وفاقی کابینہ،16 اداروں کی نجکاری کی منظوری ، بھارت سے تجارت نہ کرنے کی توثیق

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی کابینہ نے 16 قومی اداروں کی نجکاری کی منظوری دیتے ہوئے

بھارت سے تجارت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں سمری کو مسترد کر دیا

گیاہے،کورونا وائرس کے حوالے سے صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے،کابینہ نے ماسک اور

دستانوں کی برآمد پر پابندی عائد کردی،سیکرٹری داخلہ نے چینی مہنگی ہونے سے متعلق کابینہ کو

آگاہ کیا،آٹے سے متعلق کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ ایک ہفتے بعد مل جائے گی،مافیاز کو نشان عبرت

بنائیں گے تاکہ کوئی عوام کا استحصال نہ کرسکے، ڈاکٹر عشرت کی کمیٹی نے 16 وفاقی اداروں کی

نجکاری کی سفارش کی، ڈاکٹر عشر ت کی کمیٹی کی سفارشات منظور کرلی گئی ہیں،چیئرمین

سرمایہ کاری بورڈ کا استعفیٰ منظور ہو گیا ہے ،سرکاری ملازمین کی ہڑتال سے متعلق وزیراعظم کو

بریفنگ دی گئی،وزیراعظم نے چینی ذخیرہ اندوزوں سے متعلق معا ملا ت سامنے لانے کی ہدایت

کی ہے وزیراعظم اداروں میں چھپی کالی بھیٹروں کو بے نقاب کرنے کیلئے لائحہ عمل بنانا چاہتے

ہیں آٹا اور چینی بحران سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے گی وزیراعظم کو

مختلف وزارتوں کے عوامی مفاد کے منصوبوں سے متعلق آگاہ کیا گیا ایم کیو ایم کے تحفظات دور

کردیے گئے ہیں کچھ معاملات پر ایم کیو ایم سے بات چیت جاری ہے ایم کیو ایم جلد دوبارہ کابینہ کا

حصہ ہوگی،پنشن لینے والی بیوہ خاتون کو صرف ایک بار غیر شادی شدہ کا سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہو

گاپنشن لینے والی 60سے سال سے زائد کی بیوہ خاتون کیلئے سرٹیفکیٹ دینے کی پابندی ختم بلوں

کی ادائیگی کے لئے ایک کیلنڈر ترتیب دینے کی ہدایت کی گئی کابینہ نے گزشتہ اجلاسوں میں کیے

گئے فیصلوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا وزیراعظم عمران خان نے چینی بحران پر حتمی تحقیقاتی

رپورٹ جمع نہ کروانے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی

کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں معاشی و سیاسی صورت حال سمیت 11 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔

عمران خان نے چینی بحران پر حتمی تحقیقاتی رپورٹ جمع نہ کروانے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے

متعلقہ حکام کو رپورٹ جمع کرانے کیلیے ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دے دی۔وزیراعظم نے مہنگائی میں

مزید کمی کے لئے اقدامات تیز کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ ارکان مہنگائی میں مزید

کمی کے لئے اقدامات پر خصوصی توجہ دیں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بجلی کے بلوں کے معاملے

پر وزراء نے وزیر پاور ڈویڑن عمر ایوب سے سخت سوالات کیے۔۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں

بجلی کی قیمتوں سے متعلق بریفنگ کے دوران وفاقی وزراء￿ نے وزیر برائے پاور ڈویڑن عمر

ایوب سے سخت سوالات کیے۔وفاقی وزراء￿ نے کہا کہ بجلی بلوں سے متعلق پالیسی سے مطمئن

نہیں،کوئی واضح پالیسی ہونی چاہیے۔اس کے علاوہ اجلاس میں عوامی مفاد سے متعلق امور پر بھی

بریفنگ دی گئی جس دوران وزیراعظم نے عوامی مفاد سے متعلق امور جلد نمٹانے کی ہدایت کی۔

کابینہ اجلاس کے بعد معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کابینہ اجلاس میں کئے گئے

فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم نے ملازمین کے یکساں پے

سکیل کیلئے اقدامات کی ہدایت کر دی ہے ، مسٹر ایل این جی(شاہد خاقان عباسی) نیب یاترا کے بعد

ٹاک شوز میں اپنی کارکردگی کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں،مہنگے معاہدوں کے باعث گیس اور بجلی

کے بھاری بل عوام پر بجلی بن کر گر رہے ہیں،مسلم لیگ (ن) کی حکومت معاشی بحران چھوڑ کر

گئی،انتخابات کی بات کر کے مسلم لیگ (ن) سیاسی کشتی کو سہارا دینا چاہ رہی ہے۔ ڈاکٹر فردوس

عاشق اعوان نے کہا کہ کابینہ اجلاس سے قبل سرکاری ملازمین کی ہڑتال سے متعلق وزیراعظم کو

بریفنگ دی گئی، وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے جامع حکمت عملی طے کی جائے،وزیر

خزانہ احتجاج کرنے والے ملازمین اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر مسئلے کا کوئی حل نکالیں

گے، وزیراعظم نے ملازمین کے یکساں پے سکیل کیلئے اقدامات کی ہدایت کی۔انہوں نے بتایا کہ

کابینہ اجلاس میں 12 نکاتی ایجنڈا پر گفتگو ہوئی، کو رونا وائرس پر کابینہ کو بریفنگ دی گئی، چین

میں موجود طلبا سے متعلق کابینہ کو آگاہ کیا گیا، حکومت عوام کی خدمت پر یقین رکھتی ہے۔فردوس

عاشق اعوان نے کہا کہ چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ کا استعفیٰ منظور کرلیا گیا ہے ،سیکرٹری داخلہ

نے چینی کے حوالے سے کمیٹی کی پیشرفت سے متعلق آگاہ کیا،چینی کے معاملے کی تحقیقات

کرنے والی کمیٹی کو مزید اختیارات کی منظوری دی گئی،آٹے سے متعلق کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ

ایک ہفتے بعد مل جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں چینی سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کو

مزید اختیارات دینے کی منظوری دی گئی ہے،کمیٹی بعض معاملات کی تحقیقات کے لیے ٹیمیں تشکیل

دے سکے گی ،نظام میں موجود کالی بھیڑوں کو بے نقاب کرکے نشان عبرت بنانا چاہتے ہیں ،مافیاز

کو نشان عبرت بنائیں گے تو تاکہ کوئی عوام کا استحصال نہ کرسکے۔انہوں نے کہا کہ ڈی جی ایف

آئی اے نے بتایا کہ چینی کے بارے میں فرانزک رپورٹ ہونا ضروری ہے، وزیراعظم نے ہدایت کی

کہ چینی کے حوالے سے رپورٹ جلد فراہم کی جائے، کابینہ ارکان کی اکثریت کا یہ نکتہ نظر تھا کہ

آٹے چینی کی رپورٹ کو جلد عام کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ توانائی کا بحران ہمیں ورثہ میں ملا

،کوئی معاہدہ موجودہ دور حکومت میں نہیں ہوا ،سابق حکومت کے مہنگے معاہدوں کی قیمت موجودہ

حکومت اور عوام کو ادا کرنا پڑرہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں توانائی کے

معاملہ پر تفصیلی غور ہوگا ، کابینہ کے سامنے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم روڈ میپ رکھا جائے گا ۔

انہوں نے بتایا کہ ڈی جی ایف آئی اے (آج) بدھ کو وزیراعظم سے ملاقات کرکے آٹا چینی بحران

کی تحقیقاتی رپورٹ پر بریفنگ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پنشن وصول کرنے والوں کی سہولت کیلئے

بائیو میٹرک سے جوڑ دیا گیا ہے،کابینہ نے بجلی گیس اور دیگر بلز جمع کروانے کی تاریخ کو

سہل بنانے کا فیصلہ کیا ہے،تمام یوٹیلیٹی بلز ایک ہی تاریخ میں جمع کروانے کا طریقہ کار متعارف

کروایا جائے رہا ہے،موجودہ کابینہ نے ابتک کل 79 فیصلے کئے جس میں سے متعدد پر عملدرآمد

ہوچکا۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے بھارت سے تجارت نہ کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے سمری

کو مسترد کردیا،کابینہ نے ماسک اور دستانوں کی برآمد پر پابندی عائد کردی گئی ہے،مشیر

اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے 16 اداروں کی مکمل نجکاری کی سفارش کی ،کابینہ نے ڈاکٹر

عشر ت کی کمیٹی کی سفارشات منظور کرلی ہیں،مختلف وزارتوں کی جانب اداروں کو ضم کرنے

کی تجویز پیش کی گئی، کابینہ نے نجکاری سے متعلق قوانین کو ازسر نوترتیب دینے کی ہدایت

کی،اسلام آباد میں وفاقی اداروں میں گریڈ 1سے 15تک وفاقی ملازمین کا کوٹہ 50فیصد کرنے کا

فیصلہ کیا گیا،عبدالمجید خان ، ظہیر بیگ کو یوٹیلٹی سٹورز بورڈ کا رکن تعینات کرنے کی منظوری

دی گئی ہے، وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر ملک سے غربت کے خاتمے کے عزم کا اعادہ

کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں غربت کا مقابلہ کرنا ہمارا مشن ہے۔اسلام آباد میں ڈیٹا فار پاکستان

پورٹل کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ‘کوئی بھی

ملک جہاں غریبوں کا سمندر ہو اور تھوڑے سے امیر ہوں وہ ملک کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتا،

مہذب معاشرے کی پہچان غریبوں کے رہن سہن سے ہوتی ہے، پاکستان میں غربت کا مقابلہ کرنا ہمارا

مشن ہے اور حکومت غربت کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔’انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے

اعداد و شمار کو بہتر کرنا اہمیت کا حامل ہے، عوام پر پیسہ خرچ کرتے وقت زمینی حقائق کو مدنظر

نہیں رکھا جاتا، ترقیاتی فنڈز پسماندہ علاقوں میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے، ماضی میں پنجاب کے

ترقیاتی بجٹ کا 55 فیصد بجٹ لاہور پر لگا جس کی وجہ سے دیگر شہر محروم رہے۔’ان کا کہنا تھا

کہ ‘ڈیٹا فار پاکستان اس لیے ضروری ہے کہ ہم لوگوں کو بتائیں گے کہ کہاں پیسا خرچ کرنے کی

ضرورت ہے، اس ڈیٹا سے پتا چلے گا کہ بچیاں کیوں نہیں پڑھ رہیں، کیوں پیچھے رہ گئی ہیں۔’وزیر

اعظم نے کہا کہ ڈیٹا فار پاکستان کی ملک کو بہت ضرورت تھی، فیصلہ سازی اور فنڈز مختص کرنے

میں یہ اعداد و شمار معاون ہوں گے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: