imran khan

وزیراعظم کا ‘’کورونا ریلیف فنڈ’’ اور ‘’کورونا ٹائیگر فورس’’ کے قیام کا اعلان

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ) وزیراعظم عمران خان نے ‘’کورونا ریلیف فنڈ’’ اور ‘’کورونا ٹائیگر فورس’’ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم انشاء اللہ ایمان اور نوجوانوں کی طاقت سے اس وبا کیخلاف جنگ جیتیں گے۔وزیراعظم عمران خان کا کورونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر قوم سے خطاب کرتے کہنا تھا کہ اس وقت پوری دنیا اس وبا کیخلاف جنگ لڑ رہی ہے لیکن چین کے علاوہ کوئی اور ملک ابھی تک اس موذی مرض کیخلاف کامیاب نہیں ہو سکا۔ چین نے اپنے دو کروڑ لوگوں کو لاک ڈاؤن کرکے اس وبا پر قابو پایا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشی حالات اچھے ہوتے تو ہم بھی لاک ڈاؤن کر دیتے۔ تاہم وسائل سے کبھی بھی اس مرض کیخلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی، امریکا اور برطانیہ کی مثال سب کے سامنے ہے۔ کورونا وائرس ایسی بیماری ہے جو امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتی۔ امریکا نے 2 ہزار ارب ڈالر کا ریلیف پیکج دیا۔ ہمارے پاس امریکا جیسے وسائل نہیں، ہم نے بڑی مشکلوں سے تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف پیکج دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں لاک ڈاؤن کبھی کامیاب نہیں ہوگا کیونکہ ہماری پچیس فیصد آبادی غربت میں رہتی ہے۔ تنہا حکومت نہیں بلکہ پوری قوم متحد ہو کر کورونا وائرس کیخلاف لڑ سکتی ہے۔ جب تک گھروں میں کھانا نہ پہنچا سکے، لاک ڈاؤن کامیاب نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے ہمسایہ ملک بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے پورے ملک کو لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا اور آج قوم سے معافی مانگ رہے ہیں۔ مودی نے کہا کہ سوچے سمجھے بغیر لاک ڈاؤن کردیا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کی سب سے بڑی طاقت ایمان ہے جبکہ ہماری دوسری بڑی طاقت ہمارے ملک کے نوجوان ہیں۔ میں آج سے کورونا ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کرتا ہوں۔ یہ فورس لوگوں میں آگاہی مہم اور جن علاقوں کو لاک ڈاؤن کریں گے، وہاں کھانا پہنچائے گی۔ کورونا ریلیف ٹائیگر فورس جو کمی ہے، اس کو پورا کرے گی۔ اس فورس میں کوئی بھی نوجوان شامل ہو سکتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے جس کو کورونا وائرس ہوجاتا ہے، اسے مجرموں کی طرح دیکھا جاتا ہے۔ کورونا وائرس بوڑھے اور بیمار لوگوں کے لیے خطرہ ہے۔ نزلہ زکام والے اگر گھروں میں رہیں گے تو ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ لوگوں کے جمع ہونے سے وائرس کے پھیلنے کا خطرہ ہے، اس لیے ہمیں احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کی وجہ سے لوگ بھوک سے مریں گے۔ ذخیرہ اندوزوں کو عبرتناک سزائیں دلوائیں گے۔ لوگ افراتفری کی وجہ سے چیزیں خریدنا شروع ہو جاتے ہیں، اس وجہ سے کمزور لوگ بھوکے رہ جاتے ہیں۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا۔ ہر مسلمان مدینہ کی ریاست کو رول ماڈل سمجھتا ہے۔ اگر ہم بحثیت قوم غریب لوگوں کا خیال نہیں رکھیں گے، تو یہ جنگ نہیں جیت سکتے۔

اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان نے تعمیراتی انڈسٹری اور دیہاڑی دار افراد کے لیے ریلیف پیکج کا اصولی فیصلہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ دیگر ممالک میں لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کے گھروں میں خوراک پہنچا ئی جاتی ہے ، جن علاقوں میں کرونا کا پھیلاؤ زیادہ ہے وہاں ٹائیگرز ضروری سپلائی فراہم کریں گے۔ پیر کو وزیر اعظم کی زیر صدارت ریلیف پیکج سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، وزیر اعظم نے حکومتی اداروں سمیت متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے اس سلسلے میں مشاورت کی۔اجلاس میں وزیر اعظم نے روزانہ اجرت پانے والے مزدوروں کے لیے ریلیف پیکج کا اصولی فیصلہ کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا کہ یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ دیگر ممالک میں جب لاک ڈاؤن کیا جاتا ہے تو وہ لوگوں کے گھروں میں خوراک پہنچا دیتے ہیں، ہمارے کرونا ریلیف ٹائیگرز بھی پورے پاکستان میں بھیجے جائیں گے، ہم جائزہ لیں گے کہ کن علاقوں میں کرونا کا پھیلاؤ زیادہ ہے، وہاں یہ ٹائیگرز ضروری سپلائی فراہم کریں گے۔

دریں اثنا مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت ای سی سی اجلاس میں وزیراعظم معاشی ریلیف پیکچ کی منظوری دے دی گئی، کررونا کے پیش نظر 12 سو ارب روپے سے زائد کا معاشی پیکچ منظور کیا گیا ہے۔مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت ای سی سی اجلاس ہوا جس میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کیلئے 200 ارب روپے، برآمدی شعبے اور صنعتوں کیلئے 100ارب، زراعت اور ایس ایم ایز کیلئے 100ارب روپے، یوٹیلیٹی اسٹورز کیلئے 50ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔سرکاری سطح پر گندم کی خریداری کیلئے 280 ارب روپے، ایک کروڑ بیس لاکھ مستحق خاندانوں کیلئے 100 ارب روپے سے زائد کی منظوری دے دی گئی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف کیلئے 70ارب روپے کی منظوری دی گئی۔بجلی اور گیس بلوں میں ریلیف کیلئے 110 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے، ہنگامی فنڈز کیلئے 100 ارب روپے مختص کئے گئے جبکہ این ڈی ایم اے کو 25ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

دوسری طرف ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے پاکستان کیلئے پاکستان کو 35 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔ ۔اے ڈی بی اعلامیے کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کورونا سے نمٹنے کے لیے مجموعی طور پر پاکستان کو 35 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔اس کے علاوہ عالمی بینک بھی کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو 18 کروڑ 80 لاکھ ڈالر دے گا۔دونوں مالیاتی ادارے یہ رقم پاکستان کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کے ادارے کو دیں گے۔واضح رہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے دنیا بھر میں پھیلنے والی وبا کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے پاکستان کو فوری طور پر5 کروڑ ڈالر امداد جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply