240

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ، جانبدارانہ، جعلی اور متعصبانہ،ڈیٹا جمع کرنیوالا سابق دور میں سفیر رہا، حکومت

Spread the love

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق

اعوان نے پاکستان میں بد عنوانی کے حوالے سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی

رپورٹ کو متعصبانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا ڈیٹا جمع

کرنے والے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنا ضروری ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا

ڈیٹا جمع کرنے والے کو ماضی میں سفیر تعینات کیا گیا اور ہمارا قصور یہ ہے کہ

ہم نے ان کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ

غیرجانبدار نہیں ہے اور اپوزیشن اس رپورٹ پر بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب موڈیز جیسے ادارے پاکستانی کی معاشی بہتری کا دعوی کر

رہے ہیں ایسے میں بد عنوانی کے حوالے سے اس رپورٹ پر صرف ہنسا ہی

جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت اصلاحات کے لیے جدوجہد اور کرپشن کے

خلاف جہاد کر رہی ہے۔ حکومت کرپشن کا سامنا کرنے کے لیے دن رات کوشاں

ہے۔جمعہ کو پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ڈاکٹر فردوس

عاشق اعوان نے کہاکہ جس ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے حوالے سے

میڈیا ، اخبارات ،سول سوسائٹی اور عوام میں ایک مباحثہ چل رہاہے یہ بڑا

ضروری ہے کہ اس ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی اپنی شاخ کا جائزہ لیا جائے جس

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ موجودہ حکومت کے حوالے سے صاف اور

شفاف نہ ہونے کے فتوے دے رہے ہیں، اس ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی اپنی

ٹرانسپرنسی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل

جس ڈیٹا کی بنیاد پر انڈیکس ترتیب دیتی ہے اس کو ترتیب دینے والے افرا د جہاں

سے وہ ڈیٹا اکھٹا کر رہے ہیں ان تمام کاگٹھ جوڑ عوام کے سامنے لانا ضروری

ہے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان چیپٹر کو جو ہیڈ کر رہے تھے ،ان موصوف نے

سابق ادوار میں ن لیگ کی قیادت اور حکومت کو جس طرح پذیرائی بخشی اور ان

کو نوازنے کیلئے اعلی کارکردگی پر سفیر کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ ہمارا

قصور یہ ہے کہ ہم نے ان کے اس عہدے میں توسیع نہیں کی اور وہ اپنے وقت پر

ریٹائر ہو گئے ۔فردوس عاشق اعوان کا کہناتھا کہ دوسری بات یہ ہے کہ اس

رپورٹ کو کون مانے گا جس میں کہا گیا کہ سب سے زیادہ کرپشن مشرف دور

میں ہوئی ، پھر عمران خان کے دور کو زیر بحث لایا گیا اور اس کے بعد پیپلز

پارٹی کا نمبر اور ن لیگ کے دور میں سب سے کم کرپشن ہوئی یہ رپورٹ پڑھ کر

صرف آپ ہنس سکتے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ جن کو پاکستان کی عدالتیں کرپشن کنگز

قرار دے رہی تھیں کرپشن کنگز کے مختلف کارنامے اور سیاہ کاریاں عدالتوں میں

زیر سماعت ہیں ان جماعتوں کو اس رپورٹ میں کلین چٹ دی گئی ہے اس کا

مطلب یہ ہواہے کہ یہ فیئر اور ٹرانسپرنٹ رپورٹ نہیں ہے یہ رپورٹ متعصبانہ

ہے۔ان کا کہناتھا کہ وزیراعظم اس بات پر یقین رکھتے ہیں جو کہ مینڈیٹ پاکستان

کی عوام نے انہیں دیا ہے اس پر من و عن عمل ہوگا اور پاکستان کو صاف شفاف

بنانے کیلئے وہ ہر فورم پر اپنے عمل اور اپنی پالیسی سے جدوجہد کرتے رہیں

گے ، یہ کرپشن زدہ نظام اور اس سے فائدہ حاصل کرنے والوں کا ایک منظم نیٹ

ورک ہے جو ایک دوسرے کو سپورٹ کرتاہے اور ہر جگہ ان کے آلہ کار ہیں جو

ان کی سیاہ کاریوں کو تحفظ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کرپشن اور

کرپٹ عناصر سے نہ کبھی سمجھوتہ کیا اور نہ آئندہ کریں گے کرپشن کنگز

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو اپنے گناہ چھپانے کیلئے آڑکے طور پرا

ستعمال کر رہے ہیں جس میں انہیں مایوسی ہو گی ، موڈیز موجودہ حکومت کے

معاشی اشاریوں میں بہتری کی نہ صرف تائید کر رہے ہیں بلکہ اس کو سراہا بھی

رہے ہیں۔انٹرنیشنل ٹرانپرنسی کی کل کی رپورٹ پر اپوزیشن بغلیں بجا رہی ہے

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن وزیراعظم اور موجودہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہی

ہے وہ جماعت بھی تنقید کر رہی ہے جس کی ایک صوبے میں حکومت ہے وہ

جماعت شائد اپنے آپ کو پاکستان سے الگ تصور کر رہی ہے سندھ میں کرپشن

کی داستان تاریخ میں سنہری الفاظ میں محفوظ ہے ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل کی

کریڈیبلٹی پر تجزیہ کرنا بھی ضروری ہے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی اپنی

ٹرانسپرنسی پر بڑا سوالیہ نشان ہے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل میں ڈیٹا اکٹھا کرنے

والے گٹھ جوڑ کو ایکسپوز کرنا بہت ضروری ہے میڈیا کے بارے میں انہوں نے

ایک سوال کے جواب میں کہاکہ کپیٹل ٹی وی ہو یا کوئی بھی چینل ہو کسی کو حق

نہیں کہ کسی کا حق مارے ایسا لائحہ عمل بنا رہے ہیں کہ مزدور کی مزدوری

پسینہ صاف ہونے سے پہلے ملنی چاہئیے اگر کوئی ادارہ تنخواہ نہیں دیتا تو

ناانصافی کا خاتمہ ہماری ذمہ داری ہوتی ہے کوشش کریں گے حکومت ایسی

ناانصافی پر کوئی قانونی لائحہ عمل بنائے۔صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب فیاض

الحسن چوہان نے کہا ہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر اپوزیشن اور

دیگر عناصر نے بلاوجہ طوفان کھڑا کیا ہوا ہے، حیرانی کی بات ہے کہ

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے ہیڈ عادل گیلانی کو میاں نواز شریف نے اپنے

دور میں وزیراعظم آفس میں بطور معاون خصوصی تعینات کیے رکھا، عادل

گیلانی آل شریف کے ٹکڑوں پر پلتا رہا اسی لیے اسے گزشتہ دورِ حکومت کی

اقربا پروری، کرپشن اور میگا سکینڈلز نظر نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی یہ جعلی رپورٹ دانستہ طور پر ایسے وقت میں جاری

کی گئی ہے جب وزیراعظم پاکستان عمران خان ورلڈ اکنامک فورم میں پاکستان کی

نمائندگی کر رہے ہیں۔ فیاض الحسن چوہان نے مزید کہا کہ رپورٹ کے مندرجات

آپس میں متصادم ہیں۔ ایک طرف تو 153 ارب کی ریکوری پر نیب کی تعریف کی

جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف کرپشن بڑھنے کا انکشاف کیا جا رہا ہے۔ وزیرِ

اطلاعات نے کہا کہ ایسے حالات میں کہ جب ورلڈ بنک اور دیگر بین الاقوامی

مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی پالیسیوں کی تعریف کر رہے ہیں، پاکستان میں

سری لنکا اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کی آمد کی صورت میں انٹرنیشنل کرکٹ کی

واپسی ہو رہی ہے، دنیا پاکستان کو سرمایہ کاری اور سیاحت کے لیے پرکشش مقام

کے طور پر پہچان رہی ہے اور حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں، ٹرانسپرنسی

انٹرنیشنل کی یہ رپورٹ معنی خیز ہے۔معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر

نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان

میں پرانا اور فرسودہ نظام کرپشن کے خلاف فعالیت سے کام نہیں کر سکتا۔اپنے

ایک ویڈیو بیان میں انہوںنے کہاکہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر اپوزیشن

بغلیں بجا رہی ہے،میں اس رپورٹ پر وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔ انہوںنے

کہاکہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل ایک پریشر گروپ ہے جو عملی طور پر کام نہیں کرتا

لیکن تحریک انصاف کی حکومت کرپشن کے خلاف عملی اقدامات کر رہی ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا اپنا تاثر بھی پاکستان کے حوالے

سے زیادہ اچھا نہیں، اس کے سربراہ کو گزشتہ حکومت نے جب سفیر لگایا تو

پاکستان کا انڈیکس بڑا اچھا ہو گیا تھا۔معاون خصوصی برائے احتساب نے کہا کہ

نیب کی فعالیت میں اضافہ ہوا ہے، انسداد بدعنوانی نے دس سال سے زیادہ

ریکوری کی۔ اس کے علاوہ ایف آئی اے کے اندر ادارہ جاتی اصلاحات کی جا

رہی ہیں، اس کے ثمرات جلد عملی طور پر نظر آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ پرانا

فرسودہ نظام کرپشن کے خلاف فعالیت سے کام نہیں کر سکتا، اسی وجہ سے ایف

بی آر میں اصلاحات کی جا رہی ہیں ،نیب قوانین کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے۔

حکومتی رد عمل

اپنا تبصرہ بھیجیں