wafaqi kabina 119

نیب آرڈیننس پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ،بھارت کیخلاف قرارداد منظور

Spread the love

اسلام آباد (جتن آن لائن سٹاف رپورٹر ) نیب آرڈیننس پارلیمنٹ

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں

اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق سمیت ملکی معاشی و سیاسی

صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ کابینہ کے اجلاس میں 8 نکاتی ایجنڈے کے مطابق

نئے نیب آرڈیننس سے متعلق گفتگو ہوئی اور کابینہ نے اقتصادی تعاون کمیٹی (ای

سی سی) کے فیصلوں کی توثیق بھی کی۔ مزید پڑھیں

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی

برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ کابینہ اجلاس

سے پہلے ان کیمرہ بریفنگ ہوئی جس میں قومی احتساب بیورو ( نیب ) آرڈیننس

اورنیب قوانین کا جائزہ لیا گیا اس دوران ارکان نے کھل کراپنی آرا کا اظہارکیا۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ نیب آرڈیننس پر اپوزیشن اندر سے خوش ہے

اور اس پربینفشری( فائدہ اٹھانے والے ) ہی شورمچا رہے ہیں۔ نیب آرڈیننس

پارلیمنٹ میں پیش ہونے جارہا ہے، پارلیمنٹ میں جو چیز جائئے گی تو اس پر

پارلیمنٹ کی مہرکے بعد قانون بننا ہے۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی نے بتایا

کہ انسداد منشیات فورس ( اے این ایف ) کے ڈائریکٹر جنرل کو بھی کابینہ نے

بلوایا تھا اور ڈی جی اے این ایف نے وفاقی کابینہ کو رانا ثناء اللہ کے کیس بارے

بریف کیا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ نیب آرڈیننس کا معاملہ

پارلیمنٹ میں زیر بحث آئیگا اور اپوزیشن کی تجاویز کا خیر مقدم کریں گے- اس

کو بلڈوز ہونے نہیں دیں گے، 2020 عوام کی ترقی اور خوشحالی کا سال ہوگا ،

نئے سال کے پہلے ماہ غریب عوام کیلئے مزید سہولیات کا اعلان کیا جائے گا،

معاشی معاونت کیلئے فنانشل اسسٹنس کارڈ جاری کیا جائے گا- حکومت دیہاڑی

دار لوگوں کو لنگرخانوں کے ذریعے طعام فراہم کرنے کا بندوبست بھی کرے

گی، وزیر اعظم کی ہدایت کیمطابق معاشی اور اقتصادی بہتری کے ثمرات عوام

تک منتقل کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اجلاس میں

کشمیر میں جاری بھارتی بربریت پر مذمتی قرارداد منظور کی گئی- عالمی

برادری سے کشمیریوں پرظلم و ستم کا نوٹس لینے کی اپیل کی گئی۔ معاون

خصوصی نے کہا کہ کابینہ نے وزیراعظم کے پناہ گاہ پروگرام کو سراہا۔ ڈاکٹر

فردوس عاشق اعوان نے کہا یوٹیلٹی سٹورز پر ارزاں نرخوں پر اشیاء ضروریہ

کی دستیابی یقینی بنائی جائیگی- یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے صارفین کو 6 ارب

روپے کی سبسڈی دی جائیگی۔ جنوری میں مالیاتی معاونت کارڈ کا اجراء کیا جا

رہا ہے۔ سروے کے مطابق ایک نظام کے ذریعے ہم طبقے کی مالی تعاون کریں

اور دوسری طرف صحت کارڈ کے ذریعے صحت کی ضروریات پوری کی

جائیں گی۔

نیب آرڈیننس پارلیمنٹ

Leave a Reply