135

نیلم ، برفانی تودے سے تباہی، 22 گھنٹے بعد زندہ نکالی گئی بچی دم توڑ گئی ، تعداد 78ہوگئی

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیلم، آٹھ مقام (مانیٹرنگ ڈیسک)وادی نیلم میں برفانی تودے سے تباہی کا شکار

علاقے سے 22 گھنٹے بعد زندہ نکالی گئی بچی صفیہ بھی دم توڑ گئی جس کے

بعد ان واقعات میں جاں بحق افراد کی تعداد 78 ہو گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق

برف باری اور تودے گرنے سے ہونے والی تباہی میں 56 افراد زخمی ہوئے

،صرف وادی نیلم میں دو سو سے زائد مکانات اور 22 دکانوں کو نقصان پہنچا

برف باری سے متاثرہ علاقے سے 22 گھنٹے بعد زندہ نکلنے والی بچی صفیہ بھی

انتقال کر گئی ہے، ان واقعات کے بعد برفانی تودے گرنے کے واقعات میں جاں

بحق افراد کی تعداد 78 ہو گئی۔ایس ڈی ایم اے کے مطابق وادی نیلم میں 200 سے

زائد مکانات اور 22دکانیں متاثر ہوئی ہیں اور 56 افراد زخمی ہوئے ہیں۔آزاد

کشمیر کی وادی نیلم کے گائوں بگولی میں برفانی تودے تلے دبے افراد کو نکالنے

کیلئے ریسکیو آپریشن پھر شروع ہو گیا ،وادی لیپہ میں برف باری سے متاثرہ

شاہراہ کی بحالی کیلئے محکمہ تعمیراتِ عامہ نے ہنگامی بنیادوں پر آپریشن شروع

کر دیا ہے۔بھاری مشینری نے 15 روز سے بند لیپہ شاہراہ سے برف ہٹانا شروع

کر دیا ، راستوں کی بندش سے یہاں ایک لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی محصور ہو

کر رہ گئی ۔سیکرٹری تعمیراتِ عامہ شاہرات غلام بشیر مغل نے اہلکاروں کو

سڑکوں کی بحالی کے لیے بھرپور اقدامات کی ہدایت کی اور کہا کہ متاثرہ علاقوں

کے عوام کی مشکلات میں کمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

آزاد کشمیر کی وادی نیلم کے دو دیہات بگولی اور سرگن سیری میں گرنے والے

برفانی تودوں سے ہوئے جانی نقصان نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ۔لینڈ

سلائیڈنگ کے بعد اب بھی کئی افراد کے ملبے میں دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ ڈھکی

چکناڑ میں برف تلے دبے افراد کو نکالنے کے لئے ریسکیو شروع نہ شروع کیا

جا سکا ورثاء کا احتجاج۔ حکومت پاکستان سے نوٹس لینے کی اپیل۔ تفصیلات کے

مطابق گریس ویلی میں ڈھکی چکناڑ میں برفانی گلیشئر تلے دبے افراد کو نکالنے

کے لئے امدادی کام شروع نہیں ہو سکا ہے۔ ورثاء نے حکومت کی بے حسی پر

شدید احتجاج کیا ہے ۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مسلم کانفرنس کے رہنماہ

حبیب اللہ خان نے کہا ہے کہ حکومت آزاد کشمیر نے وادی نیلم کے ساتھ امتیازی

سلوک روا رکھا ہے۔ ریسکیو کے ادارے غائب ہیں۔ ڈھکی چکناڑ میں چار دن سے

پورا گائوں برف کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ جاں بحق اور زخمیوں کی تعداد واضح

نہیں ہے ایس ڈی ایم اے بوگس اعداد شمار جاری کر رہا ہے

Leave a Reply