وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں کروڑوں کی کرپشن ، تحقیقات کا حکم

Spread the love

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن) وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں اربوں روپے کی

کرپشن کا انکشاف ہوا ہے، وزارت میں تعینات کرپٹ افسران کے خلاف اعلیٰ

پیمانے پر تحقیقات کا حکم بھی دے دیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں وزارت کے

افسران میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ ذرائع سے ملنے والی دستاویزات میں انکشاف

ہوا ہے کہ وزارت کے افسران نے 90 کروڑ روپے مالیت کے سول‘ مکینیکل کے

کام پی سی ون کی منظوری کے بغیر مکمل کئے ہیں اور من پسند ٹھیکیداروں کو

کروڑوں روپے ادا کئے ہیں۔ یہ کرپشن نواز شریف کے دور میں ہوئی،افسران نے

من پسند ٹھیکیدار کو ایڈوانس کے طور پر گیارہ کروڑ دیئے۔ جس پر ایک کروڑ

67 لاکھ روپے کے سود سمیت واپس رقوم بھی نہیں لی ہیں۔ وزارت کے اندر

ترقیاتی منصوبہ میں ٹینڈر کے بغیر ایک کمپنی کو ٹھیکہ دے کر 97 لاکھ کی

کرپشن سامنے آئی ہے۔ تین ٹھیکیدار عثمانی ایسوسی ایٹ‘ وولر انجینئرنگ اور آئی

ٹی سی کے ساتھ ساز باز کرکے وزارت کے اعلیٰ افسران نے 8 کروڑ سے زائد

کی مالی بے قاعدگی کررکھی ہے۔ نجی کمپنیوں کے ساتھ گہرے مراسم رکھنے

والا نیسپاک کو بھی ایک کروڑ 34 لاکھ کی ادائیگی میں بے قاعدگی سامنے آئی

ہے۔ وزارت کے افسران نے ڈیزل جنریٹر کے نام پر بھی ڈیڑھ کروڑ روپے سے

زائد لوٹ رکھے ہیں جبکہ وزارت عمارت کے اندر لائٹس کی تنصیب کے نام پر

متعلقہ حکام نے 55 لاکھ روپے لوٹ رکھے ہیں۔ وزارت کی نئی عمارت کی تعمیر

کا ٹھیکہ عثمانی ایسوسی ایٹ کو 64 کروڑ روپے مین دیا گیا جبکہ اس میں سے

23 کروڑ روپے کی ادائیگی کو مالی بے قاعدگی قرار دے کر متعلقہ حکام کے

خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے اس عمارت کا ٹھیکہ کم بولی دینے وال کمپنی

یونائیٹڈ انجینئرنگ کو دینے کی بجائے عثمانی ایسوسی ایٹ کو مہنگے ریٹس پر دیا

گیا تھا جس پر اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے وزارت کے اندر لفٹ

کے نام پر 2 کروڑ 34 لاکھ روپے کا ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ ذرائع سے ملنے والی

دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ عمارت کا نقشہ بھی غیر معیاری ہے جس کے

نتیجہ میں 65 کروڑ کی لاگت سے تعمیرات کو ناقص قرار دے دیا گیا ہے اس کے

باوجود اعلیٰ افسران نے 5 کروڑ روپے سے زائد تعمیراتی کمپنی کو دیئے گئے

ہیں جبکہ ڈیڑھ کروڑ روپے کی اشیاء مینیوفیکچر کمپنیوں سے خریدنے کی بجائے

من پسند تاجروں سے خریدی گئی ہیں۔ وزارت کی عمارت کا ڈیزائن بھی ناقص ہے

جبکہ وزارت کی عمارت کو بھی ناقص قرار د یدیاگیا ہے جس سے کسی بھی

وقت جانی نقصان کا اندیشہ ہے اس پورے منصوبہ کی اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کا

فیصلہ کیا گیا ہے اور ذمہ دار افسران کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی

جائے گی۔

Leave a Reply