359

نیب ترمیمی آرڈیننس چیلنج ، تمام اپوزیشن جماعتوں نے بھی صدارتی آرڈیننس مسترد کر دیا

اسلام آباد کراچی، لاہور ( سٹاف رپورٹر ) حکومت کی جانب سے پاس کیے گئے

نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کو سپریم کورٹ او لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

گیا ہے۔سماجی کارکن محمود اختر نقوی نے کراچی رجسٹری میں درخواست دائر

کی جس میں وفاق، چیئرمین نیب، وزارت قانون، سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری

خارجہ اور سیکرٹری دفاع کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے

کہ کہ نیب ترمیمی آرڈیننس آئین کے آرٹیکل 25 کے خلاف اور وزرا اور سرکاری

افسران کی کرپشن کو تحفظ دینے کی کوشش ہے۔سپریم کورٹ کی کراچی

رجسٹری میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 25 کے مطابق

تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور مذکورہ ترمیمی آرڈیننس بدنیتی پر

مبنی ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کو فوری

معطل کرنے کا حکم دیا جائے۔ایڈووکیٹ اشتیاق چوہدری نے لاہور ہائی کورٹ

میں نیب آرڈیننس میں ترمیم کے خلاف درخواست دائر کی جس میں وفاقی حکومت

اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ نیب آرڈیننس

میں ترمیم آئین کے آرٹیکل 5، 19 اے اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔درخواست میں

کہا گیا کہ نیب سے مشتبہ ملزم کا گرفتار کرنے کے خصوصی اختیار واپس لے لیا

گیا ہے، تحقیقات سے متعلق اختیارات میں مداخلت کی گئی اور تحقیقات سے قبل

ایک نئی پلی بارگین متعارف کروائی گئی ہے جو کہ امتیازی سلوک ہے۔لاہور ہائی

کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ قومی احتساب بیورو کے اختیارات محدود

کرنے سے کرپشن میں اضافہ ہوگا۔درخواست میں کہا گیا کہ نیب آرڈیننس میں

انکوائری سے متعلق عوامی سطح پر بیان دینے پر پابندی آئین کے آرٹیکل 19-اے

میں دیے گئے ’ بنیادی حق ‘ کے خلاف ہے۔درخواست گزار نے کہا کہ حالیہ

ترامیم متعارف کروا کر بیوروکریسی کو کرپشن کرنے کی چھوٹ دے دی گئی ہے۔

اس میں مزید کہا گیا کہ نیب 50 کروڑ روپے سے کم کرپشن کے خلاف کارروائی

نہیں کرسکے جس سے 49 کروڑ روپے کی کرپشن والا بچ جائے گا اور وہ یہی

عمل دہرا سکتا ہے اس طرح کرپشن میں اضافہ ہوگا۔درخواست میں کہا گیا احتساب

آرڈیننس کے سیکشن 14 کو ختم کردیا گیا ہے جس کے تحت ملزم کا اثاثہ جات کے

ذرائع ثابت کرنے ہوتے تھے۔اس میں مزید کہا گیا کہ نیب قوانین سے متعلق

آرڈیننس امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔درخواست م%9 %9%اB1Bш %88 %9%و B9 ۘ%
B3D
%D7%8%تA78ٹ%%D ڨی 8CAѦ%%D ۋے ߁ D99%A8 ی %1%DB3%BA%6%ًس Cں ترمیم پر فوری عملدرآمد روکنے کا

حکم دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں