نیوزی لینڈ حکومت کا نیم خودکار اسلحے پر پابندی، واپسی کیلئے سکیم کا اعلان

Spread the love

ویلنگٹن،کرائسٹ چرچ (جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک) نیوز لینڈ سکیم اعلان

کرائسٹ چرچ سانحے کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے نیم خود کار اسلحے پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے لوگوں کے پاس پہلے سے موجود اسلحہ کی واپسی کیلئے ایمنسٹی سکیم کا اعلان کردیا۔

مزید پڑھیں : نیوزی لینڈ کی فضا اللہ اکبر کی صدا سے گونج اٹھی

تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے کہا ہے، کہ فوجی طرز کے نیم خودکار اسلحے پر پابندی ہوگی، اور حملوں میں استعمال ہونیوالے اسلحے کی فروخت پر بھی پابندی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلحے پر پابندی کیلئے قانون سازی فوری طور پر کی جائے گی، اورفی الحال اسلحے کی خریداری روکنے کیلئے عبوری اقدام اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلحہ کی واپسی پر 100 سے 200 ملین ڈالر تک اخراجات آئیں گے، اور ایمنسٹی سکیم کے دوران اسلحہ واپس نہ کرنے والوں کو سخت سزا کا سامنا ہوگا۔

فالو کریں : جے ٹی این آن لائن فیس بُک پیج

وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے کہا کہ حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 4 ہزار ڈالر جرمانہ اور 3 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب کرائسٹ چرچ میں مساجد پر دہشت گرد حملہ کرنے والے برینٹن ٹیرنٹ کی کزن نے کہا ہے کہ ٹرینٹ نے جو کیا اس کے لیے اسے سزائے موت ملنی چاہیے۔ برنٹن ٹیرنٹ نے معصوم شہریوں کی جان لی ہے، اس لیے وہ بھی سزائے موت کا مستحق ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا اس ضمن میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی-

نیوز لینڈ سکیم اعلان

Leave a Reply