0

ٹرمپ کا ربڑ سٹمپ صدرکی جانب سفر

Spread the love

(تجزیہ :جے ٹی این آن لائن )
امریکہ کے صدرڈونلڈ ٹرمپ جو پہلے ہی آئے روزالزامات کی زد میں ہیں اب ان پر نہ صرف ایک ایسا نیا سنسنی خیز الزام لگاہے بلکہ ان کے سابق اٹارنی مائیکل کوہن جنہیں ایک وفاقی عدالت پہلے ہی صدر ٹرمپ کی طرف سے دو فحش اداکارﺅں کا منہ بند کرنے کےلئے تقریباً پونے دو لاکھ ڈالر رقم کی ادائیگی پر سات سال قید اور جرمانے کی قید سناچکی ہے نے اسکی تصدیق بھی کردی ، چند روز قبل وال سٹریٹ جرنل نے اپنی ایک اشاعت میں یہ دھماکہ خیز انکشاف کیا تھا کہ صدر ٹر مپ نے صدارتی انتخابات سے قبل دو انتخابی جائزوں کو اپنے حق میں کرنے کےلئے ا پنے وکیل کے ذریعے رقم ادا کی تھی ۔ یہ رپورٹ شائع ہو نے کے بعد ٹرمپ کے سابق اٹارنی مائیکل کو ہن نے تصدیق کرتے ہوئے کہا انہوں نے ہی یہ جائزے کرنےوالی کمپنی ریڈ فنچ سلوشن کے ما لک جان گا گر کو ابتدائی طور پر پچاس ہزار ڈالر ٹرمپ کی طرف سے ادا کئے تھے لیکن اس کے باوجود جائزہ تبدیل نہیں ہوا، یہ دھاندلی کروا نے کی ہدایت انہیں صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے دی تھی، جن کے وہ ذاتی و کیل تھے اور خفیہ طور پر ان کے مفادات کی نگرانی بھی کر تے تھے۔ انہوں نے اپنے حالیہ ایک پیغام میں لکھا ہے کہ انہیں اس اندھی وفا د ا ر ی پر سخت ندامت ہورہی ہے ،یاد ر ہے مائیکل کوہن کو جن دو فحش اداکارﺅں کا منہ بند کرنے کےلئے رقم کی ادائیگی پر سات سال قید اور جرمانے کی قید ہو چکی ہے ،ان اداکاروں نے الزام لگایا تھا صدر ٹرمپ نے 2016ءمیں ان کےساتھ ہم بستری کی تھی اور صدارتی مہم کے دوران اس حقیقت کے منظر عام پر آنے کے ڈر سے انہیں رقم دی تھی کہ وہ ان معاملات میں خاموش ہی رہیں،اٹارنی کوہن کے ذرائع کے حوالے سے میڈیا میں یہ ر پورٹ سامنے آئی کہ وہ آئندہ ماہ کانگریس کے سامنے دوبارہ شہادت پیش کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
لینی ڈیوس نامی ایک اٹارنی نے جو مائیکل کوہن کو میڈیا کے معاملات پر مشورے دیتے ہیں نے بھی ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا صدر ٹرمپ نے اپنے سابق اٹارنی کوہن کے بارے میں حال ہی میں جو ریمارکس دیئے ہیں وہ شہادت کو تبدیل کرنے کے مترادف ہیںجن کی مجرمانہ تفتیش کرنے کی ضرورت ہے اسلئے کوہین سوچ رہے ہیں کہ کانگریس کو اصل سچ مکمل شکل میں تیار دیا جائے،جبکہ گزشتہ ہفتے مائیکل کوہن نے کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے 7فروری کو پیش ہونے کی حامی بھری تھی۔ ایوان نمائندگان کی ایک کمیٹی نے پہلے ہی تفتیش شروع کردی ہے کیا صدر ٹرمپ نے اپنے اٹارنی کو جھوٹ بولنے کی ہدایت کی تھی۔
کانگریس میں بھی صدر کے مواخذے کی بحث تیز ہوگئی ہے اوراس تازہ بحث کا موضوع یہ ہے کہ کیاصدر ٹرمپ نے نے ماسکو میں ٹرمپ ٹا و ر تعمیر کر نے کے مذاکرات کے بارے میں بھی اٹارنی کوہن کو کانگریس کے سامنے جھوٹ بولنے کی ہدا یت دی تھی یا نہیں ، جبکہ محکمہ انصاف کی طر ف سے مقرر خصوصی تفتیش کار رابرٹ ملر مئی 2017ءسے گزشتہ صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کے حق میں روسی مداخلت کی تفتیش کرنے میں مصروف ہیں ،مسٹر ملر کے سامنے پیش ہوکر اپنے بیان میں ٹارنی کوہن نے بتایا صدر ٹرمپ نے انہیں ہدایت کی تھی وہ ان معلومات کے بار ے میں کانگریس کمیٹیوں کے سامنے شہادت میں غلط بیانی کریں تاکہ ٹرمپ کے ماسکو کےساتھ تعلقات کا درست انداز ہ نہ ہو سکے بلکہ ان تعلقات کو گھٹا کر پیش کیا جائے تاکہ معاملہ دب جائے،اب یہ باتیں بھی ہو رہی ہیں کہ صدر ٹرمپ نے مائیکل کوہن کو کہا وہ اس منصوبے کے خاتمے کی وہ تاریخ بیان کریں جو اصل تاریخ سے بہت پہلے تھی ۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے امریکی صدر کی موجودہ صورتحال حال میں ایسا لگتا ہے کہ ان کی جلد ازجلد چھٹی ہونےوالی ہے یا پھر وہ ربڑ سٹیمپ بن کر رہ جائیں گے کیونکہ کامیاب مواخذے کی صورت میں ان کو ملک آئین و قوانین کے تحت حاصل اختیارات امریکی ایوان نمائندگان اور کانگریس کو منتقل ہو جائیں گے ۔

Leave a Reply