ٹرمپ انتظامیہ ریاض کو حساس جوہری ٹیکنالوجی دینا چاہتی ہے،ایوان نمائندگان کا انکشاف

Spread the love

واشنگٹن(جے ٹی این آن لائن) ٹرمپ انتظامیہ بغیر کسی معاہدے کے سعودی عرب کو حساس جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ چونکا دینے والا انکشاف امریکی ایوان نمائندگان کی اوور سائٹ کمیٹی کی ایک تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے جومیڈیا میں نمایاں طورپر نشر ہوئی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے اپنی جاری ہونے والی عبوری رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ٹرمپ انتظامیہ کا یہ منصوبہ غیر معمولی اہمیت کاحامل ہے.

حقیقت یہ ہے امریکہ سمیت جوہری ٹیکنالوجی رکھنے والے دیگر ممالک کئی عشروں سے ان ممالک کو ٹیکنالوجی فراہم کرتے رہے ہیں جو اس سے محروم ہیں اور اس کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے.

اخبار کے مطابق جوہری ٹیکنالوجی کا کاروبار خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ اسے حاصل کرنے والے ممالک جوہر ی ہتھیار بنانے کی بنیاد بنا سکتے ہیں

اخبار نے سابق وزیر خارجہ بنری کنجر کی مثال دیتے ہوئے لکھا ہے وہ1974ء میں ایران سے تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے اسے جوہری توانائی دینا چاہتے تھے۔

کانگریس کمیٹی نے مزید انکشاف کیا ہے اگر سعودی عرب کے ساتھ سودا طے پاگیا تو اس سے ایک ایسی کمپنی کو فائدہ پہنچے گا جس کے ساتھ صدر ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرالڈ کشنر کا مفاد وابستہ ہے

رپورٹ میں کہا گیا ہے سعودی عرب کو جوہری ٹیکنالوجی کی فروخت کی کوشش امریکی قانون کی خلاف ورزی ہے .

یادرہے اس وقت واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہا ہے اور دوسری طرف وہ یہی ٹیکنالوجی سعودی عرف کو فراہم کرنے کی کوشش کررہا ہے.

Leave a Reply