341

ٹرمپ کا عالمی برادری بالخصوص مسلم دنیا کو ایک اورچیلنج

Spread the love

(تحریر:…..چودھری عاصم ٹیپو ایڈووکیٹ)TIPUASIM@GMAIL.COM

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے متنازعہ اور عالمی امن کوخطرے میں ڈالنے والے

فیصلوں کا سلسلہ رکنے میں نہیں آرہادوسری طرف ٹرمپ کی حمایت میں اسرائیل

بھی عربوں کیخلاف اپنی جارحیت مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے ،امریکی صدر

نے چند روز قبل دفاعی اہمیت کے حامل اسرائیل کے زیر قبضہ شامی علاقے

وادی گولان کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کرکے

مشرق وسطیٰ کے امن پر ایک اور کاری وار کیااورساتھ کہایہ علاقہ اسرائیلی

ریاست کی سکیورٹی و علاقائی استحکام کے حوالے سے انتہائی اہم ہے،اگرچہ

اقوام متحدہ اور پوری عالمی برادری ان علاقوں پر اسرائیل کی بجائے شام کا حق

حاکمیت تسلیم کرتی ہے اور اقوام متحدہ اسرائیل سے ان علاقوں کو خالی کرنے کا

متعدد بار مطالبہ کرچکی ہے،جس پر اس نے 1967ء کی 6روزہ جنگ میں قبضہ

کیاتھا۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر ،کویت ،ترکی سمیت عرب

لیگ نے امریکی صدر کے اس فیصلے کو مسترد اور اس پر نکتہ چینی کرتے

ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ علاقہ زیر قبضہ عرب سرزمین ہے‘‘۔سعودی عرب اور

متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ یہ امن کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔ اس بیان

کی حمایت کرتے ہوئے ایران نے کہا ہے کہ ’’یہ ٹرمپ کی جانب سے لیا جانے

والا اس صدی کا ایک بدترین فیصلہ ہے‘‘۔اس کے خلاف اقوام متحدہ میں جانے کا

اعلان کردیاجس کے بعد شام کی درخواست پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس

طلب کیا گیا ، جس میں گولان ہائٹس پر اسرائیل کا حق حکمرانی تسلیم کرنے کا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ زیر بحث لایا گیا۔

ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپی یونین سے

تعلق رکھنے والے سلامتی کونسل کے ارکان، فرانس، برطانیہ، جرمنی، بیلجئم اور

پولینڈ سمیت امریکہ میں بھی آوازیں اٹھناشرو ع ہوگئی ہیں،اپنے ردعمل میں ان

سب نے کہاکہ وہ جون 1967ء میں زیر قبضہ لیے گئے علاقوں پر اسرائیلی اقتدار

اعلی کو تسلیم نہیں کرتے، جن میں گولان ہائٹس بھی شامل ہے۔بقول اْنکے ’’ضم

کیے جانے کے معاملے کو غیر قانونی طور پر تسلیم کرنے کے اقدام کے سنگین

نتائج برآمد ہونگے اور ساتھ ہی اسکے وسیع علاقائی نتائج بھی نکلیں گے‘‘۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک سابق اہلکار اور امریکی تھنک ٹینک کونسل

برائے خارجہ امور کے صدر رچرڈ ہاس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کایہ اقدام

سکیورٹی کونسل کی قرارداد کے مخالف ہے۔امریکہ کی اسی پشت پناہی پر اسرائیل

نے فلسطینیوں کی طرف سے تل ابیب پر راکٹ فائر کرنے پر غزہ میں 15فضائی

حملے کئے جن میں اسرائیلی طیاروں نے حماس کے دفاتر اور ریڈیو کی عمارت

سمیت کئی اہم بلڈنگز تباہ کردیں۔

گولان کی پہاڑیاں 1200 مربع کلومیٹر پر پھیلی ہیں۔ یہ شامی دارالحکومت دمشق

سے تقریباً 60 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہیں۔ اس علاقے پر تقریباً 30 یہودی

بستیاں قائم ہیں اور ایک اندازے کے مطابق 20 ہزار اسرائیلی اور تقریباً اتنے ہی

شامی لوگ بھی رہتے ہیں۔ شام اور اسرائیل کے درمیان سرحدی اہمیت کیساتھ ساتھ

اس کے ایک جانب لبنان اور دوسری جانب اردن کی سرحد بھی لگتی ہے۔اسرائیل

نے 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ کے آخری مرحلے میں اس علاقے پر قبضہ

