ووڈ لاٹ پالیسی کے باوجود شانگلہ میں نایاب و قیمتی درختوں کی کٹائی عروج پر

ووڈ لاٹ پالیسی کے باوجود شانگلہ میں نایاب و قیمتی درختوں کی کٹائی عروج پر

Spread the love

پشاور ( آئی آر خان سے ) ووڈ لاٹ پالیسی شانگلہ

Journalist Imran Rasheed

شانگلہ میں محکمہ جنگلات کا مقامی ضرورت کیلئے لوکل کوٹہ بند، جبکہ ووڈ

لاٹ کے تحت نایاب قیمتی درختوں کی کٹائی زور و شورسے جاری ہے، وادی

شانگلہ کے مختلف علاقوں میں قدیم و ناپید درختوں کی کٹائی سے ہری بھری

وادی کو نقصان پہنچ رہا ہے، جہاں درختوں سے ڈھکے ملکیتی پہاڑ بنجر ہو

رہے ہیں، تو وہاں دوسری طرف ان کی خوبصورتی بھی ماند پڑ رہی ہے۔

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

اسی طرح درختوں کی کٹائی سے ماحولیاتی تبدیلی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،

جن میں درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ، سیلابوں کے خطرے سمیت کئی

خطرات لاحق ہیں، جہاں حکومت کی جانب سے جاری کردہ ووڈ لاٹ پالیسی

عوامی حلقوں میں متنازع ہوتی نظرآ رہی ہے۔ ایک طرف حکومت گزشتہ اٹھ

سالوں سے اربوں کھربوں ملک بھر بلخصوص خیبرپختونخوا میں مختلف

پراجیکٹس کے ذریعے جنگلات کے رقبوں میں اضافے کی کوشش میں لگی ہے،

وہاں ووڈ لاٹ کے تحت قدیم درختوں کی کٹائی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ ووڈ

لاٹ پالیسی کے تحت شانگلہ سمیت صوبہ بھر میں درختوں کی کٹائی جاری ہے،

جبکہ شانگلہ میں محکمہ جنگلات نے غریب اور ضرورتمندوں کیلئے لوکل کوٹہ

بند کر دیا ہے، اس حوالے سے ہمارے نمائندے نے ڈویژنل فارسٹ آفیسر الپوری

سے بار بار رابطے کی کوشش کی تاکہ ان کا موقف سامنے آئے، لیکن ان سے

رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔

=–= معیشت و کاروبار سے متعلق مزید خبریں (=–= پڑھیں =–=)

شانگلہ میں آئندہ ماہ اکتوبر سے موسم سرما شروع ہو جائے گا اور اس بالائی

علاقے میں سخت سردی اور برفباری میں جہاں لوگوں کا تمام تر انحصار

لکڑیوں پر ہوتا ہے، محکمہ جنگلات نے اس پر بھی سخت پابندی لگا رکھی ہے

لوکل کوٹہ تک نہیں دیا جا رہا اور بطور ایندھن جلانے کی لکڑیاں بھی نہیں مل

رہیں، اس پر بھی پابندی ہے، جس پر عوامی حلقوں نے شدید برہمی کا اظہار

کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیمتی درختوں کی کٹائی سے وادیاں اپنی خوبصورتی

کھو رہی ہیں جبکہ بلند و بالا قیمتی، ناپید اور قدیم درختوں کی کٹائی سے علاقے

میں پانی سمیت کئی مسائل جنم لے رہے ہیں- قدرتی چشمے سوکھ جائینگے جس

پر حکومت کو فوری نوٹس لینا چاہئے اور ووڈ لاٹ پالیسی کو ختم کر کے ان

کے مالکان کو پابند کیا جائے۔ ملکیتی رقبوں پر کھڑے درختوں کی کٹائی کیلئے

ٹھیکیداروں کو مالکان چھ سے سات سو روپے فٹ دیتے ہیں، جبکہ حکومت کو

ایف ڈی ایف کی مد میں صرف 38 روپے جمع کئے جاتے ہیں، مارکیٹ میں اس

لکڑی کی قیمت 2800 سے تین ہزار تک ہے، جو یہاں کے عوام کیساتھ ظلم ہے

کیونکہ شانگلہ میں گھر، دکانیں و دیگر تعمیرات سمیت ضرورت کیلئے لکڑیوں

پر پابندی عائد ہے، ووڈ لاٹ پالیسی پر مکمل عملدرآمد میں تضاد محکمہ جنگلات

کے اعلیٰ حکام کیلئے باعث فکر ہونا چاہئے، اور ان حکام کو شانگلہ سمیت دیگر

علاقوں میں جاری درختوں کی کٹائی پر شفاف اور غیرجانبدرانہ ٹیم تشکیل دینی

چاہئے تاکہ وہ تحقیقات کر کے حقائق عوام کے سامنے لائیں۔

ووڈ لاٹ پالیسی شانگلہ ، ووڈ لاٹ پالیسی شانگلہ ، ووڈ لاٹ پالیسی شانگلہ
ووڈ لاٹ پالیسی شانگلہ ، ووڈ لاٹ پالیسی شانگلہ ، ووڈ لاٹ پالیسی شانگلہ

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply