Trump and shah Salman jtnonline1

ٹرمپ بے دید ہو گئے، امریکہ سعودیہ 75 سالہ اسٹریٹیجک معاہدہ خطرے میں

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واشنگٹن،ریاض(جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) ٹرمپ سعودی ولی عہد

سعودی عرب اور روس کے درمیان تیل کی پیداوار، اور قیمتوں کےحوالے سے اختلافات کے دوران، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو، معاملات بہتر نہ بنانے پر سب سے بڑی دھمکی دیئے جانے کا انکشاف ہوا ہے-

——————————————————————————–
یہ بھی پڑھیں: سعودی آئل تنصیبات حملہ، امریکی فضائی دفاعی نظام ناکارہ ہونے کا ثبوت، روس
——————————————————————————–
تیل پیداوار کم نہ کی تو فوج واپس بلا لیں گے، امریکی صدر

تفصیلات کے مطابق، دو اپریل کو امریکی صدر ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان، ہونیوالی ٹیلیفونک گفتگو کی تفصیلات جاری کردی گئی ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر تیل کی پیداوار اور قیمتیں کم نہ کی گئیں، تو وہ سعودی عرب سے اپنی فوج واپس بلالیں گے۔ میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے محمد بن سلمان سے کہا کہ، اگر اوپیک ممالک تیل کی پیداوار کی کمی میں نہیں لاتے، تو وہ قانون دانوں کو، سعودی مملکت سے امریکی افواج کی واپسی، سے روکنے کیلئے قانون منظور کرنے سے نہیں روک سکیں گے۔

سعودی ولی عہد کو ٹیلی فون کیا پیداوار میں کمی کرنے میں کامیاب رہے،

امریکہ کی جانب سے75 سال سے جاری، اس سٹریٹجک معاہدے کے خاتمے کی بات، اس سے قبل کبھی بھی نہیں کی گئی۔ یہ دباؤ تیل کے تاریخی معاہدے پر اثر انداز ہونے کیلیے ڈالا گیا، اور اب اس دھمکی کو وائٹ ہاوس کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے بریفنگ میں شریک امریکی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق، ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کو یہ پیغام، تیل کی پیداوار میں کمی کے اعلان سے 10 دن قبل دیا تھا، اور اس دھمکی کا محمد بن سلمان پر اس حد تک اثر ہوا تھا، کہ انہوں نے کمرے میں موجود تمام افراد کو باہر نکلنے کا حکم دیا تھا، تاکہ وہ رازداری کیساتھ گفتگو کو جاری رکھ سکیں۔

امریکی تیل کی صنعت کو تباہی سے بچانا

ٹرمپ کی ان کوششوں کا مقصد تیل کی گرتی ہوئی، قیمتوں کے بحران کے دوران امریکی تیل کی صنعت کو تباہی سے بچانا ہے، جہاں کورونا وائرس کے سبب دنیا بھر کی معیشتوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ یہاں امریکی صدر کے موقف میں بھی واضح طور پر یوٹرن نظر آرہا ہے، جو ماضی میں تیل کی پیداوار کم کرکے تیل کی قیمتیں بڑھانے پر، تیل کی کمپنیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں، کیونکہ اس کے نتیجے میں، امریکی عوام کو مہنگی توانائی و بجلی خریدنی پڑ رہی تھی۔البتہ اب امریکی صدر خود اوپیک ممالک سے تیل کی پیداوار کم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

امریکی کانگریس کو پابندیاں عائد کرنے سے نہیں روک سکیں گے

ایک سینئر امریکی عہدیدار نےمیڈیا کو بتایا، کہ امریکی انتظامیہ نے سعودی عرب کو بتا دیا ہے، کہ اگر انہوں نے تیل کی پیداوار کم نہ کی تو، وہ امریکی کانگریس کو ان پر پابندیاں عائد کرنے سے نہیں روک سکیں گے، اور اس کے نتیجے میں امریکی افواج کا سعودی عرب سے انخلا یقینی ہے۔

ہم اپنی صنعت کا دفاع کر رہے ہیں، ٹرمپ کی دھمکی پر دلیل

انہوں نے سعودی اور امریکی رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو، کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ، سعودی عرب کو واضح طور پر پیغام میں کہا گیا تھا کہ، ہم اپنی صنعت کا دفاع کر رہے ہیں، جبکہ آپ اسے تباہ کر رہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے سعودی ولی عہد سے کیا کہا، تو ٹرمپ نے جواب دیا، کہ سعودی عرب اور روس کو معاہدے تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے، میں نے سعودی ولی عہد سے ٹیلی فون پر بات کی، اور ہم پیداوار میں کمی کے معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

سعودی حکام ٹرمپ کی دھمکی سے متعلق خبروں پر خاموش

سعودی حکومت کے متعلقہ حکام سے اس سلسلے میں رابطے کی کوشش کی گئی تو، انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، البتہ ایک سعودی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، کہ یہ معاہدہ اوپیک اور تیل پیدا کرنے والے تمام ممالک کی خواہشات کی ترجمانی کرتا ہے۔ انہوں نے امریکی اور سعودی رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو پر، تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا، کہ سعودی عرب، امریکہ اور روس کا اوپیک اور تیل کی پیداوار میں کمی کے معاہدے میں اہم کردار ہے، لیکن معاہدے میں شرکت کرنے والے 23 ممالک کے تعاون کے بغیر یہ ہونا ممکن نہ تھا۔

قارئین : کاوش اچھی لگے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

امریکی صدر کی جانب سے سعودی ولی عہد کو کی گئی کال سے ایک ہفتہ قبل، ریپبلیکن سینیٹرز کیون کریمر اور ڈین سولیوان نے ایک قرارداد پیش کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر سعودی عرب تیل کی پیداوار کم نہیں کرتا، تو سعودی عرب میں موجود امریکی فوجی دستوں، پیٹریاٹ میزائل اور میزائل شکن دفاعی سسٹم کو ہٹا لیا جائے۔

ٹرمپ سعودی ولی عہد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply