وارے ہمارے لیڈر

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ان دنوں کی بات ہے جب سابق وزیر اعظم نواز شریف جو اپنی نااہلی کے فیصلے پر سیخ پاتھے اور جڑانوالہ میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہے تھے ، اسی روز گوجرانوالہ سے ایک کمسن معذور بھکاری بچے احسن کے سردی سے ٹھٹھر کر جان بحق ہونے سمیت اسکی نعش کو جنگلی جانوروں کے نوچ نوچ کر کھانے کی ایسی دل سوز خبر آئی کہ ہمارے پاﺅں تلے سے زمین نکل گئی اور دماغ شل ہوگیا ، زبان گنگ ہو گئی ، کانوں میں شاں شاں کی آوزایں گونجنے لگیں ،شیخو جی نے بھرآئی آواز میں خیا لی صاحب سے کہا ہم کیسے انسان ہیں ، کیسے کلمہ گو ہیں کیسے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کے طلبگار ہیں۔
خیالی صاحب جو خود یہ اندوہناک واقعہ سن کر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے تھے شیخو جی کے پے در پے سوالات پر چیخ اٹھے اور کہا شیخو جی واقعی وہ زمانہ آگیا جس کی پیش گوئی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی تھی کہ دنیا شر ، بد امنی، بے حسی ، نا انصافی سے بھر جائے گی ، اس سے ز یادہ بے حسی اور خود غرضی کسی معاشرے میں اور کیا ہو سکتی ہے ؟
شیخو جی!پولیس تھانہ سٹی پسرور نے گوجرانوالہ میںمعذور گداگر بچے احسن کے قتل کا مقدمہ گداگر گینگ کے سرغنہ کےخلاف درج کیا،اس ضمن میں کیا کچھ پیش رفت ہوئی تاحال کچھ پتہ ہی نہیں ،بتایا جا تا ہے معصوم معذور احسن سے ٹھیکیدار مظہرجوگی بھیک مانگنے کیلئے روزانہ صبح مخصوص مقام پر بٹھا جاتا تھا اور رات کو واپس لے جاتا تھا مگر اس روز ہی نہیں بلکہ مسلسل 2روز گز ر جانے کے باوجود بھی وہ احسن کو واپس لینے نہ آیا ا و رمعصوم احسن سردی سے ٹھٹھر کر خالق حقیقی سے جا ملا جبکہ اس کی نعش کو جنگلی جانور نوچتے رہے، اہل علاقہ کو بھی اس معصوم پر ترس نہ آیا ،اسی طر ح مظہر جوگی تیسرے دن معصوم احسن کو لینے کیلئے آیا تو اسے مردہ اور مسخ شدہ نعش کی صورت میں دیکھ کر بجائے اس کے کہ اسکی تجہیزو تد فین کا بندوبست کرتا الٹا پسرور میں معصوم احسن کی مسخ شدہ نعش اس کے گھر کے سامنے پھینک کر فرار ہو گیا، سنگدل کہا جائے یا مجبور بچے کے والد محمد یوسف کے جس نے احسن کو بھیک مانگنے کیلئے مذکورہ ٹھیکیدار کو بیچ رکھا تھا یا دیہاڑی لیتا تھا ، تھانے پہنچ گیا اور احسن کے قتل کا مقدمہ گداگر گینگ کے سرغنہ مظہر جوگی کےخلاف درج کرادیا۔
خیالی صاحب بو لے ،الا امان الحفیظ ،شیخو جی اس روز نواز شریف کا خطا ب سنا تھا کہہ رہے تھے اگلا الیکشن نااہلی فیصلے کےخلاف ریفرنڈم ہوگا، جو بھی وعدہ کیا پورا کیا،میرے دور میں ڈرون حملے بند، لوڈ شیڈنگ ختم ، دہشتگردی پر قابو پالیا گیا لیکن آج پھر ملک میں افرا تفری پھیل رہی ہے اور ڈرون حملے ہو رہے ہیں۔ تحریک عدل اب رکنے والی نہیں، اس تحریک کے ذریعے سستا، کھرا اور گھر کی دہلیز پر انصاف کو یقینی بنائیں گے۔
شیخو جی بولے ،اسی روز وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کا اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب میں کہنا تھا قانون شکنی کرنےوالوں کےساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔معصوم زینب قتل کیس ہمارے لئے ٹیسٹ کیس کی حیثیت رکھتا ہے، کسی کو شفاف اور بے لاگ تحقیقات پر اثر انداز ہو نے کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پنجاب حکومت نے انصاف کے منافی کوئی کام کیا نہ آئندہ کسی کو کرنے دیا جائے گا۔
خیالی صاحب بولے شیخو جی اسی روز چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا پنجاب اور سندھ کی پولیس ماورائے عدا لت قتل میں ملوث ہے۔ نواز شریف اور آصف زرداری میں فرق صرف طریقہ واردات کاہے۔آصف زرداری ایک مصدقہ مجرم ہے ، شہبا زشریف پر بھی ماورائے عدالت قتل کا الزام ہے۔ زینب اور عاصمہ کے قتل کے معاملے میں فرق ہے،عاصمہ کے والد نے آرمی چیف سے ا نصاف کی فراہمی کا مطالبہ نہیں کیا کیونکہ انہیں خیبر پختونخوا کی پولیس پر اعتماد ہے۔اسی روز پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردا ر ی کا ڈیووس میں کہنا تھا کسی بھی شخص کو معاشرے میں نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا ہم اپنے بچوں کو کیا د ے رہے ہیں، اسی روز رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد العیسیٰ کا کہنا تھا اسلام بے قصور لوگوں کی پاسبانی کرتا ہے اور کسی بھی بے قصور انسان کے قتل یا اس پر ظلم کے احتساب کا علمبردار ہے۔جبکہ اس روز خطبہ جمعہ میںمسجد الحرام کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر سعود الشریم کا کہنا تھا بعض لوگ گناہوں کو معمولی سمجھ کر معصیت کے مرتکب ہورہے ہیں۔ گناہ کوئی بھی معمولی نہیں ہوتا،ہر گناہ سے پرہیز کریں۔ زندگی میں اخلاق کلیدی درجہ رکھتے ہیں۔ انسان کے کردار اور گفتار کا معیار اچھے اخلاق ہی ہیں۔ حکمت و معقولیت انسان کو متوازن اور متناسب مقا صد دلاتے ہیں۔
شیخو جی ! خیالی صاحب کیا ہمارے لیڈر صر ف بھاشن دینے جوگے ہی ہیں ان میں عملیت نام کی کوئی چیز نہیں عرصہ ہوا چاہے وہ سیاسی ہوں یا مذہبی رہنما صرف باتوں تک ہی اکتفا کیو نکر کرتے چلے آ رہے ہیں ،عمل کو اپنا شعار کیوں نہیں بناتے ، گزشتہ روز احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے العزیزیہ ریفرنس میں ریمارکس کے دوران کہا کہ سپریم کورٹ نے ڈیکلیئر کیا کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں ہیں، اعلیٰ عدالت کے فیصلے کے بعد ہم یہاں انہیں کیسے سچا مان لیں، خواجہ حارث اس نکتے پر عدالت کو مطمئن کریں۔ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر عباسی کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا خواجہ حارث کے حتمی دلائل اور نواز شریف کے بیان میں تضاد ہے، نواز شریف نے 342 کے بیان میں حسن، حسین نواز کی طرف سے پیش دستاویزات تسلیم کیں، ملزمان اثاثوں کو مانتے ہیں، ہم نے تحویل کو بھی ثابت کردیا ہے۔ملزمان کہتے ہیں ہم پر کرپشن کا الزام نہیں، نیب آرڈیننس کی سیکشن نائن اے ہے ہی کرپشن سے متعلق، جلاوطنی کے دور میں شریف خاندان کے افراد سعودی عرب میں اکٹھے تھے، جب یہ وہاں ایک ساتھ تھے تو اب کیسے کہہ سکتے ہیں انہیں العزیزیہ اسٹیل کے قیام کا علم نہیں۔ طارق شفیع کے میاں شریف کے بے نامی دار ہونے کا ثبوت نہیں، ملزمان کے موقف سے ظاہر ہوتا ہے 70کی دہائی میں بھی ان کے بے نامی دار تھے۔
دوران سماعت نیب کی طرف سے بار ثبوت اور زیر کفالت ہونے کے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے بھی پیش کیے گئے، سردار مظفر عباسی کامزید کہنا تھا نواز شریف نے اپنی تقاریر میں کہا دستاویزات اور ریکارڈ موجود ہے اور متعلقہ فورم پر ریکارڈ پیش کر دیں گے، اس سے ظاہر ہوتا ہے ان کو ان تمام معاملات کے بارے میں خاص علم ہے، ہمارا کیس ثابت کرنے کیلئے تمام عناصر ملزمان نے خود پورے کردیے، نیب نے اپنی ذمہ داری پوری کردی اب بار ثبوت ملزمان پر ہے۔ ملزمان کو بتانا ہے اثاثے کیسے بنائے گئے ، ملزمان کا موقف ہے حسن اور حسین نواز عدالت کے سامنے موجود نہیں،مفرور ملزمان کا ٹرائل ان کی عدم موجو د گی میں ہورہا ہے، پراپرٹی کسی تیسرے شخص کے نام پر نہیں بلکہ نوازشریف کے بچوں کے نام ہے۔ ہمارے کیس بے نامی کا ہے، اس میں براہ راست شواہد نہیں ہوتے، بے نامی دار کی تعریف میں بھی یہی ہے فائدہ کسے پہنچ رہا ہے اور ریکارڈ کے مطابق نواز شریف، مریم نواز کو ایچ ایم ای سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔ حسین نواز نے اپنے انٹرویو میں خود کہا میری تمام جائیداد میرے والد کی ہے، نیب اور عدالت کی طرف سے حسین نواز بارہا بار بلایا گیا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔ حسین نواز کے پاس دفاع میں پیش کرنے کیلئے کچھ نہیں تھا اسلئے حاضر نہیں ہو ئے ، وہ اپنے والد کے بے نامی دار ہیں اور والد کو ریسکیو کرنے نہیں آ ئے ۔ نواز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا وہ چند بنیادی حقائق سا منے رکھنا چاہتے ہیں، بنیادی حقائق کا مطلب ہے نوازشریف کو سارے کا ر وبار کے بارے میں علم تھا، نوازشریف نے کہا کرپشن یا ناجائز ذرائع سے دولت بنانے والے اپنے نام پر اثاثے اور کمپنیاں نہیں رکھتے۔
نواز شریف نے پورے ہوش و حواس میں قوم سے خطاب کیا، اپنے خاندان کی ذمہ داری لی اور کہا ٹھوس ثبوتوں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ وہ عدالت میں پیش کیوں نہیں کئے گئے، وہ ثبوت کہاں ہیں، عدالت میں پیش نہیں کرنے تو اور کہاں کریں گے، اب ثبوت پیش کرنے کا وقت آیا تو کہتے ہیں ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ اس تقریر کو سپریم کورٹ نے بھی سیاسی تقریر نہیں مانا، نوازشریف نے کہا کہ دبئی اور جدہ کی فیکٹر یوں کے حوالے سے سارا ریکارڈ موجود ہے، تقریر میں یہ نہیں کہا میرا پراپرٹی سے کوئی تعلق نہیں،نواز شریف نے کہا میرا پاناما پیپرز میں نام نہیں، ان کا پراپرٹی سے تعلق تھا اسلئے تو وضاحت دینا ضروری سمجھا جبکہ سپریم کورٹ میں نوازشریف نے یہ موقف لیا کہ میرا پراپرٹی سے کوئی تعلق نہیں۔عدالت سے استدعا ہے اس ریفرنس پر حکم جاری کرنے سے متعلق تاریخ رکھ لیں،اب خیالی صاحب اب خود ہی تباﺅ باقی رہ کیا گیا ہے؟
خیالی صاحب !یہی تو ہمارا المیہ ہے اسی وجہ سے ہم انحطاط کا شکار ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply