imran khan 118

کرونا وباء میں وزیراعظم عمران خان کا استحکامِ معیشت باؤنسر

Spread the love

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن سٹاف رپورٹر) وزیراعظم استحکام معیشت بائونسر

تعمیراتی شعبہ کیلئے بڑی ایمنسٹی سکیم، صنعت کا درجہ دینے کا اعلان

فکسڈ ٹیکس نظام رائج، امسال سرمایہ کار آمدن کا ذریعہ بتانے، گھر فروخت کرنیوالے کیپٹل گین ٹیکس سے مستثنیٰ
نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کیلئے 30 ارب سبسڈی، شعبہ تعمیرات سے منسلک صنعتوں پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم

وزیراعظم عمران خان نے کرونا وائرس کے باعث ہونیوالے معاشی نقصانات کے پیش نظر، ریلیف پہنچانے کی خاطر شعبہ تعمیرا ت کیلئے پیکیج کا اعلان کردیا- شعبے میں فکسڈ ٹیکس نظام رائج کر کے رواں سال سرمایہ لگانے والوں کو آمدن کا ذریعہ بتانے سے استثنیٰ، گھر فرو خت کرنیوالوں کو کیپٹل گین اورسیلز ٹیکسز کی چھوٹ دیدی-

مزید پڑھیں : صوبوں کی مشاورت سے لاک ڈاؤن میں 14 اپریل تک توسیع

کنسٹرکشن کو صنعت کا درجہ دینے سمیت صوبوں کیساتھ ملکر سیلز ٹیکس میں کمی کا عندیہ، شعبہ تعمیرات سے منسلک صنعتوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کر دیا۔ جبکہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کیلئے 30 ارب کی سبسڈی بھی دی جائیگی- تعمیراتی سیکٹر 14 اپریل سے کھلے گا-

ایک طرف کرونا وباء، دوسری جانب بھوک، قوم خود فیصلہ کرے کیسے نمٹنا ہے

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صحافیوں کو پیکیج سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ملک میں ایک طرف کرونا، اوردوسر ی طرف بھوک ہے، ہمیں خوف ہے یہاں لوگ بھوک سے مریں گے، اسی صورتحال سے بھارت اور دیگر ممالک کو بھی خطرہ ہے۔ ملک میں مکمل لاک ڈاﺅن کی بات کریں تو یہ نہ سو چیں ڈیفنس،گلبرگ یا دیگر امیر علاقوں میں لاک ڈاﺅن ہوگا، لیکن لاک ڈاﺅن کامیاب تب ہوگا جب غریب علاقوں میں بھی ہو۔ وائرس جب پھیلنا شروع ہوتا ہے پھر امیر و غریب میں تمیز نہیں کرتا، حتیٰ کہ برطانیہ کا وزیراعظم بھی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ ضروری ہے بحیثیت قوم ردعمل آئے، اسلئے قوم خود فیصلہ کرے اسکا جواب کس طرح دینا ہے-

کرایہ دار شہریوں کیلئے پالیسی بنانے، ذخیرہ اندوزوں اور سمگلرز کو نشانِ عبرت بنانے کے عزم کا اعادہ

وزیراعظم کا کہنا تھا ملک میں گڈز ٹرانسپورٹ جاری رہے گی، کرونا ریلیف فنڈ کیلئے 10 ملین لوگ درخواستیں دے چکے، 40 لاکھ افراد کو چند روز میں چیک ملنا شروع ہو جائیں گے، ہم یہ فنڈ بڑھانے کی کوشش کریں گے، کرائے کے گھروں میں رہنے والوں کیلئے بھی پالیسی لا رہے ہیں، خوراک کی قلت نہیں ہونے دی جائے گی، ذخیرہ اندوزوں اور سمگلروں کو نشان عبرت بنایا جائیگا۔

مکمل لاک ڈاؤن کی کامیابی کا راز، غرباء کی ان گھروں ہی میں مکمل کفالت

عمران خان کا کہنا تھا ہم نے سوچا جب غریب علاقے میں لاک ڈاﺅن کریں گے تو کیا ہم وہاں لوگوں کو کھانا پہنچا سکیں گے؟۔ چین کے شہر ووہان میں کرونا کے خلاف کامیابی کا راز یہی تھا کہ لوگوں کو گھروں میں ہی کھانا پہنچایا گیا۔ کچھ دنوں سے دیکھ رہا ہوں، جب غریب محلے میں کھانا دینے جاتے ہیں، لوگ حملہ کرتے ہیں، ہم نے 1200 ارب کا پیکیج دیا، اور 150 ارب روپے جاری کردیا ہے۔اس کے باوجود ہمیں کوئی گارنٹی نہیں 2 یا 4 ہفتے بعد پاکستان میں کیا صورتحال ہوگی۔ کوئی نہیں کہہ سکتا وائرس کتنی تیزی سے پھیل سکتا ہے، 14 اپریل کو جائزہ لیں گے۔

کرونا سے کوئی خطرہ نہیں کی سوچ خطرناک، قوم مکمل احتیاط کرے

انکا کہنا تھا یہ سمجھنا پاکستان میں کوئی خطرہ نہیں، اسلئے اموات کم ہوئی ہیں، تو یہ سوچ ہی خطرناک ہے، بالکل خطرہ ہے اور عوام سے کہتا ہوں پوری توجہ دیں اور ہر قسم کی احتیاط کریں۔ زراعت کے بعد تعمیراتی شعبہ ایسا شعبہ جس میں لوگوں کو روزگار دیا جا سکتا ہے۔ تعمیرات ایسی صنعت ہے جس کیساتھ ساتھ معیشت کا پہیہ چلنا شروع ہوگا، لیکن حکومت کی خواہش ہے ہمارے دیہاڑی دار کو روزگار ملے، کیونکہ ہمیں نہیں پتہ دو ہفتے بعد کیا ہوگا۔ کنسٹرکشن ڈویلپمنٹ بورڈ بھی بنے گا۔ (وزیراعظم استحکام معیشت بائونسر)

وباء کے اعداد و شمار چھپانا ملک کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف

تعمیراتی شعبے کیلئے ریلیف پیکیج کے اعلان کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کرونا وائرس کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وبا سے متعلق ڈیٹا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر جاری کریگا۔ وزیراعظم عمران خان نے خصوصی ہدایات جاری کیں کہ کرونا وباء سے متعلق اعداد و شمار کسی صورت نہ چھپائے جائیں۔ صوبے ڈیٹا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے شیئر کریں۔ وبا سے متعلق معلومات چھپانا قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔

مزید فیصلے 14 اپریل کو صورتحال کا جائزہ لے کر کریں گے، عمران خان

وزیراعظم کا کہنا تھا الحمد للہ پاکستان میں کرونا وائرس کی صورتحال پریشان کن نہیں، حکومتی اقدامات اور تمام اداروں کی محنت سے کنٹرول میں ہے۔ 14 اپریل تک اسی طرح کی پابندیاں جاری رکھی جائیں گی، اس کے بعد صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ کے فیصلے کریں گے۔

بروقت اپ ڈیٹس کیلئےہمارے سبسکرائبر بنیں، سوشل میڈیا پر فالو کریں

وزیراعظم استحکام معیشت بائونسر

اپنا تبصرہ بھیجیں