128

وفاقی کابینہ،مریم کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد( سٹاف رپورٹر) وزیراعظم نے بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے

کی ہدایت کردی، وزیراعظم نے کہا کہ آئل ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں کا طریقہ کاردرست

نہیں، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے طریقہ کارپر نظرثانی کی جائے۔وزیر اعظم عمران خان سمیت

متعدد وزرا نے مریم نوا کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کردی میڈیا رپورٹس کے مطابق

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں 12 نکاتی ایجنڈے پر

غور کیا گیا، کابینہ نے 6 نکات کی منظوری دے دی ہے۔اجلاس میں حکومت کی 15ماہ کی کارکردگی

کا جائزہ بھی لیا گیا۔ اجلاس میں وزیر اعظم نے وزارت توانائی سے تفصیلی بریفنگ لی۔ وزیرتوانائی

نے بتایا کہ جب ہم آئے تو سرکلرڈیبٹ میں کس طرح کمی کی۔ جس ریٹ پر بجلی پیدا کی جارہی تھی

اور بجلی خریدی جارہی تھی۔اس میں ٹیرف کا فرق تھا، اس کو دیکھا گیا اور گردشی قرضوں کی رقوم

کو کم کرکے12 ارب پر لایا گیا۔حکومت نے گھریلوصارفین کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کی مد میں

ریلیف دینے کیلئے اب تک 242 ارب کی سبسڈی دی ہے۔ صنعت کو کھڑا کرنے کیلئے 29 ارب کی

سبسڈی دی گئی۔ زرعی شعبے کو 100ارب کی سبسڈی دی جارہی ہے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ اس سبسڈی

میں ہمارے گھریلوصارفین کیلئے 45ارب کا مزید اضافہ کیا گیا ہے۔وزیراعظم نے لائن لاسز کم

کرنے پر ٹیم کو مبارکباد دی۔منسٹری آئل اینڈ گیس نے بتایا کہ گیس اور پٹرول کے شعبے میں حکومت

کو 181ارب کا خسارہ ورثے میں ملا۔ وزیراعظم نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے طریقہ کار کو

تبدیل کرنے کی ہدایت کردی۔وزیراعظم نے ہدایت کی سردیوں میں گیس کی سپلائی بحال رکھی جائے۔

گیس کی مد میں 19 ارب کی سبسڈی دی گئی۔اگلے سال گیس میٹرز بنانے کا کارخانہ فعال بنایا جائے

گا۔ کابینہ میں قانون سازی کے عمل پر بھی بات چیت کی گئی۔ ایسا قانون لایا جائے کہ وہ لوگ جو

سزیافتہ ہیں ، اور کرپشن کیسز میں سزائیں پانے کے بعد وکٹری کے نشان بنا کرمیڈیا کی زینت بنتے

ہیں۔جو لوگ پاکستان کو مطلوب ہیں وہ میڈیا پر آکر انٹرویو دیتے ہیں اور بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان

کے قوانین کا مذاق اڑاتے ہیں۔وزیرقانون کو قانون سازی کے حوالے سے ٹاسک دیا گیا ہے، معاشرے

میں سچ اور جھوٹ کا فرق کرنا ہوگا۔چورڈاکو قوم کے ساتھ ناانصافی کرنے والے افرادمسیحا کی

صورت میں میڈیا کی زینت بنیں گے تو معاشرہ ٹھیک نہیں ہوگا۔اجلاس میں وزیراعظم عمران خان

اورمتعدد وزراء￿ نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کردی۔وزیراعظم عمران

خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعظم کی معاون

خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں 12 نکات پیش کیے گئے تھے جس

میں سے 6 منظور ہوئے۔ اجلاس میں حکومت کی 15 ماہ کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔انہوں نے

کہا کہ وفاقی کابینہ نے بجلی کے 300 یونٹ تک کے صارفین کو 242 ارب روپے کی سبسڈی جبکہ

زرعی شعبے کو 100 ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا۔ عوامی مسائل کے حل کے لیے

رکاوٹوں کو بھی دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ عوام کو

ریلیف دینے کے اقدامات کو باریک بینی سے دیکھا گیا جبکہ وزارت پانی و بجلی نے لائن لاسسز کو

کم کیا ہے۔ حکومت گردشی قرضہ کم کر کے 12 ارب روپے تک لے آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سزا

یافتہ مجرموں سے متعلق قانون سازی پر غور کر رہے ہیں۔ جھوٹ اور سچ میں جب تک تفریق نہیں

ہوتی معاشرہ ا آگے نہیں بڑھ سکتا۔ کابینہ اجلاس میں ہیلتھ ریفارمز پروگرام سے متعلق بھی جائزہ لیا

گیا۔معاون خصوصی نے کہا کہ آئل، گیس اور پیٹرول کے شعبوں میں 181 ارب روپے کا خسارہ ہوا

ہے جبکہ سکوک بانڈ پر کابینہ نے تحفظات کا اظہار کیا، بجلی چوری روکنے کے لیے جدید

ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی تجویز دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ معاون خصوصی برائے صحت کی

اسپتالوں سے متعلق سمری کو منظور کیا گیا، ورکر ویلفیئر فنڈ بورڈ کی تنظیم نو کی منظوری دی

گئی۔ فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں فوڈ لاز پر کمیٹی بنائی گئی

ہے، فوڈ اتھارٹی اور فوڈ لاز کے درمیان فاصلہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ کمیٹی ایک میکانزم بنائے گی

اور پالیسی کابینہ میں پیش کرے گی، وزیر اعظم نے کابینہ ارکان کو باور کرایا کہ عوام کی ان سے

کیا توقعات ہیں۔ انہوںنے کہاکہ گلے سڑے نظام نے عوام کو جکڑے رکھا، عوام کو ریفارمز کے

ذریعے ریلیف دیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ سابقہ ادوار میں اصل قیمتیں پاس نہیں کی گئیں، سابقہ

حکومتیں اصل قیمتیں دبا کر ریلیف دیتی رہیں۔ انہوںنے کہاکہ اب اصل قیمتیں بڑھی ہیں تو اچانک

عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ پارلیمنٹ کی اصل ذمہ داری

قانون سازی ہے، اگر ماضی میں قانون سازی کرائی جاتی تو ہمیں آرڈیننس پاس کرانے کی ضرورت

نہ پڑتی؎ انہوںنے کہاکہ کسی شخص کی کمر میں درد ہوتی ہے تو وہ چاہتے ہیں جب تک اجلاس ہے

اسمبلی میں رہیں۔

وفاقی کابینہ

Leave a Reply