کر لیا تھا اور 1973 ء میں شام کی اس پر واپس قبضہ کرنے کی کوشش بھی ناکام

بنانے کے بعد 1981ء میں اس کو یکطرفہ طور پر اپنا علاقہ قرار دیدیا تھا۔گزشتہ

52 سال سے یہ علاقہ عالمی سطح پر متنازعہ ہے ،شام میں اقوام متحدہ کے

خصوصی سفیر گئیر پیڈرسن نے گزشتہ ماہ اپنے بیان میں کہا تھا کہ سلامتی

کونسل اس پر بہت واضح ہے کہ گولان کی پہاڑیاں شامی علاقہ ہے اقوام متحدہ کی

قرارداد کے مطابق یہ شام کی سرحدی سالمیت کا معاملہ ہے۔سلامتی کونسل نے

1974 ء میں اس علاقے میں امن کار فوج تعینات کی، جسے اقوام متحدہ کی ’’ڈس

انگیجمنٹ آبزرور فورس‘ ‘کا نام دیا گیا تھا تاکہ وہ گولان ہائٹس پر شام اور

اسرائیل کے مابین جنگ بندی کی صورت حال کا جائزہ لیتے رہیں ۔اس سرزمین پر

اقوام متحدہ کے 880 سے زائد فوجی اہلکار تعینات ہیں۔

گولان کی پہاڑیوں کو شام اور اسرائیل دونوں ملک ہی خاص اہمیت دیتے ہیں اسکی

اہم وجہ اسکی جغرافیائی اور عسکری اہمیت ہے۔ شام کے جنوب مغرب میں واقع

اس پہاڑی سلسلے سے شامی دارالحکومت دمشق واضح طور پر نظر آتا ہے۔اس

علاقے پر اسرائیل کے قبضہ کے بعد سے اسرائیلی فوج یہاں سے شامی فوج اور

جنگجوؤں پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ یہاں سے شمالی اسرائیل کا علاقہ بھی

دسترس میں ہے اور 1948 ء سے 1967 ء تک جب یہ پہاڑی سلسلہ شام کے زیر

انتظام تھا تو شامی فوج یہاں سے شمالی اسرائیل پر گولہ باری کرتی رہی ہے۔لہٰذا

اس علاقے کا جغرافیائی محل وقوع اسرائیل کو شام کی جانب سے کسی بھی

عسکری حملے کیخلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔عسکری اہمیت کے علاوہ اس بنجر

علاقہ کیلئے پانی بھی ان پہاڑیوں سے بارش کے پانی سے بننے والے ذخیرے

سے حاصل ہوتا ہے جو کہ اسرائیل کیلئے پانی کا تیسرا بڑا ذریعہ ہے۔

شام اپنے ’’تمام ممکنہ دستیاب وسائل‘‘کو استعمال کرتے ہوئے اپنے علاقے کو

واپس لینے کیلئے پختہ عزم رکھتا ہے ،تاہم اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو

کئی بار شامی جنگ میں ایرانی مداخلت کی تنبیہ کرتے آ رہے ہیں۔ نیتن یاہونے

صدر ٹرمپ کے ’’اسرائیل شام میں ایرانی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے‘‘اور

’’اسرائیل نے دمشق میں اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا ہے‘‘جیسے بیانات پر ان کا

شکریہ بھی ادا کیا ۔انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب ایران شام کو پلیٹ

فارم بنا کر اسرائیل کو تباہ کرنا چاہتا ہے، صدر ٹرمپ نے دلیری کیساتھ گولان کی

پہاڑیوں پر اسرائیلی خود مختاری تسلیم کی ہے۔

دورہ واشنگٹن کے دوران امریکہ کی جانب سے باضابطہ طور پر گولان ہائٹس

کو اسرائیلی علاقہ تسلیم کرنے کے اعلامیہ پر دستخط کے موقع پر ٹرمپ اور

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ایک ساتھ نظر آئے۔اسرائیل میں 9 اپریل

کوالیکشن ہورہے ہیں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کوانتخابات میں کرپشن کے متعدد

الزامات کاسامنا ہے ،جس وقت صدر ٹرمپ نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی

حاکمیت تسلیم کرنے سے متعلق ٹویٹ کی اس وقت امریکی وزیر ِخارجہ مائیک

پومپیو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہوکے گھر پر موجود تھے یہ ایک بڑا

سرپرائز تھا۔ یروشلم کے مقدس مقامات کے دورے کے موقع پر مائیک پومپیو اور

نیتن یاہو نے مشترکہ پریس کانفرنس کرنی تھی ،ٹرمپ کے اعلان کے بعد پریس

کانفرنس میںخاصی دیر لگا دی گئی ،بنیامین نیتن یاہوکیلئے الیکشن کے ایسے

ماحول میں یہ ایک بہت بڑی خوشخبری تھی ۔پریس کانفرنس کے موقع پر انکا پہلا

جملہ تھا ’’میں بہت خوش ہوں‘‘۔بنیامین نیتن یاہو اس فیصلے کی ٹائمِنگ سے بہت

خوش ہوئے کیونکہ گولان کی مقبوضہ پہاڑیوں پر اسرائیل کے حق کو تسلیم کرنے

کا معاملہ ٹرمپ انتظامیہ میں کافی عرصے سے زیر غور تھا اور حالیہ مہینوں میں

اسرائیل اہلکار اس کی منظوری کی پر زور کوششیں کر رہے تھے۔

دہائیوں سے امریکہ اور دنیا کے زیادہ تر ممالک گولان پر اسرائیل کے قبضے کو

مسترد کرتے آ رہے تھے ۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج اصول کے مطابق ’’

کوئی ملک کسی علاقے پر قبضے کر کے اسے اپنے پاس نہیں رکھ سکتا بلکہ اس

کا مستقبل مذاکرات سے طے ہوگا‘‘۔صدر ٹرمپ کے فیصلے نے صورتحال کو

یکسر بدل دیاجسکے بعد سب سے پہلے عالمی قوانین پر سوال اٹھے ہیں کہ گولان

کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا حق تسلیم کر کے دراصل مسٹر ٹرمپ علاقے پر اسرائیل

کے قبضے کو تسلیم کر رہے ہیں اس کے بعد دوسرے ممالک کو ایسا کرنے سے

روکنے کا ان کے پاس کیا جواز ہوگا جیسے کہ کریمیا پر روس کا قبضہ وغیرہ ۔

دوسری طرف فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات میں امریکہ اب غیر جانبدار

ثالث نہیں ہو سکتا۔دوسرا یہ کہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ یہ فیصلہ سکیورٹی

وجوہات کی وجہ سے کر رہے یہاں انکا مطلب ایران سے ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اس

بات پر یقین رکھتی ہے کہ ایران اسرائیل کو ہدف بنانے کیلئے شام کا استعمال کر

رہا ہے اور گولان کی پہاڑیاں فرنٹ لائن پر ہیں۔وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے کچھ

اراکان کی یہی دلیل ہے اور اسرائیل بھی یہی دلیل دیتا آیا ہے۔لیکن گولان کی

پہاڑیوں پر اسرائیل کے قبضے کو تسلیم کیے جانے سے حقیقت میں کوئی فرق

نہیں پڑے گاکیونکہ اسرائیل پہلے سے ہی وہاں فوجی قبضہ جمائے ہوئے ہے۔اس

معاملے کو اگر اچھالا جائے تواسرائیل کے ساتھ ایران اور اسکے علاقائی اتحادی

حزب اللہ کے درمیان کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔روس بھی اس ساری صورتحال

سے خوش نہیں ہوگا۔مبصرین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ نے یہ اعلان الیکشن میں

نیتن یاہو کی حمایت میں اضافہ کرنے کے مقصد سے کیا ہے۔ٹرمپ کے اس

فیصلے سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ انکی انتظامیہ امریکی پالیسی اسرائیل کے حق

میں بدل رہی ہے۔ٹرمپ پہلے ہی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر چکے

ہیں ،فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے کام کرنیوالے اقوام متحدہ کے ادارے کی فنڈنگ

بھی کم کر دی ہے۔ انتظامیہ نے فلسطینی اتھارٹی کو ہر طرح کی امداد روک دی

ہے۔دوسری طرف گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی حق کے تسلیم سے غربِ اردن

کے اسرائیل سے الحاق کا مطالبہ بھی زور پکڑ سکتا ہے اور یہ تشویش بے بنیاد

نہیں کیونکہ نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کے ارکان اس الحاق پر زور دے

رہے ہیں۔ خود نیتن یاہو کی سیاسی جماعت میں 29میں سے 28ارکان اس الحاق کی

حمایت کرتے ہوئے دوبارہ الیکشن لڑ رہے ہیں۔بظاہر نیتن یاہو ان 28ارکان میں

شامل نہیں لیکن انہیں اپوزیشن کی جانب سے کرپشن کے الزامات اور سخت

مقابلے کا سامنا ہے اور انہوں نے یہ ظاہر کیا ہے کہ اقتدار میں رہنے کیلئے وہ

کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔

Leave a Reply