Nawaz Sharif and Fazalur Rehman

نوازشریف کی فضل الرحمان کو استعفوں سے متعلق بڑی پیشکش

Spread the love

لاہور ( جے ٹی ین آن لائن پاکستان نیوز ) نوازشریف فضل الرحمن

قائد پاکستان مسلم لیگ (ن) اور سابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے صدر پی ڈی

ایم مولانا فضل الرحمان کو استعفوں سے متعلق بڑی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے

کوئی اور جماعت مانے نہ مانے ہمارے ارکان اسمبلی استعفے دینے کیلئے تیار

ہیں، بحیثیت سربراہ پی ڈی ایم جب چاہیں استعفوں کا اعلان کریں آپ بااختیار ہیں-

ذرائع کا کہنا ہے کہ آج پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہو گا جس میں لانگ مارچ

اور استعفے دینے سے متعلق حکمت عملی طے کی جائے گی، کیونکہ سینیٹ میں

چیئرمین کے الیکشن کے بعد پی ڈی ایم، مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور جے یوآئی

ف اور دیگر جماعتیں شدید سیاسی ردعمل دینے کیلئے تیار ہیں۔

=-= یہ بھی پڑھیں: آج استعفوں پر بات ہو گی ، مریم نواز
————————————————————————-

تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے پیر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے

کہا آج منگل کو پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں لانگ مارچ کے حوالے سے

حتمی حکمت عملی طے کی جائے گی، پارلیمنٹ سے استعفے دینے کے معاملے

پر بھی بات چیت ہوگی۔ ویسے بھی لانگ مارچ اسمبلیوں سے استعفے دیئے بغیر

فائدہ مند نہیں ہوگا، 2018ء سے ملکی سیاست میں مداخلت ہے، ساری قوم دیکھ

چکی سینیٹ ہال میں الیکشن بوتھ میں کیمرے کس نے لگائے گئے، مریم نواز کو

دھمکیاں دینے سمیت انکی ضمانت منسوخی کیلئے نیب کا کورٹ سے رجوع اور

دعویٰ کہ وہ ضمانت پر رہائی کا ناجائز فائدہ اٹھاتی ہیں، اداروں کیخلاف بولتی

ہیں، کیا نیب اداروں کا ترجمان ہے۔ اگر نیب کی ذمہ داری کرپشن کا خاتمہ اور

احتساب کرنا ہے تو دیگر اداروں کے ترجمان بننے سے ہمارے اس دعوے کی

تصدیق ہوتی ہے یہ ادارہ طاقتور اداروں کی کٹھ پتلی اور حق نمک ادا کررہا ہے۔

ایسی صورتحال میں عدالتیں آخری امید ہیں-

=-= لانگ مارچ ایک دن کا نہیں ہو گا، فضل الرحمن

مولانا فضل الرحمن نے کہا سینیٹ میں جائز ووٹ مسترد کرنے کے بعد یہ ملبہ

بھی عدالت پر ڈال دیا گیا ہے۔ تقریباً 2 ارب روپے کے نادہندہ کو الیکشن میں حصہ

لینے کی اجازت کیوں دی گئی، اس پر کسی امیدوار نے اعتراض نہیں کیا جبکہ ہم

الیکشن لڑنے کیلئے کاغذاتِ نامزدگی داخل کریں تو ہمیں فوری طور پر الیکشن

کمیشن اور محکمے کہتے ہیں آپ فلاں چیز کے نادہندہ ہیں تو یہاں پر کیا سارے

ادارے اندھے ہوچکے تھے، صرف مدِ مقابل امیدوار کی ذمہ داری ہے وہ اعتراض

کرے۔ ملکی سیاست آئین پاکستان کے مطابق نہیں چل رہی، ہم الیکشن کو دھاندلی

زدہ قرار دیتے ہیں یہ قطعی اور واضح موقف ہے، پھر ڈھائی سال کے عرصے

میں معیشت تباہ، عام آدمی کی زندگی تباہ کردی گئی، قوم کا فرض ہے وہ اپنا قومی

فرض ادا کرے۔ سینٹ میں چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں شکست سے

متعلق بھی پی ڈی ایم کے اجلاس میں گفتگو ہو گی۔ یہ ہر جماعت کیساتھ بارہا ہوا

ان کے اراکین نے اپنا ووٹ غلط استعمال کیا لیکن اسے پارٹی پالیسی قرار نہیں دیا

جا سکتا، اپوزیشن متحد ہے اور اسے متحد رکھیں گے۔ لانگ مارچ ایک دن کا نہیں

ہو گا۔

نوازشریف فضل الرحمن

=قارئین=: کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply