نیب ڈیلیں کرتا ہوگا،ہم فیصلے کرتے ہیں، چیف جسٹس

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر ) سپریم کورٹ نے بے نامی اکاونٹس کیس کے ملزم کی

بریت کیخلاف نیب کی ایک اور درخواست مسترد کردی ، چیف جسٹس آصف سعید

خان کھوسہ نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ نیب ڈیلیں کرتا ہوگا ہم ڈیلیں نہیں

فیصلے کرتے ہیں،دستاویزات میں کوئی شواہد نہیں جس سے معلوم ہو کہ محمد

نواز کے اکا ؤنٹ تھے یا اس نے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔ تفصیلات کے

مطابق چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے بے نامی اکاؤنٹس

کیس کی سماعت کی جس میں عدالت عظمیٰ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار

رکھتے ہوئے بے نامی اکاونٹس کیس کے ملزم کیخلاف نیب کی ایک اور

درخواست مسترد کردی۔اس پر ایڈیشنل نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایک ڈیل کرتے

ہیں میں پیرا گراف پڑھتا ہوں اگر جرم ثابت نہ ہوا تو میں چپ کر جاں گا۔چیف

جسٹس پاکستان نے نیب پراسیکیوٹر کی یہ دلیل سن کر ریمارکس دیے کہ نیب ڈیلیں

کرتا ہوگا ہم ڈیلیں نہیں فیصلے کرتے ہیں۔دوسری طرف چیف جسٹس آصف

سعیدکھوسہ نے ضمانت قبل ازگرفتاری کے اصولوں پر دوبارہ غور کا عندیہ د

یتے ہوئے کہا ہے کہ ضابطہ فوجداری ضمانت قبل ازگرفتاری کی اجازت نہیں

دیتا، ہر کیس میں ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواستیں آجاتی ہیں۔تفصیلات کے

مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے ضمانت قبل

ازگرفتاری کے عام مقدمے میں ریمارکس میں کہا ضابطہ فوجداری ضمانت قبل

ازگرفتاری کی اجازت نہیں دیتا، ضمانت قبل ازگرفتاری گنجائش ہدایت اللہ کیس میں

نکالی گئی، کسی عزت دار کو کیس میں نہ پھنسایا جائے اس لیے گنجائش نکالی

گئی۔چیف جسٹس کا کہنا تھا سوال یہ تھا کیا عدالت کو عزت دارشخص کی محفوظ

نہیں کرنا چاہیے۔جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے ضمانت قبل ازگرفتاری کے

اصولوں پر دوبارہ غور کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہدایت اللہ کیس 1949میں آیا

تھا جو زمانہ بدل گیاہے، ہرکیس میں ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواستیں آجاتی

ہیں۔بعد ازاں عدالت نے ڈکیتی کے ملزم کی ضمانت قبل ازگرفتاری کے خلاف اپیل

مسترد کردی، ملزم نے ہائی کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرائی

تھی، جس کے بعد ڈکیتی سے متاثرہ فریق نے ضمانت قبل از گرفتاری منظور

ہونے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply