Pakistan International Airlines Plane 87

وطن واپسی کے منتظر پاکستانیوں کی مشکلات کے ازالے کافیصلہ

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے بیرون ملک مقیم

پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرنا ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل

ہے ، پاکستانی سفارتخانے، آگے بڑھ کر جذبہ حب الوطنی کے تحت اس کٹھن گھڑی میں پاکستانی

کمیونٹی کی معاونت کر رہے ہیں، انہوں نے تمام پاکستانی سفار تخا نوں کواوورسیز پاکستانیوں کو

درپیش مشکلات اور مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایات دیں۔ جمعرات کووزیر خارجہ

مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں قائم “ایمرجنسی کرایسز مینجمنٹ سیل”

کا اجلاس ہوا، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، اسپیشل سیکرٹری معظم علی خان، ترجمان وزارت

خارجہ مس عائشہ فاروقی اور وزارت خارجہ کے سینئر حکام کی اجلاس میں شرکت کی، عالمی

وبائی چیلنج کے پیش نظر، دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں کو درپیش مشکلات اور مختلف بین

الاقوامی ایئرپورٹس پر، وطن واپسی کے منتظر پاکستانیوں کی جلد وطن واپسی کیلئے مختلف

پہلوؤں پر غوروخوض کیا گیا، دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارتخانوں کے ذریعے ،کرایسز

مینجمنٹ سیل میں موصول ہونیوالی پاکستانی کمیونٹی کی شکایات ،مشکلا ت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا

گیا، سعودی عرب اور ایران میں موجود زائرین کی مرحلہ وار جلد واپسی کے طریقہ کار پر بھی

تفصیلی مشاورت کی گئی، مختلف ممالک میں واپسی کے منتظر پاکستانیو ں کو خصوصی پروازوں

کے ذریعے واپس لانے کے آپشن کو بھی زیر غور لایا گیا۔ بعدازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

نے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ یہ وقت ایک دوسرے

سے گلے شکوے کرنے کا نہیں ، کرونا سے مقابلے کا ہے،پارلیمانی پارٹیوں کو کرونا وائرس کے

حوالے سے اپنے اقدامات سے آگاہ کرنا چاہتے تھے، سیاسی رہنما کرونا سے متعلق بات کو جاری

رکھیں، وزیر اعظم ہماری درخواست پر پارلیمانی رہنمائوں کے اجلاس میں شریک ہوئے ۔بدھ کے

روز منعقد ہونیوالے پارلیمانی اجلاس کو وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر سپیکر نے بلایا،وزیر

اعظم چاہتے تھے کرونا کیخلاف مشترکہ لائحہ عمل کیلئے تمام پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت کی

جائے کیونکہ یہ سوشل آئسولیش کا زمانہ ہے ،احتیاطی اور حفاظتی اقدامات پر اعتماد میں لیا جائے،

پارلیمانی رہنماؤں کا یہ اجلاس پونے چار گھنٹے جاری رہا ، حکومت نے تفصیلی بریفنگ دی ،ہم نے

سب رہنماؤں کی آ ر ا ء کو سنا اور میں نے خود ان کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کو نوٹ

کیا اور اجلاس کے اختتام پر ان کا جواب بھی دیا۔ وزارت خارجہ میں اس بات پر مشاورت زیر

غور ہے کہ دنیا کو غریب ممالک کے قرضوں کی ادائیگیوں میں سہولت فراہم کی جائے اس ضمن

میں ایک قرارداد اقوام متحدہ میں پیش کریں تاکہ جنرل اسمبلی کے تمام اراکین اس معاملے کو زیر

بحث لائیں کہ کس طرح ترقی پذیر ممالک جو اس وقت بہت سی معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں

ان کے قرضوں کو موخر، وسائل عالمی چیلنج سے نمٹنے کیلئے استعمال میں لائے جا سکیں، انہوںنے

کہاکہ ہمیں سپلائی چین کو معطل ہونے سے بچانا ہے تا کہ اشیاء ضروریہ کی قلت نہ ہو۔

Leave a Reply