iraq jtnonline3

ٹارگٹ کلنگ کیخلاف عراقی فورسز کا بغداد سمیت کئی علاقوں میں سرچ آپریشن

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بغداد (جے ٹی این آن لائن انٹرنیشنل نیوز) ٹارگٹ کلنگ عراقی فورسز

عراق میں بالخصوص بغداد اور بصرہ کے صوبوں میں گذشتہ چند ماہ کے

دوران سیاسی و سماجی کارکنوں، صحافیوں اور محققین کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد

وزارت داخلہ کی نگرانی میں بعض اقدامات سامنے آ رہے ہیں۔ جن کا مقصد

قاتلوں کا تعاقب، غیر منضبط ہتھیاروں اور منشیات کے معاملے پر قابو پانا، قبائلی

تنازعات کا حل اور ان مجرموں کی گرفتاری ہے جن کو پکڑنے کے احکامات پر

ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں : عراق میں اچانک خونیں احتجاج، مشرق وسطیٰ اور درپرہ ایجنڈا؟
——————————————————————————————–

میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکورٹی اداروں کے میڈیا سیل نے جاری بیان میں

تصدیق کی کہ سیکورٹی فورسز نے دارالحکومت بغداد کے مشرق میں واقع

الحسینیہ کے علاقے میں سرچ آپریشن کیا۔ اس علاقے میں کچھ عرصہ قبل

تنازعات کے دوران درمیانے اور ہلکے ہتھیاروں کا خطر ناک استعمال دیکھا گیا۔

سرچ آپریشن کے دوران قانون کے مطابق شہریوں سے مختلف نوعیت کا

اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔

آپریشن کا مقصد شہریوں کیخلاف استعمال ہونیوالا غیر منضبط اسلحہ ضبط کرنا

بیان کے مطابق سرچ آپریشن کا دائرہ کار ہر اس علاقے تک پہنچے گا جہاں تنازعات اور لڑائی جھگڑوں میں ہتھیاروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنی سلامتی اور سیکورٹی کی خاطر ہر قسم کا تعاون کریں۔ جنوبی شہر بصرہ میں بھی سیکورٹی آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ بصرہ آپریشنز کے کمانڈر اکرم صدام مدنف کے مطابق آپریشن کا مقصد اس غیر منضبط اسلحے کو برآمد کرنا ہے جو شہریوں کیخلاف استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بصرہ کے جنوبی صوبے میں آپریشن کے سبب کرفیو نہیں لگایا جائے گا۔ البتہ سرچ آپریشن کے مقامات پر جزوی ناکہ بندی کی جائے گی۔

گھروں میں ایک سے زائد ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دینگے، کمانڈر مذف

کمانڈر مدنف نے باور کرایا کہ سیکورٹی فورسز گھروں میں ایک سے زیادہ ہلکے ہتھیار کی اجازت نہیں دیں گی۔ آپریشن 5 روز جاری رہے گا جس کے بعد اس کے نتائج کا جائزہ لینے کے لیے ایک کانفرنس منعقد کی جائے گی۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

ٹارگٹ کلنگ عراقی فورسز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply