ٹرمپ حکومت کو درپیش شٹ ڈاﺅن خاتمے کی امید بندھ گئی

Spread the love

امریکہ میں باقی ماندہ محکموں کے اخراجاتی بلوں کی عدم منظوری کے باعث شٹ ڈاﺅن کا مسئلہ خاصہ پیچیدہ مگر دلچسپ صورت اختیار کرچکا ہے کانگریس کی دونوں جماعتیں ریپبلکن اور ڈیمو کریٹک اب سینیٹ میں سمارٹ گیم کھیلنے میں مصروف ہیں، جبکہ اس سارے تنازعہ میں سینیٹ نے ایک نیا سرگرم کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے ،جمعرات کے روز سینیٹ نے وائٹ ہاﺅس کی پشت پناہی سے پیش ہونےوالے بل اور ایوان نمائندگان سے پہلے سے منظور شدہ بل دونوں کو مسترد کردیا جن میں مختلف شرائط کے تحت باقی ماندہ محکموں کا رواں سال کابجٹ منظور ہونے کے بعد شٹ ڈاﺅن کے خاتمے کا طریقہ تجویز کیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے یہ بل توقع کے مطابق مسترد ہوئے ہیں اور دونوں جماعتوں نے اس کے بعد نیا مفا ہمتی بل لانے کی پہلے سے تیاری کر رکھی تھی۔ سینیٹ کے کل سو ووٹوں میں سے کسی بل کو ساٹھ ووٹ یعنی ساٹھ فیصد تائید حاصل ہونے کی صورت میں اسے صدر ٹرمپ ویٹو نہیں کرسکیں گے۔ ورنہ بل کی منظوری کےلئے 51ووٹ کافی ہوتے ہیں۔ موجودہ جزوی شٹ ڈاﺅن کا آغاز 21دسمبر کو ہوا تھا جب رواں مالی سال کےلئے دوتہائی محکموں کے بجٹ منظور ہونے کے بعد باقی محکموں کے اخراجاتی بل منظور نہ ہونے کی وجہ سے فنڈ میسر نہیں ہوسکا تھا۔ ان محکموں کو چلانے کےلئے باقاعدہ بجٹ منظور ہونے سے پہلے خاص مدت تک عارضی فنڈ فراہم کرنے کےلئے کانگریس قرار داد منظور کرتی رہی جو مدت21دسمبر کو ختم ہوگئی تھی اور اب ان محکموں کے شٹ ڈاﺅن کو 35دن گزر چکے ہیں جس کے باعث آٹھ لاکھ کے قریب وفاقی ملازمین گھر بیٹھ گئے یا بغیر تنخواہ پرکام کررہے ہیں۔ سینیٹ نے جمعرات کے روز جو دو بل مسترد کئے وہ دونوں ایک دوسرے کے متضاد تھے لیکن ایک دو دن میں جو نیا مفاہمتی بل منظور ہو نے کا امکان ہے جسے دونوں جماعتوں کی تائید حاصل ہوگی۔ دلچسپ بات یہ ہے ریپبلکن پارٹی اس بل کی تائید کرے گی جس میں صدر ٹر مپ کی خواہش کے برعکس پانچ ارب ستر کروڑ ڈالر کافنڈ شامل نہیں ہوگا جو وہ جنوبی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کےلئے مطالبہ کررہے تھے۔ سینیٹ نے جمعرات کے روز ایوان نمائندگان کے بل کو44کے مقابلے پر 52ووٹوں سے مسترد کردیا جس میں باقی ماندہ محکموں کو8فروری تک فنڈ فراہم کرنے کی ضمانت شامل تھی، اس کےساتھ ہی سینیٹ وائٹ ہاﺅس کی تائید سے پیش ہونےوالے بل کو 47کے مقابلے پر 50ووٹوں سے مسترد کردیا جس میں جنوبی سرحد پر دیوار کی تعمیر کےلئے پانچ ارب ستر کروڑ ڈالر کی فراہمی شامل تھی، توقع کے مطابق دونوں بل ناکام ہوگئے سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی سربراہ مچ میکانل اور ڈیمو کریٹک لیڈر چک شمر نئے مفاہمتی بل پر بات چیت کررہے ہیں اور اس کی کامیابی کے بارے میں دونوں پر امید ہیں ،دلچسپ بات یہ ہے صدر ٹرمپ کا پیش کردہ بل مسترد ہونے کے باوجود وہ نئے مفاہمتی بل کی مخالفت نہیں کر رہے ۔ انہوں نے ایک زیادہ بیانا ت میں نئے نیا مفاہمتی بل کی مخالفت نہیں کی ۔

Leave a Reply