نیوزی لینڈ میں اسلحہ رکھنے پر پابندی کے قانون کا اطلاق شروع

Spread the love

ویلنگٹن (جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک) نیوزی لینڈ اسلحہ پابندی

نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر فوجی طرز کے نیم خود کار آتشیں ہتھیار رکھنے پر پابندی کے قانون کی منظوری دیدی، اور اس قانون کا آج جمعہ سے ملک میں اطلاق ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں : نیوزی لینڈ، سیمی آٹو میٹک طرز کی رائفلز پر پابندی کا بل منظور

تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے یہ قانون گزشتہ ماہ کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں ایک آسٹریلوی دہشتگرد کی اندھا دھند فائرنگ سے 50 نمازیوں کی شہادت کے بعد منظور کیا ہے۔ وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے اس قانون پر بحث میں لیتے ہوئے کہا، میں نے اس قتل عام کے بعد کسی وسیع طرح مشاور ت کے بغیر ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا، حکومت کو اس ضمن میں کوئی اقدام کرنا ہوگا۔

فالو کریں : جے ٹی این آن لائن ٹوئٹر

وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کا مزید کہنا تھا نئے قانون کے تحت حکومت شہریوں یا ڈیلرز کے پاس موجود نیم خودکار آتشیں ہتھیاروں کو واپس خرید کرے گی۔

یاد رہے گزشتہ دنوں نیوزی لینڈ میں سیمی آٹو میٹک طرز کی رائفلز پر پابندی عائد کرنے سے متعلق ایک قانونی بل منظور کیا گیا تھا، ملک کی پارلیمان میں اس ضمن میں کرائی گئی رائے دہی میں 119 ارکان نے اس بل کے حق میں ووٹ ڈالا جبکہ صرف ایک قانون ساز نے اس کی مخالفت کی۔ یہ اقدام کرائسٹ چرچ میں مساجد پر ہونیوالے دہشتگردانہ حملوں کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے، جبکہ مزید قوانین بھی اسی سال کے اواخر تک متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔

نیوزی لینڈ اسلحہ پابندی

Leave a Reply