106

وزیر اعلیٰ پنجاب کی 24گھنٹوں میں وزیر اعظم سے دوسری ملاقات،صوبے میں تبالوں کی لمبی فہرست تیار

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ پنجاب سردار

عثمان بزدار نے 24 گھنٹے میں دوسری ملاقات کی، صوبے میں انتظامی تبدیلیوں

کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں پنجاب کی سیاسی صورتحال پر

بھی غور ہوا۔یاد رہے تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس اور وزیراعظم

سے گزشتہ روز وزیراعلی پنجاب کی ملاقات میں صوبے میں انتظامی تبدیلیوں کا

معاملہ زیر غور آیا۔پارٹی کی کور کمیٹی اور ارکان پنجاب اسمبلی بیورو کریسی

کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں، پنجاب میں اہم تبدیلیوں کے لئے

وزیراعلی کی مشاورت حتمی مرحلے میں داخل ہوگئی۔ وزیراعلی گزشتہ 15 روز

میں ارکان اسمبلی سے ملاقاتیں کرچکے ہیں۔ارکان پنجاب اسمبلی نے وزیر اعلی

پنجاب سے ملاقات میں بیور و کریسی کے خلاف شکایات کیں۔ ارکان کا کہنا تھا کہ

بیورو کریسی عوام کے مسائل کے حل کے لئے تعاون نہیں کر رہی۔نمائندہ

خصوسی کے وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو ایک

مرتبہ پھر صوبہ پنجاب کی گورنینس کو بہتر بنانے اور بالخصوص مہنگائی کی

روک تھام کے لئے تمام تر فیصلوں کا مکمل اختیار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس

مقصد کے لئے جو بھی سٹیپ لینا چاہتے ہیں وہ لیں۔ میں اور وزیر اعظم

سیکرٹریٹ اس سلسلے میں پوری طرح سے ان کے ساتھ ہیں مگر مجھے ہر قیمت

پر صوبہ پنجاب میں رزلٹ چاہئے وزیر اعظم عمران خان کی وزیر اعلی کو ہدائت

۔پی ٹی آئی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے وزیر

اعلی پنجاب سے کہا گیا ہے کہ وہ صوبہ میں جو بھی انتظامی تبدیلیاں کرنا چاہتے

ہیں وہ کریں اگر کوئی پارٹی کی طرف سے یا پھر پنجاب کا بینہ کے ارکان کی

طرف سے ان پر کوئی سیاسی دبائو ڈالتا ہے کہ وہ کسی بھی افسر کو ان کی

مرضی کے ساتھ لگا دیں تو اس حوالے سے بھی وزیر اعلی کسی بھی بات کو

خاطر میں نہ لائیں اور اس سلسلے میں وہ مکمل بااختیار ہیں جو بھی کرنا چاہتے

ہیں کر لیں مگر اب مجھے رزلٹ چاہئے اور وہ لوگ جو صوبہ پنجاب کی گذ

گورنینس کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ان کے خلاف کاروائی عمل میں لا کر

وزیراعظم سیکرٹریٹ کو آگاہ رکھا جائے ،ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی جانب

سے مکمل آشیر باد ملنے کے بعد وزیر اعلی پنجاب عثما ن بزدار نے پنجاب کی

بیورو کریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ بچھاڑ کرنے کی ایک لمبی فہرست مرتب

کر لی ہے جس کے مطابق بڑے پیمانے پر ڈی سی اوز اور کمشنرز کے تبادلے

کئے جائیں گے تاکہ وہ پنجاب بھر کے اضلاع میں پرائس کنٹرول کمٹیوں کو

متحرک کرکے گراں فروشوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت سے

سخت کاروائی عمل میں لائیں ۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان

کی طرف سے وزیر اعلی پنجاب پر واضح کردیا گیا ہے کہ اب اس کے بعد ان کو

کوئی بھی رعائت نہیں دی جائے گی اور اگلی میٹنگ میں ان کی طرف سے یہ بات

بھی تسلیم نہیں کی جائے گی کہ ان کے کام کرنے کی راہ میں بیورو کریسی مبینہ

طور پر رکاوٹیں ڈال رہی ہے ۔

Leave a Reply