وفاقی کابینہ کا 172 افراد کے نام ای سی ایل سے نہ نکالنے، معاملہ جائزہ کمیٹی کو بھیجنے کا فیصلہ

Spread the love

وفاقی حکومت نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کیے گئے 172 افراد کے نام فوری طور پر فہرست سے نہ نکالنے اور انہیں جائزہ کمیٹی کوبھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان کی زیر صد ارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں حکومت نے فوری طور پر 172 افراد کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ای سی ایل میں شامل ہر شخص کا الگ جائزہ لیا جائے گا اور جائزہ مکمل ہونے پر کچھ ناموں کو ای سی ایل سے نکالا جا سکے گا ۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور قانونی ماہرین کی جانب سے وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی۔ سپریم کورٹ کے احکامات پر فہرست ای سی ایل نظر ثانی کمیٹی کو بھجوانے کا فیصلہ ہوا، کمیٹی کی سفارشات کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔فواد چوھدری کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں بد ترین مثال اسحاق ڈار کی ہے جسے سابق وزیراعظم نے فرار کرایا اور وہ آج تک واپس نہیں آئے۔عدالت کو اسحاق ڈار کو فرار کرانے پر شاہد خاقان عباسی کو نوٹس دینا چاہیے تھا۔یاد رہے سپریم کورٹ نے 31 دسمبر جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔چیف جسٹس پاکستان نے وزیرمملکت برائے داخلہ کو ہدایت کی تھی کہ ای سی ایل میں ڈالے گئے ناموں پر نظرثانی کی جائے۔

Leave a Reply