ایون فیلڈ کیس، نواز شریف سے جرمانے کی وصولی شروع

Spread the love

نواز شریف سے جرمانے وصولی

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) قومی احتساب بیورو(نیب) نے ایون فیلڈ کیس میں مسلم

لیگ(ن)کے قائد نواز شریف سے 8 ملین پاونڈ جرمانے کی رقم کی وصولی کیلئے کارروائی شروع

کردی۔ تفصیلات کے مطابق نیب لاہور نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں نواز شریف سے 8 ملین پاونڈ

کی برآمدگی کیلئے کارروائی کا آغاز کردیا۔ نیب نے عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد کیلئے متعلقہ ڈپٹی

کمشنرز (ڈی سیز) کو سابق وزیر اعظم کی جائیدادیں فروخت کرنے کیلئے مراسلے ارسال کر دیے۔

مراسلے میں کہا گیا کہ احتساب عدالت اسلام آباد نے نواز شریف کو 2018 میں 10 سال قید اور 8

ملین پاونڈ جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ سزا کے خلاف نواز شریف نے اپیل دائر کی لیکن اسلام آباد

ہائیکورٹ نے اپیل مسترد کی جبکہ سپریم کورٹ میں اپیل نہ کرنے کی وجہ سے نواز شریف کو دی

گئی سزا حتمی تصور ہوگی۔ نیب کے مطابق نواز شریف نے جرمانے کی رقم تاحال جمع نہیں کرائی،

اس لئے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے جائیدادیں فروخت کی جائیں اور جرمانے کی رقم

وصول کی جائے۔دوسری طرف اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی

پر مشتمل ڈویڑن بینچ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی سزا بڑھانے کی

نیب اپیل پر سماعت کی نیب پراسیکیوٹر عثمان جی راشد اور بیرسٹر رضوان عدالت کے سامنے پیش

ہوئے نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ عدالت نے نواز شریف کو قصور وار پایا لیکن زیادہ سے

زیادہ سزا نہیں دی ہماری استدعا یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے جس پر جسٹس عامر فاروق

نے کہا کہ نواز شریف نے سزا کیخلاف جو اپیل کی تھی وہ خارج ہو چکی نوازشریف خود بھی اب

موجود نہیں ہیں تو آپ کی اپیل آگے کیسے چلے گی؟کیا ہم میرٹ پر جا کر پورا کیس دیکھیں گے؟ کیا

احتساب عدالت نے شواہد سے مطمئن ہو کر سزا دی؟کیا احتساب عدالت نے کچھ لکھا نہیں کہ زیادہ

سے زیادہ سزا کیوں دے رہے ہیں؟جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ زیادہ سزا نہ دینا وہاں

ہوتا ہے جہاں کوئی آلہ قتل یا کوئی چیز نہ ملی ہویہاں مختلف معاہدے شواہد کی صورت میں موجود

تھے اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر نوازشریف موجود ہی نہیں تو کیا ہم ان کی عدم

موجودگی میں آپ کی اپیل سنیں؟جس پر نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ جی اگر وہ موجود نہیں ہیں تو

ان کی عدم موجودگی میں اپیل چلائی جائے جس پر عدالت نے کہا کہ ایک خلاصہ بنا کر آئندہ سماعت

پر پیش کریں آپ کیسے کیس چلانا چاہتے ہیں اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ہم آپ کے

سامنے عدالتی فیصلے بھی رکھیں گے کیس کس طرح آگے بڑھانا ہے اس پر معاونت کیلئے وقت

چائییاس کیس کی ایون فیلڈ سے کافی مماثلت ہے جس پر عدالت نے کہا کہ آپ اس کیس میں شواہد تو

نہیں پڑھیں گے نا؟ اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ بیک گراونڈ بتانے کیلئے کچھ

حقائق سامنے رکھنا ہوں گے کیس کی سماعت تین نومبر تک ملتوی کر دی گئی ۔اپوزیشن لیڈر شہباز

شریف نے کہا ہے کہ نواز شریف کی جائیداد سے متعلق نیب کا اقدام نیب نیازی کی گھٹیا سازش اور

چیرا دستیاں ہیں۔ میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا چیئرمین نیب کی مدت ملازمت

میں توسیع بارے کسی نے رابطہ نہیں کیا۔چیئرمین نیب کی تقرری اور توسیع پر پارٹی مشاورت جاری

ہے، ۔الیکشن کمیشن ممبران کی تقرری سے متعلق خط کا جواب دیدیا ہے نواز شریف جرمانہ

نواز شریف سے جرمانے وصولی

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply