نور مقدم کیس

نورمقدم کیس، قتل چھپانے کی کوشش کی گئی، سپریم کورٹ

Spread the love

نورمقدم کیس قتل

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نورمقدم کیس ایک سفاک قتل ہے

جس کو چھپانے کی کوشش کی گئی،ملزم انکار کرے تو ذہنی کیفیت نہیں دیکھی جاتی، یہ سوال

صرف اقرار جرم کی صورت میں اٹھتا ہے، جائزہ لیں گے کہ پولیس کو بلانے کی بجائے تھراپی کا

کیوں کہا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر

کے والدین ملزمان ذاکر جعفر اورعصمت جعفر کی ضمانتوں کی درخواست پر سماعت ہوئی، کیس کی

سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ ملزمان کے وکیل خواجہ حارث

نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دونوں درخواست گزار مرکزی ملزمان نہیں، ان پر قتل

چھپانے اور پولیس کو اطلاع نہ دنیا کا الزام ہے، قتل چھپانے کے حوالے سے ملزم کا بیان اور کالز

ریکارڈ ہی شواہد ہیں، ملزم اپنے والدین سے پونے 7 بجے سے 9 بجے تک رابطے میں رہا، والد کے

بات ہونے کے شواہد نہیں ہیں۔ جسٹس قاضی محمد امین نے ریمارکس دیئے کہ ضمانت کے مقدمہ میں

اپنے رائے دے کر ہم پراسیکوشن کے مقدمہ کو تو ختم نہیں کر سکتے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے

ریمارکس دیئے کہ ممکن ہے کالز میں والد قتل کا کہہ رہا ہو، یہ بھی ممکن ہے روک رہا ہو۔ وکیل

خواجہ حارث نے موقف دیا کہ یہ بھی ممکن ہے بیٹا باپ کو سچ بتا ہی نہ رہا ہو۔ جسٹس منصور علی

شاہ نے استفسار کیا کہ کیا ملزم کی ذہنی حالت جانچنے کیلئے میڈیکل کروایا گیا؟۔ وکیل مدعی شاہ

خاور نے مقف دیا کہ ملزم کا صرف منشیات کا ٹیسٹ کروایا گیا ہے، ذہنی کیفیت جانچنے کیلئے کوئی

معائئنہ نہیں ہوا۔ جسٹس قاضی محمد امین نے ریمارکس دیئے کہ ملزم انکار کرے تو ذہنی کیفیت نہیں

دیکھی جاتی، ذہنی کیفیت کا سوال صرف اقرار جرم کی صورت میں اٹھتا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ

نے استفسار کیا کہ ٹرائل کی کیا صورتحال ہے؟۔ ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ فرد جرم

عائد ہو چکی، 8 ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کی ہدایت بھی ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے

ریمارکس دیئے کہ بظاہر ماں کے جرم میں شامل کے شواہد نہیں۔ ملزمان کے وکیل خواجہ حارث نے

جواب دیا کہ ماں نے گارڈ کو دو کالز کیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ایک سفاک

قتل ہے جس کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔ جسٹس قاضی محمد امین نے ریمارکس دیئے کہ وقوعہ

کے بعد بھی ملزمان کا رویہ دیکھا جاتا ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ والدہ کی بھی 11کالز

کا ریکارڈ موجود ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ جائزہ لیں گے کہ پولیس کو

بلانے کی بجائے تھراپی کا کیوں کہا گیا۔ سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر

جعفر کی والدہ عصمت بی بی کی ضمانت دس لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی

جبکہ ملزم کے والد ذاکر جعفر کی ضمانت کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی،عدالت

نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا دو ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا ۔

نورمقدم کیس قتل

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply