واقعی اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا--- 0

واقعی اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا —

Spread the love

(تحریر:– شہزادہ گلزیب خان جدون/ المعروف گل جی) واقعی اس کو چھٹی

Journalist Shehzada Gullzaib Khan Jadoon

اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا، کے مصداق پاکستان کے صوبہ خیبر

پختونخوا کے انتہائی قدرتی حسن، اور وسائل سے مالا مال ہزارہ ڈویژن، جو کہ

دیودار، کیں، چیڑ اور صنوبر کے جنگلات کا بھی حامل ہے، جب کہ سیاحت کے

لحاظ سے ملک کے ایک تہائی تفریح مقامات اسی ہزارہ ڈویژن میں ہی واقع ہیں،

اور اس ڈویژن میں ڈاڈر سینی ٹی ایم میں ٹی بی کا علاج بھی کیا جاتا ہے، جبکہ

ہزارہ ڈویژن کی اُٹھان ہمالیہ، اور دیگر پہاڑی سلسلوں کی اونچائی ساڑھے چار

ہزار فٹ سے شروع ہوتی ہے، جو درہ بابو سر پر ساڑھے 13 ہزار تک پہنچ

جاتی ہے، جب کہ ہزارہ ڈویژن صوبے کو انتہائی مالی فوائد بھی بہم پہنچاتا ہے-

=–= مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

ہزارہ ڈویژن معدنیات کے حوالے سے بھی کافی ذرخیز ہے، یہاں فاسفیٹ و چار

کول کے برتنوں کی مٹی اور لوہے کے ذخائر سمیت دیگر معدنیات وافر مقدار

میں میسر ہیں، اس کے اضلاع میں ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ جس کی حدود

بابو سر ٹاپ تک جاتی ہے، بٹگرام اور دیگر اضلاع شامل ہیں، اور حال ہی میں

یہاں دو ڈیم بنانے کیلئے تعمیراتی کام بھی جاری ہے، ان سمیت دیگر کئی ان گنت

خوبیوں کے باوجود ہزارہ ڈویژن کے عوام خود کو انتہائی بدنصیب تصور کرتے

ہیں، جسکی کئی وجوہات ہیں جن میں اہم وجہ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ

ہے، جس نے یہاں کے عوام کی زندگی انتہائی اجیرن بنا رکھی ہے، اہل ہزارہ

ڈویژن کا موقف ہے کہ وہ بجلی کے بل تو تواتر سے ادا کرتے ہیں لیکن پھر بھی

بجلی کے لئے ترس رہے ہیں-

=-،-= خیبر پختونخوا سے مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

ہزارہ کے باسیوں کا کہنا ہے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باوجود رہی سہی کسر

بجلی کی آنکھ مچولی پوری کر دیتی ہے، کوئی بھی چھٹی کا دن ایسا نہیں ہے کہ

بجلی ہو اور پانچ گھنٹوں سے پہلے آجائے، اکثر علاقوں میں واٹر سپلائی سکیمیں

ٹیوب ویلز اور دیگر پانی کے ذخائر سے منسلک ہیں، بجلی نہ ہونے کی وجہ

سے پانی کی ترسیل بھی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے لوگ دوہری اذیت میں مبتلا

رہتے ہیں- بجلی سے چلنے والی گھریلو الیکٹرک اشیاء ناقابل استعمال ہونے کے

ساتھ ساتھ چھوٹے کارخانہ بند رہتے ہیں جس کی وجہ سے یومیہ اُجرت پر کام

کرنے والے طبقے کو بیروزگاری کا سامنا رہتا ہے- جبکہ اس حوالے سے واپڈا

والے لوڈشیڈنگ کی وجہ بجلی کی پیداوار میں کمی یعنی شارٹ فال کا کہہ کر

جان چھڑا لیتے ہیں-

=-،-= عوام کا پیمانہ صبر لبریز، سرکار کو ہمہ وقت کوسا جانے لگا

اہل علاقہ اور بالخصوص تاجر برادری کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے کیوں

کہ چھوٹے تاجر تو دور کی بات بڑے تاجر بھی جنریٹر کا خرچہ پورا نہیں کر پا

رہے اور اب نوبت تبدیلی سرکار کو کوسنے تک آ پہنچی ہے، ان کا کہنا ہے کہ

ہم نے تو اچھے دن دیکھنے کیلئے عمران خان اور انکی پارٹی پاکستان تحریک

انصاف کو ووٹ دئیے، لیکن حکومت نے جواب میں ہوش ربا مہنگائی کر کے

ہماری زندگیاں اجیرن کر دی ہیں، اگر ایسے ہی مہنگائی بڑھتی رہی تو جلد ہم

سڑکوں پر ہوں گے-

=-،-= پی ٹی آئی حکومت کے باعث عوام کو ریلیف دینے کا قلیل وقت رہ گیا

اہل ہزارہ ڈویژن کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت مہنگائی کو عالمی پیمانے سے

جوڑ کر ہمیں مزید بیوقوف نہیں بنا سکتی، کیونکہ عوام کو ملکی پیداوار سے

بھی کوئی سہولت میسر نہیں ہے، جس سے موجودہ حکومت کی نااہلی ثابت ہوتی

ہے- عوام کے دل و دماغ میں ایک ہی بات گھر کرتی جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی

کی حکومت کو اسی طرح چلتا کرنا ہے، جیسے متحدہ مجلس عمل کی حکومت

کو صوبے سے ووٹ کی طاقت سے نہ صرف چلتا کیا بلکہ ایم ایم اے کا سیاسی

مستقبل ہی ختم کر دیا- اب بھی وقت ہے کہ عوام کو ریلیف دیکر حکمران اپنا

امیج بنا سکتے ہیں۔

واقعی اس کو چھٹی ، واقعی اس کو چھٹی ، واقعی اس کو چھٹی ، واقعی اس کو چھٹی

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply