157

ٹرمپ ، عمران ملاقات، امریکی صدر کی کشمیر پر پھر ثالثی کی پیشکش

Spread the love

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر مسئلہ

کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان کے

وزیراعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم مودی تیار ہوں گے تو میں ثالثی کے

لیے تیار ہوں، وہ پیر کو وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اہم ملاقات کے بعد

مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے امریکی صدر نے کہا کہ ‘آپ

تیار ہیں لیکن دوسری طرف مودی بھی ثالثی کی پیشکش قبول کرے تو میں تیار

ہوں’۔ٹرمپ نے کشمیر کے حوالے سے کہا کہ ‘یہ بہت پیچیدہ معاملہ ہے جو بہت

عرصے سے چلا آرہا ہے، اگر دونوں چاہتے ہیں تو ثالثی کیلئے تیارہوں، اگر

دونوں لیڈر کہتے ہیں کہ کچھ نکات پر ہم ایک ہیں تو میں بہت اچھا ثالث ہوں گا،

ناکام نہیں ہوں گا’۔انہوں نے کہا کہ ‘میں بہت اچھی مدد کرسکتا ہوں لیکن ضروری

ہے کہ دوسرا فریق بھی راضی ہو۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سابق امریکی صدور نے

پاکستان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا، میں عمران خان اور پاکستان پر مکمل

اعتماد کرتا ہوں۔ صدر ٹرمپ نے کہا میں کشمیر پر اچھا ثالث ثابت ہو سکتا ہوں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سابق امریکی صدور نے پاکستان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں

کیا، میں عمران خان اور پاکستان پر مکمل اعتماد کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ ان تین

دنوں میں بہت سارے ممالک کے سربراہان مجھ سے ملنا چاہتے ہیں لیکن میں

عمران خان سے ملنا چاہتا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میرا عمران خان کے

ساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن شپ ہے، میرے عمران خان اور مودی کے ساتھ اچھے

تعلقات ہیں، میں اپنی پیشکش پر قائم ہوں اور مسئلہ کشمیر پر ثالثی کیلئے تیار ہوں،

میں بہت اچھا ثالث ثابت ہوسکتا ہوں، اگر میری ثالثی سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے تو

میں اس کیلئے تیار ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ کئی معاملات پر بات

چیت جاری ہے، طالبان اور افغانستان کی صورتحال پر گفتگو جاری ہے، پاکستان

سے تجارت اور دیگر امور پر بات ہوگی، پاکستان کے ساتھ امریکہ کی تجارت

بہت کم ہے اس کو مزید بڑھایا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہیوسٹن کے جلسے میں بھارتی وزیر اعظم نے بہت جارحانہ

زبان استعمال کی۔صدر ٹرمپ نے نیوز کانفرنس کے اختتام پر بھی وزیر اعظم

عمران خان کی تعریف کی اور کہا کہ عمران خان عظیم لیڈر ہیں جو ان حالات میں

بھی امن کی بات کر رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ٹرمپ طاقت ور ملک کے

صدر ہیں اور انہیں ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ کشمیر میں مودی کی پالیسی سے

ایک بحران کا آغاز ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں ایک انسانی

المیہ جنم لے چکاہے جسے ختم کرنا ضروری ہے۔ عمران خان نے کہاکہ

افغانستان میں امن واستحکام خطے کی اہم ضرورت ہے۔وزیر اعظم اور صدر

ٹرمپ کی ملاقات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود

قریشی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے امریکی صدر سے دو ٹوک بات کی، وزیر

اعظم نے مسئلہ کشمیر پر امریکہ کو اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے،

وزیر اعظم اور امریکی صدر کے درمیان افغان امن عمل پر بھی بات چیت ہوئی ,

وزیر اعظم نے کہا افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے اور آج بھی مذاکرات کے

لیے ذریعے آگے بڑھا جا سکتا ہے، بھارت صرف امریکہ کی ہی سنے گا اور اب

اس معاملے میں بھارت سے بات کرے اور اگر خطے میں خون خرابے سے بچنا

ہے تو اقوام متحدہ اور امریکہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود

قریشی نے کہا انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ایران کی صورتحال پر بات کی

اور واضح موقف اپنا کہ خطہ کسی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اگر بغیر

سوچے سمجھے کوئی کارروائی کی گئی تو اس کے بھیانک نتائج ہو سکتے ہیں۔

پاکستان نہیں چاہے گا کہ پاک ایران سرحد پر کوئی معاملات خراب ہوں۔وزیر

خارجہ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمران خان پر اعتماد کا اظہار

کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ ایران کے ساتھ معاملات حل کرا سکتے ہیں تو ہم اس

کے لیے تیار ہیں۔ اس لیے وزیر اعظم دورہ امریکہ کے بعد ایرانی سربراہ سے

ملاقات کریں گے۔۔ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات سے پہلے وزیراعظم عمران خان اور

چینی وزیر خارجہ کے درمیان ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، افغان

امن عمل اور خطے کی صورتحال سمیت اہم عالمی امور پر بات کی گئی۔چین کے

وزیر خارجہ کی ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ملیحہ لودھی نے

بھی شرکت کی۔ وزیراعظم عمران خان نے وانگ ڑی کو مقبوضہ کشمیر کی

صورتحال اور اس سے کشمیریوں کو پیش آنے والی اذیت ناک صورتحال سے آگاہ

کیا۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے کوئی ملک اکیلا نہیں

نمٹ سکتا، پوری دنیا کو اس کیلئے مل کر کام کرنا ہو گا، یہی سلسہ جاری رہا تو

قدرتی آفات سے بے گھر افراد میں اضافہ ہو گا، اپیل کرتا ہوں کہ بڑے ممالک

موسمیاتی تبدیلیوں کے مسئلہ کو سنجیدگی سے لیں، اگر انسان کسی بھی چیلنج پر

قابو پانے کا مضبوط تہیہ کر لے تو اسے کامیابی ہوتی ہے۔ ۔ انہوں نے کہا کہ 6

سال پہلے معلوم ہوا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ملکوں میں شامل

ہے، ہمالیہ پر موجود گلیشیئرز بہت تیزی سے پگھل رہے ہیں، حالات کی سنگینی

کا ادراک کرتے ہوئے بلین ٹری سونامی منصوبہ شروع کیا، آئندہ 5 سال میں 5

ارب درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے

کوئی ملک اکیلا نہیں نمٹ سکتا۔ وزیرا عظم نے کہا کہ کاربن کے اخراج کے

حوالہ سے پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، درجہ حرارت اسی تیزی

سے بڑھتے رہے تو ہمیں آفات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا

موسمیاتی تبدیلیوں کو ابھی تک زیادہ سنجیدگی سے نہیں لے رہی، یہی سلسہ جاری

رہا تو قدرتی آفات سے بے گھر افراد میں اضافہ ہو گا جس طرح افغانستان سے

مہاجرین پاکستان آئے ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ بڑے ممالک موسمیاتی تبدیلیوں

کے مسئلہ کو سنجیدگی سے لیں کیونکہ اس سے امیر ممالک بھی متاثر ہو رہے

ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انسان کسی بھی چیلنج پر قابو پانے کا مضبوط تہیہ کر

لے تو اسے کامیابی ہوتی ہے۔وزیراعظم عمرا ن خان سے برطانوی ہم منصب

بورس جانسن سے ملاقات ہوئی،جس میں دوطرفہ تعلقات اور کشمیر ایشو

سرفہرست رہا۔بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی برطانوی وزیراعظم

جانسن سے یہ پہلی ملاقات ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی برطانوی وزیراعظم

بورس جانسن سے روزویلٹ ہوٹل میں ناشتے کی میز پر ملاقات ہوئی۔وزیر اعظم

عمران خان نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور سوئس فیڈریشن کے صدر

سے بھی ملاقاتیں کیں جن میں مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم ، پاک

بھارت کشیدگی سے امن کو لاحق خطرات اور دیگر متعلقہ امور پر تبادلہ خیال کیا

گیا

Leave a Reply