128

و زیراعظم کے استعفے کے بغیر حکومت سے مذاکرات نہیں ہو سکتے ،فضل الرحمن

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانافضل

الرحمن نے کہا ہے کہ ہمارے دھرنے کو 126دن کے دھرنے سے قیاس نہ کیا

جائے ،یہ ہمارے پاس مختلف حکمت عملی ہے ہم اپنے کارکنوں کو ایک جگہ بٹھا

کر نہیں تھکائیں گے نئے انتخابات کرانے پر تمام جماعتیں متفق ہیںان ہاوس تبدیلی

کی تجویز میں وزن ہوا تو غور کریں گے و زیراعظم کے استعفے کے بغیر

حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے ۔آزادی مارچ کے سیلاب کو کوئی نہیں

روک سکے گا۔ ان خیالات کا اظہار انھوںنے منگل کو اپنی رہائش گاہ پر نیشنل

پارٹی کے سربراہ میر حاصل بزنجو سے ملاقات کے بعد انکے ہمراہ

مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ ملاقات میں میر طاہر بزنجو,

میر کبیر اور مولانا عبدالغفور حیدری بھی موجود تھے مولانا فضل الرحمان نے

آزادی مارچ کی حمایت پر میر حاصل بزنجو کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تمام

اپوزیشن جماعتیں ایک پیج پر ہیںپی ٹی آئی جعلی مینڈیٹ پر حکومت میں آئی

ہمارے وزیراعظم کو بیرون ملک وزیراعظم والا پروٹوکول نہیں ملتاوزیراعظم نے

کسی عالمی رہنما سے ملاقات کرنی ہو تو آرمی چیف کی انگلی پکڑ کر جاتے

ہیںپوری دنیا کو پیغام دیتا ہوں کہ عمران خان جیسے جعلی وزیراعظم سے

مزاکرات نہ کیے جائیں27 اکتوبر سے مارچ شروع ہو جائے گاہم آزادی مارچ کی

حکمت عملی تیار کررہے ہیںہمارے ساتھ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے

لوگ ہیںہمارے ضلعی رہنماں پر دباو ڈالا جارہا ہیہمارے اراکین کے ساتھ براہ

راست رابطے بند کیے جائیں ۔دوسری طرف جمعیت علماء اسلام (ف) کی کور

کمیٹی کا اجلاس منگل کو مولانا فضل الرحمان کی صدارت میں ان کی رہائش گاہ

پر منعقد ہوا۔ اجلاس میں مولانا عبدالغفور حیدری، اکرم خان درانی، راشد محمود

سومرو، مولانا عطاء الرحمان، مولانا عبدالوسع، ڈاکٹر عتیق الرحمن، مفتی

عبدالشکور، خواجہ مدثر اور مفتی ابرار شریک ہوئے۔ اجلاس میں آزادی مارچ،

ملک کی موجودہ صورتحال اور آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں