گئی لیکن سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی بدستور معمولی اکثریت قائم رکھنے میں کامیاب رہی ، آئندہ سال جنوری میں جب نئی کانگریس کام شروع کرئے گی تو ایوان میں اکثریت حاصل ہونے کے سبب ڈیمو کرٹیک پارٹی اس اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے متعدد اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، ذرائع کا کہنا ہے پارٹی صدر ٹرمپ کیخلاف مواخذے کی تحریک لانے کی بھی تیاری کررہی ہے ، تاہم تحریک کے ایک محرک سابق صدر بل کلنٹن کیخلاف موا خذے کی تحریک کے تجربہ پر غور کر رہے ہیں، کیونکہ ڈیمو کریٹک صدر کلنٹن کیخلاف ریپبلکن تحریک ناکام ہو گئی تھی، اس وقت صدر کلنٹن بچ گئے لیکن مخالف ریپبلکن پارٹی کے لیڈر ایوان کے سپیکر نیو ٹ گنگرچ متاثر ہوئے اور آئندہ الیکشن میں ریپبلکن پارٹی کی نشستیں کم ہو گئیں۔ اسوقت نئی کانگریس میں ڈیمو کریٹک پارٹی کو ایوان نمائندگان میں 232نشستیں حاصل ہیں جبکہ اسے اکثریت حاصل کرنے کیلئے 218 نشستوں کی ضرورت تھی ۔ ریپبلکن پارٹی کی نشستیں کم کر 198 رہ گئی ہیں ۔ سینیٹ میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے ارکان کی 47 سیٹوں کے مقابلے پر ریپبلکن پارٹی کو 53 نشستیں حاصل ہیں ۔ ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل ہونے کا ڈیمو کریٹک پارٹی کو یہ فائدہ ہوا ہے کہ کوئی تحریک صرف ایوان نمائندگان میںشروع ہو سکتی ہے اس کا مطلب یہ ہے ڈیمو کریٹک پارٹی کوئی بھی تحریک شروع کرکے اسے ایوان سے منظور کراسکتی ہے جبکہ ریپبلکن پارٹی اگر تحریک شروع کر ے تو اسے ناکامی ہو سکتی ہے ۔ اگر ڈیمو کریٹک پارٹی صدر ٹرمپ کیخلاف مواخذے کی تحریک ایوان نمائندگان سے منظور کرانے میں کامیاب ہو جا ئے تو اس کے بعد وہ تحریک سینیٹ میں پیش ہو گی جہاں ڈیمو کریٹک پارٹی کی نشستیں کچھ کم ہیں۔ امریکی قانون کے مطابق کانگریس کے ارکان کیلئے ضروری نہیں کہ وہ پارٹی لائن کے مطابق ووٹ دیں۔ اگر ڈیمو کریٹک ارکان اپنی تحریک کے حق میں ٹھوس دلائل پر مخالفوں کومتاثر کرنے میں کامیا ب ہو جاتے ہیں تو پھر وہ پوری کانگریس سے مواخذے کی تحریک منظو کر اکر صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹا سکتے ہیں،یعنی خلاصہ ہے کہ صدر ٹرمپ سے جاں خلاصی کیلئے امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی صلاحیتوں کا امتحان ہوگا ،وہ اس میں کامیاب ہو گئے تو ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہائوس سے رخصتی یقینی ہو جائے دی دریں اثنائ امریکہ کے ایک اہم آزاد قانون دان کن سٹار نے ایک انٹرویو میں مشورہ دیا ہے کہ صدر کیخلاف مواخذے کی بجائے ’’قراردار مذمت‘‘ منظور کرائی جائے اس کا مطلب یہ ہو گا صدر ٹرمپ اپنے عہدے پر رہیں گے لیکن ان کے محمل کو مسترد کردیا جائیگا ۔ مسٹر سٹار نے بیس سال قبل ڈیموکریٹک صدر کلنٹن کیخلاف مواخذے کی تحر یک تیار کرنے میں بھی مدد دی تھی۔ ان کے خیال میں ایسے امریکی صدر کو یوں با آسانی جانے دینے کے بجائے باندھ کر مارا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا.

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply