0

وکیل یا جج انتقال کرجائیں،تب ہی التوا ملے گا،چیف جسٹس

Spread the love

چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے فوجداری مقدمے میں التوا سے متعلق ریمارکس دیئے ہیں کہ التواء کا فارمولا بہت سخت ہے ،یا تو وکیل انتقال کر جائے یا جج صاحب رحلت فرماجائیں،تب ہی التوا ملے گا۔ جمعرات کو کیس کی سماعت کے دور ان چیف جسٹس نے کہاکہ وکیل جی ایم چوہدری نے عدالت سے التوا مانگا۔ وکیل جی ایم چوہدری نے کہا کہ مجھے رات کو یہ فائل ملی ہے تیاری نہیں کرسکا ،جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ آپ نے رات کو محنت نہیں کی تو دن کو التوا نہیں ملے گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ التوا کا فارمولا بہت سخت ہے۔ یا تو وکیل انتقال کرجائے یا جج صاحب رحلت فرماجائیں،تب ہی التوا ملے گا۔ وکیل صدیق بلوچ نے کہاکہ انتقال اور رحلت کا فرق کیوں ہے،وکیل بھی رحلت فرما سکتا ہے، جس پر چیف جسٹس مسکرا دئیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انگریزی کے محاورے نے یہ تھوڑا فرق پیدا کردیا ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاک ترک سکول کی جانب سے نظر ثانی کیس میں وکیل تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کردی۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں پاک ترک سکول کی جانب سے نظر ثانی کیس میں وکیل تبدیلی درخواست پر سماعت جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے آغاز پر وکیل بابر ستار نے کہاکہ پہلے وکیل وقت کی کمی کے باعث تیاری نہ کرسکے۔وکیل بابر ستار نے کہاکہ ہائیکورٹ میں بھی یہ کیس میں نے کیا تھا۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ پہلا وکیل نالائق تھا یہ کوئی دلیل نہیں۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ آ پکی وجہ سے قانون تبدیل نہیں کرسکتے۔وکیل بابر ستار نے کہاکہ 13 دسمبر کو کیس کو سنا ہی نہیں گیا۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ اب آپ بینچ پر الزام لگا رہے ہیں۔ جب سردار اعجاز صاحب آئیں گے پھر دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔ عدالت نے کہاکہ درخواست میں وکیل تبدیل کرنے کی معقول وجہ نہیں لکھی گئی۔یاد رہے کہ پاک ترک سکول کی جانب سے پہلے سردار اعجاز اسحاق بطور وکیل پیش ہوئے تھے۔

Leave a Reply