دنیا کے پاس طالبان حکومت تسلیم کرنے کے سواء کوئی راستہ نہیں، عمران خان

دنیا کے پاس طالبان حکومت تسلیم کرنے کے سواء کوئی راستہ نہیں، عمران خان

Spread the love

دوشنبے (جے ٹی این نیوز) وزیر اعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان کو اس کے حال پر چھوڑا نہیں

جا سکتا، افغانستان کو تنہا چھوڑا گیا تو مختلف بحران ایک ساتھ جنم لیں گے،

پاکستان، افغانستان کی خود مختاری کا احترام کرتا ہے اور وہاں امن کا خواہاں

ہے، افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت آ چکی ہے، افغانستان کی حقیقت

دنیا کو تسلیم کرنا ہو گی، موسمیاتی تبدیلی دنیا کیلئے بڑا چیلنج ہے، خطے پر

عالمی حدت، ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات مرتب ہوئے، پاکستان میں ہم نے

بہتر ماحول کے فروغ کے لیے شجرکاری مہم شروع کی، بھارت نے مقبوضہ

کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کر دی، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں

کے مطابق حل کیا جائے۔ دنیا کے پاس طالبان حکومت تسلیم کرنے کے سواء

کوئی راستہ نہیں-

=-= دنیا بھر سے مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

وزیر اعظم عمران خان
دوشنبے، وزیراعظم عمران خان اور شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان کا گروپ فوٹو
————————————————————————————–

تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں وزیراعظم عمران خان نے شنگھائی

تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا افغان عوام کو

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ضرورت ہے، افغانستان ایسا ملک ہے جس

میں کوئی باہرسے حکمرانی نہیں کر سکتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ دنیا کا

افغانستان کیساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہے، پچھلی افغان حکومت 75 فیصد غیر

ملکی امداد پر چل رہی تھی، افغانستان کی موجودہ صورتحال میں عالمی تعاون

کی ضرورت ہے۔ طالبان کو سیاسی استحکام کیساتھ افغان عوام کا بھروسہ جیتنا

ہو گا، افغانستان میں ایسا سیاسی ڈھانچہ ہو جسمیں تمام افغان گروپوں کی نمائندگی

ہو، پاکستان سمجھتا ہے افغان عوام اپنے فیصلے خود کریں جبکہ پاکستان پر امن

افغانستان کا خواہاں ہے، پاکستان افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے،

افغانستان کوتنہا چھوڑا تو مختلف بحران ایک ساتھ جنم لیں گے۔

=-= پاکستان سے متعلق مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہے،

افغانستان کو اپنے حال پر نہیں چھوڑا جا سکتا، عالمی برادری کو افغانستان کے

ساتھ کھڑا ہونا ہو گا، افغانستان کی حقیقت دنیا کو تسلیم کرنا ہوگی۔ وزیراعظم

عمران خان نے کہا ہم نے افغانستان کے حوالے سے ہمیشہ یکساں موقف رکھا،

افغانستان کا مسئلہ ہم سب کو مل کرحل کرنا ہو گا، پاکستان نے دہشت گردی کے

خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا، 80 ہزار سے زاائد انسانی جانوں کی قربانی

دی، معیشت کو نقصان پہنچا۔ تاجکستان کے ساتھ دیرینہ اوربرادرانہ تعلقات ہیں،

شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کی میزبانی پر تاجک صدرکے مشکورہیں، تجارت،

سرمایہ کاری، روابط کے فروغ کیلئے تنظیم اہم پلیٹ فارم ہے۔ وزیراعظم نے کہا

کہ کرونا سے پوری دنیا کی معیشتیں متاثرہوئیں، خطے کو کئی چیلنجزکا سامنا

ہے، ہمیں مل کر مسائل سے نمٹنا ہے، کرونا میں صحت کیساتھ معاشی صورتحال

پر بھی نظررکھنی ہے، دنیا کا ہیلتھ سیکٹر کرونا صورتحال میں مقابلہ نہیں کر

سکتا۔ دنیا کو دوسرا بڑا چیلنج ماحولیاتی آلودگی کا ہے، اس کے خاتمے کیلئے ہم

نے شجرکاری مہم شروع کی، دنیا کے مختلف خطے پرعالمی حدت و ماحولیاتی

تبدیلی کے منفی اثرات مرتب ہوئے۔

=-.-= وزیراعظم عمران خان اور چینی وزیر خارجہ کی دوشنبے میں ملاقات

وزیراعظم عمران خان اور چینی وزیر خارجہ کی دوشنبے میں ملاقات ہوئی، اس

موقع پر انکا کہنا تھا بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی،

مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ دونوں رہنماؤں

کے درمیان شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ہونیوالی اس

غیر رسمی ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر بھی گفتگو

ہوئی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

جبکہ تاجک صدر امام علی رحمان سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس

سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تین دہشتگرد گروپ

اب بھی افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال کر رہے ہیں، طالبان کو سیاسی

استحکام کیساتھ افغان عوام کا بھروسہ جیتنا ہو گا۔ پچھلی افغان حکومت 75 فیصد

غیر ملکی امداد پر چل رہی تھی، آج افغان عوام کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر

امداد کی ضرورت ہے، وزیراعظم عمران خان نے کہا وہ شنگھائی تعاون تنظیم

کے کامیاب انعقاد پر تاجک صدر اور ان کے ملک کو مبارکباد دیتے ہیں۔

=-،-= پاکستان تاجکستان میں دوطرفہ تعلقات میں مزید استحکام پر اتفاق

وزیراعظم نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ اور افغان

صورتحال سمیت مختلف ایشوز سے متعلق بات چیت ہوئی۔ ہم نے اس بات کا

جائزہ لیا کہ افغانستان میں امن کیسے ممکن ہے۔ عمران خان نے کہا کہ افغانستان

میں 40 سال سے جنگ جاری تھی جس سے افغان عوام متاثر ہوئی، افغانستان میں

امن و استحکام نا صرف پاکستان و تاجکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔

پنج شیر میں تاجک اور طالبان کے درمیان معاملے کے پرامن حل کیلئے ثالثی پر

بات ہوئی، پنج شیر معاملے کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے۔ افغان تاریخ میں

یہ فیصلہ کن گھڑی ہے، افغانستان میں خطرات بڑھ بھی سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے

دنیا میں دہشتگردی کو مذہب سے جوڑا جاتا ہے، دریں اثنا پاکستان اور تاجکستان

نے دوطرفہ اور ٹرانزٹ تجارت کے لئے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر، راہداریوں

میں باہمی مفید تعاون کو مستحکم بنانے اور متعلقہ ممالک سے سامان کی نقل و

حمل کیلئے سازگار حالات پیدا کرنے، تجارت میں اضافے اور دو طرفہ تعلقات

کو طویل مدتی تذویراتی شراکت داری کی سطح پر فروغ دینے پر اتفاق کیا-

=-،-= امریکہ طالبان حکومت تسلیم کرے ورنہ مسائل بڑھیں گے، وزیراعظم

روسی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ نے طالبان

حکومت کو تسلیم نہ کیا تو مسائل بڑھیں گے، دنیا کے پاس کوئی راستہ نہیں۔

امریکہ کی طرف سے طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرنے سے مسائل بڑھیں گے۔

افغان طالبان کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ پورے خطے کیلئے اس وقت افغانستان

سب سے اہم موضوع ہے، افغانستان اس وقت تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔

پاکستان افغانستان میں امن کا خواہشمند ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے خلاف ایک

پروپیگنڈا مہم شروع کی گئی ہے۔ 22 کروڑ عوام کیلئے پاکستان کا ٹوٹل بجٹ 50

ارب ڈالر ہے۔ یہ کیسے ہوا کہ 3 لاکھ افغان فوج لڑی ہی نہیں، کیا پاکستان نے

انہیں لڑنے سے منع کیا تھا۔ پاکستان کے نقطہ نظر سے افغان سرزمین سے

دہشتگردی کا بھی خطرہ ہے۔ انخلاء سے دو ہفتے قبل افغان آرمی ہتھیار ڈال دیتی

ہے، افغانستان میں امن و استحکام کی واحد صورت مشترکہ حکومت ہے، بیرونی

طاقتوں کیخلاف جنگ کو افغان عوام جہاد سمجھتے ہیں، طالبان نے 20 سال میں

بہت کچھ سیکھا، ہمارے وزیر خارجہ کی امریکی وزیر خارجہ سے بات ہوئی

ہے۔ تمام ہمسایوں ملک کیساتھ ملکر کام کر رہے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے

طالبان حکومت کو تسلیم کیے جانے سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا، اس وقت

امریکہ کی افغانستان کے معاملے پر ایک مربوط پالیسی ہے یا نہیں، اس پر کچھ

نہیں کہہ سکتا۔

=-،-= پاکستان سے متعلق امریکہ کے ریمارکس تکلیف دہ، عمران خان

افغانستان غلط سمت چلا گیا تو مہاجرین کا مسئلہ بڑھے گا۔ سابق افغان حکومت

کو افغانیوں کی اکثریت کٹھ پتلی سمجھتی ہے، سابق افغان حکومت کی افغانیوں

کی نظر میں کوئی وقعت نہیں تھی۔ امریکی وزیر خارجہ کی سینیٹ کو حالیہ دی

گئی بریفنگ کے سوال پر جواب میں انہوں نے کہا کہ کچھ ریمارکس پر بہت

زیادہ افسوس ہے، پاکستان کو افغانستان میں ناکامی کا ذمہ ٹھہرائے جانا ہمارے

لیے بہت تکلیف دہ ہے، پاکستان وہ ملک ہے جس نے امریکہ کی افغانستان میں

جنگ کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دی، ہمارا ملک کیسے اس جنگ میں مدد

فراہم کر سکتا تھا، افغانستان میں طالبان ایک حقیقت ہیں، دنیا کے پاس اب اور

کوئی راستہ نہیں، افغان طالبان نے کنٹرول سنبھال لیا ہے، افغان طالبان کے ساتھ

بات کرنی چاہیے کیونکہ اب اگر پابندیاں لگائی گئیں تو پہلے سے تباہ حال

افغانستان میں مزید بہت سارے مسائل پیدا ہوں گے-

وزیر اعظم عمران خان ، وزیر اعظم عمران خان ، وزیر اعظم عمران خان

وزیر اعظم عمران خان ، وزیر اعظم عمران خان ، وزیر اعظم عمران خان

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply