Pakistan institute of Cardiology 112

وکلاء نے پی آئی سی کے درو دیوار ہلا دئیے، پولیس ذمہ داری نبھانے میں ناکام

Spread the love

لاہور( جتن آن لائن خصوصی رپورٹ) وکلاء پی آئی سی

وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو پی آئی سی کے واقعہ کی ابتدائی رپورٹ میں شرپسند عناصر کی

کارروائی اور واقعہ کو پولیس کی نااہلی اور وکلاء گردی قرار دے دیا گیا- مزید پڑھیں

کشیدگی میں شرپسند عناصر نے ہاتھ دکھایا

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ وکلاء اور ڈاکٹرز کے درمیان پائی

جانے والی کشیدگی میں شرپسند عناصر نے ہاتھ دکھایا- وکلاء اور ڈاکٹرز کے درمیان پائی جانیوالی کشیدگی کو ختم نہیں کیا جا سکا،

جس میں پولیس اور محکمہ صحت کے حکام نے بھی خاموشی سے کام لیا۔ وکلاء اور ڈاکٹرز کے درمیان پائی جانیوالی کشیدگی تھم نہ

سکی اور اسی وجہ سے وکلاء نے قانون کو ہاتھ میں لیا۔

واقعہ کے حوالے سے سب سے زیادہ محکمہ پولیس کی نااہلی رہی

پورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی آئی سی میں پیش آئے سانحہ میں وکلاء کیساتھ ساتھ شرپسند عناصر نے کشیدگی کو سنگینی کی جانب لے

جانے میں اہم کردارادا کیا۔ ذرائع کے مطابق واقعہ کے حوالے سے سب سے زیادہ محکمہ پولیس کی نااہلی رہی جس کے باعث وکلاء

قانون کو ہاتھ میں لینے پر مجبور ہوئے۔ رپورٹ میں ایس پی ماڈل ٹائون (آپریشن) ڈی ایس پی اچھرہ اور ایس ایچ او شادمان کو نااہلی

کا ذمہ دارٹھہرایا گیا۔ ر%8%1%ػٹ BA9Ռ %88%1%ػہ 868%DCو %4%D88وی %D7%8%س868٧ %AB%7%بف A99%DD%9%م818ن %A8%8%D81%88 %C ی8%C%ۋز ֌ ثی 94Bђ %B9%9 ٺ%م ں
D8A
%09%2%D9Aىب %D ں8%2 ۘ%پB48%DAد %2%D87%88 %A ی8 %9%ھ܅ D89%89 %9%ی8C9ѹ %B8 %8%و B3 ۈ%صAD9%D7ی %E%D91%B8 %8%یAA8%D ھ8%E ڻ%سB49%D لA%6%D97%8A %رس تیار

کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

وکلاء کے امراض قلب کے ہسپتال پی آئی سی پر ایک گھنٹے میں دو حملے

رپورٹ کے مطابق وکلاء نے امراض قلب کے ہسپتال پی آئی سی پر ایک گھنٹے میں دو حملے کئے، وکلاء نے پہلی کارروائی میں پی

آئی سی کے داخلی دروازوں سمیت ایمرجنسی آئی سی یو، آپریشن تھیٹر، اینجیو گرافی ،سی ٹی این جی او کو مکمل طور پر تباہ کردیا-

ڈاکٹروں اور نرسوں کیساتھ ساتھ مریضوں اور لواحقین کو بھی وکلا نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس دوران پولیس کی بھاری نفری موقع پر

پہنچ گئی اور انھوں نے وکلاء کو مین گیٹ کے باہر دھکیل دیا- اس دوران ڈاکٹروں کی پرانی اور نئی قیادت بھی عقبی دروازے سے

وکلاء کے قریب پہنچ گئی مگر پولیس وکلاء اور ڈاکٹروں کے درمیان دیوار بن گئی-

پولیس نے بگڑتی صورتحال کے باعث پسپائی اختیار کی اور مرکزی گیٹ کھول دیا

وکلاء نے ڈاکٹروں کی آمد پر ہوائی فائرنگ شروع کردی، پولیس نے خطرہ بھانپتے ہوئے مین گیٹ کو اندر سے بند کر دیا- مگر

وکلاء کی طرف سے ڈاکٹروں پر اینٹیں پھنکنے کا سلسلہ شروع ہو گیا اور جواب میں ڈاکٹروں نے بھی چار دیواری کے باہر اینٹیں

برسائیں- پولیس نے بگڑتی صورتحال کے باعث پسپائی اختیار کرتے ہوئے مرکزی گیٹ کھول دیا اور دوبارہ سینکڑوں وکلاء پی آئی

سی پرحملہ آور ہوگئے اور پھر انہوں نے پورا ہسپتال تباہ و برباد کر دیا۔ وکلاء نے ہسپتال میں موجود ڈاکٹروں اوردوسرے سٹاف کو

بھی نہ بخشا۔

وکلاء پی آئی سی

Leave a Reply