نیب اوربیورو کریسی کاکسی سیاسی جماعت نہیں پاکستان کے سا تھ تعلق ہے ،جسٹس(ر)جاوید اقبال

Spread the love

قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے وفاقی سیکرٹریز سے کابینہ ڈویژن میںخطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیوروکریسی ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔بیوروکریسی کا ملکی ترقی میں اہم کردار ہے۔بیوروکریسی کو کوئی بھی غلط قدم اٹھانے سے پہلے دس بار سوچنا چاہئے۔اعلی عدلیہ سمیت ملک کے مختلف اداروں میں اہم ذمہ داریاں سر انجام دی ہیں اس لئے بیوروکریسی کے مسائل سے آگاہ ہوں ۔نیب 1999میں قائم کیاگیا جبکہ میں چئیرمین نیب کی حیثیت سے گزشتہ 13ماہ سے کام کررہا ہوں اس عرصہ کے دوران نیب کو آزاد ادارہ بنانے کیلئے بھرپور کوشش کی جا رہی ہیں۔ تمام شعبو ں میں جامع اصلاحات کے ذریعے نیب کو فعال ادارہ بنایا گیا ہے۔ملکی ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک مضبوط ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ نیب کی وجہ سے بیوروکریسی نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔نیب کے ہزاروں مقدمات کا جائزہ لیا تو بیوروکریسی کے خلاف سامنے آنے والے مقدمات نہ ہونے کے برابر تھے۔یہ مذموم پروپیگنڈہ تھا جس کا مقصد نیب پر الزام تراشی اور بیوروکریسی کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ نیب ملک کا بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے نہ صرف قانون کے مطابق کام کرنے والا معتبر ادارہ ہے بلکہ قانون کے مطابق ہر شخص کی عزت نفس کا احترام کرنے کے علاوہ ان کے جائز خدشات کو قانون اور آئین کے مطابق حل کرنے پر یقین رکھتاہے۔انہوں نے کہا کہ نیب آپ کا اپنا اورانسان دوست ادارہ ہے ۔جس میں آپ کے تعاون سے مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب اور بیورو کریسی کا تعلق کسی گروپ ، گروہ ،طبقہ ،حکومت اور کسی سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ ہمارا تعلق پاکستان کے ساتھ ہے۔ہمیشہ ملک کے مفاد میں فیصلے کریں ،انہوں نے کہا کہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں لیکن ریاست پاکستان ہمیشہ قائم ودائم رہے گی۔حکومت پالیسی سازی کرتی ہے لیکن اس پر عملدرآمد کرنا بیوروکریسی کا کام ہے۔بیوروکریسی کو سیاسی دبائو کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہئے۔سزا کے خوف کی بجائے اللہ پر یقین رکھیں گے تو مشکلات حل ہوجائیں گی کیونکہ فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے بھی بیوروکریسی کے قانونی اقدامات کا تحفظ کیا جا رہا ہے۔سرکاری ملازم کے خلاف معمولی فیصلہ کو بھی واپس لیا جاتاہے۔اس وقت ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی ہے ۔ہم کیوں دبائو کے سامنے سرنگوں ہوں۔نیب پر زیادہ دبائو آتا ہے لیکن ہم اس کا سامنا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی قانون قواعد وضوابط اور آئین کے مطابق کام کرے ۔اگربیوروکریسی قانون کے مطابق کام کرے گی تو نیب آپ کو کیوں بلائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہاں کیسے کیسے چھکے لگ رہے ہیں ۔ہمیں ملک اور عوام کے مفاد میںکام کرنا ہو گا۔وزارتوں اور ڈویژنوں میں ادارہ جاتی نظام اتنا اچھاہو کہ معاملہ نیب تک نہ پہنچے۔بعدازاں چیئرمین نیب نے مختلف سیکرٹریز کے سوالات کے جوابات انتہائی مدلل اور موثر انداز میں دیئے جس پر وفاقی سیکرٹریز نے چیئرمین نیب کا شکریہ ادا کیا۔

Leave a Reply