75

وزیر اعظم کا آٹا، چینی بحران پر ایکشن، کابینہ میں ردوبدل

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) آٹا و چینی بحران کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے، کابینہ میں ردو بدل کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک اور تحقیق خسرو بختیار کا قلمدان تبدیل کردیا ،جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا استعفیٰ بالاآخر منظور کرلیا۔وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک اور تحقیق خسرو بختیار کا قلمدان تبدیل کرتے ہوئے انہیں وزارت اقتصادی امور دیدی گئی ہے، جبکہ ان کی جگہ فخر امام کو وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک و تحقیق بنایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی کا استعفیٰ بھی قبول کرلیا ہے، تا ہم ایم کیو ایم کے امین الحق کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے ،جنہیں وفاقی وزیر برائے ٹیلی کام مقرر کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر حماد اظہر کو وزارت صنعت کا قلمدان دیا گیا ہے، اس سے قبل وہ اقتصادی امور کے وزیر تھے، جبکہ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور سینیٹر اعظم سواتی کو نارکوٹکس کنٹرول کا قلمدان دیا گیا ہے۔وزیراعظم ہاؤس کے اعلامیے کے مطابق بابر اعوان وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور ہوں گے، جبکہ مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ محمد شہزاد ارباب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سیکرٹری وزارت تحفظ خوراک و تحقیق ہاشم پوپلزئی کو ہٹاتے ہوئے عمر حمید کو ان کی جگہ تعینات کیا گیا ہے۔

اسی طرح تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو زرعی ٹاسک فورس کے سربراہ کے عہدہ سے ہٹاد یا گیا۔ دوسری طرف ایک نجی نیوز چینل کے مطابق مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد سے وزارت صنعت کا قلمدان واپس لینے سمیت شوگر ایڈوائزری بورڈ کی سربراہی سے بھی ہٹادیاگیا ۔ ذرا ئع کے مطابق عبد الرزاق داؤد کو چینی کی برآمد کی اجازت دینے اور مقامی مارکیٹ میں قیمت میں اضافہ نہ روکنے پر ہٹایا گیا ،تاہم انھیں مشیر تجارت اور سرمایہ کاری کے عہدے پر برقرار رکھا گیا ۔آٹا چینی بحران پر تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ بحران میں سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں جہانگیر ترین ہیں اور انہوں نے چینی پر سبسڈی کی مدد میں 56 کروڑ روپے کمائے،

ذرائع کا کہنا ہے 25 اپریل کو انکوائری کمیٹی کی حتمی رپورٹ آ نے کے بعد ذمہ دران کیخلاف مزید کارروائی کی جائے گی۔ چینی بحران پر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کی ٹیم کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ میں میں کئی نامور سیاسی خاندانوں کے نام شامل ہیں، اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی کے بحران میں سب سے زیادہ فائدہ حکومتی جماعت تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا، جبکہ وفاقی وزیر خسرو بختیار کے رشتہ دار نے آٹا و چینی بحران سے 45 کروڑ روپے کمائے، اور حکمران اتحاد میں شامل مونس الٰہی کی کمپنیاں بھی فائدہ اٹھانے میں شامل رہیں۔

Leave a Reply