نیند کا عالمی دن، چینی نوجوانوں سے متعلق دلچسپ ومعلومات

نیند کا عالمی دن، چینی نوجوانوں سے متعلق دلچسپ ومعلومات

Spread the love

بیجنگ(جے ٹی این آن لائن دلچسپ نیوز) نیند کا عالمی دن

چائنہ یوتھ ڈیلی کے حالیہ سروے میں شامل 60 فیصد کے قریب چینی نوجوانوں

نے کہا کہ وہ بستر پر تاخیر سے جانے کے عادی ہیں اور وہ رات 11 بجے تک

نہیں سوتے۔ یہ سروے نیند کے 21 ویں عالمی دن کی مناسبت سے منعقد کیا گیا تھا

جو کہ اتوار کو منایا گیا۔ سروے میں 2 ہزار 2 جواب دہندگان کی عمریں 18 سے

35 سال کے درمیان تھیں، ان میں سے صرف 8.5 فیصد نے کہا کہ ان کا سونے کا

وقت 8 گھنٹوں سے زیادہ ہوتا ہے اور 80 فیصد سے زائد عام طور پر ایک رات

میں 6 سے 8 گھنٹے سوتے ہیں۔

=-= یہ بھی پڑھیں: اچھی عادات پر مبنی جوانی اچھے بڑھاپے کی ضمانت
————————————————————————————————

بیجنگ کی ایک نجی کمپنی میں کام کرنے والے 29 سالہ شخص ہو بو آدھی رات

سے قبل بہت کم سوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں ہر روز کام سے رات 8 بجے

کے بعد گھر آتا ہوں، بعض اوقات معدہ خالی ہوتا ہے، میں سب کچھ مکمل کرنے

کے بعد سونے سے قبل تھوڑی دیر کیلئے اپنا کمپیوٹر یا موبائل استعمال کرتا ہوں

اور تب تک بہت تاخیرہو جاتی ہے۔ ہو نے کہا کہ بستر پرتاخیر سے جانے کے

باوجود مجھے سونے کیلئے آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت لگتا ہے، ان ہی کی طرح

11 فیصد جواب دہندگان بسترپر جانے کے بعد 30 منٹ کے اندر نہیں سو پاتے۔

=قارئین=کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

جب ان سے سونے کے معیار کے بارے میں پوچھا گیا تو آدھے سے کم چینی

نوجوانوں نے کہا کہ وہ بالکل ٹھیک سوتے ہیں، ضرورت سے زیادہ خواب دیکھنا

(46فیصد)، ہلکی نیند (45.4فیصد) اور جلدی بیداری (33.1فیصد) چینی نوجوانوں

میں نیند کی سب سے عام پریشانیاں ہیں۔ ہیبے جنرل ہسپتال کے ایک طبی ماہر

ژانگ شیاوے نے کہا کہ ناقص معیار کی نیند جسمانی اور ذہنی صحت، دونوں

کیلئے نقصان دہ ہے جو کہ قوت مدافعت کے نظام کوکمزور کرتی ہے یا جذباتی

چڑچڑے پن کا باعث بنتی ہے۔

نیند کا عالمی دن

Leave a Reply