Ex Prime-minister Nawaz Sharif Medical Checkup at services hospital Lahore

نوازشریف کی طبیعت تشویشناک، علاج کیلئے بیرون ملک جانے سے پھر انکار

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور(جتن آن لائن نیوز رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) نوازشریف طبعیت

مسلم لیگ (ن ) کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف کے پلیٹ لیٹس میں اتار چڑھاؤ جاری ہے- لیول پھر 30 ہزار پر آنے پرمیڈیکل بورڈ نےتشویش کا اظہارکیا ہے۔ نوازشر یف نے علاج کیلئے بیرون ملک جانے سے پھر انکار کر دیا- علاج کیلئے لندن سے ڈاکٹروں کی ٹیم کا بھی پاکستان آنے کا امکان ہے۔

والدہ اور بھائی بھی بیرون ملک علاج کیلئے آمادہ نہ کرسکے، ذرائع

ذرائع کے مطابق والدہ شمیم بیگم اور (ن) لیگ کے صدر شہبازشر یف بھی نواز شریف کو بیرون ملک علاج کیلئے آمادہ کرنے میں ناکام رہے، شریف خاندان کے ذرائع کا بھی کہنا ہے نوازشریف کسی صورت بیرون ملک سے علاج کروانے کیلئے تیار نہیں- نواز شریف اپنا علاج کراچی یا لاہور کے کسی ہسپتال سے کروانا چاہتے ہیں-

یہ بھی پڑھیں: نوازشریف کی طبی بنیادوں پرعبوری ضمانت منظور

نوازشریف قریبی رشتہ داروں پر بھی واضح کر چکے ہیں وہ کسی صورت بھی ملک سے باہر نہیں جائیں گے- طویل عرصے سے انکا معالج لندن میں مقیم ہے اور وہ برطانیہ کے ہسپتالوں میں انکا علاج کرتے رہے ہیں لیکن وہ اب پاکستان میں رہ کر ہی اپنا علاج کروانا چاہتے ہیں- مر یم نوازشریف نے بھی اپنے والد کے موقف کی حمایت کردی۔

لندن سے ڈاکٹر وں کی ٹیم کی ایک دو روز میں آمد متوقع

ذرائع کا کہنا ہے ڈاکٹروں کی ٹیمیں آئندہ ایک دو روز میں پاکستان پہنچ سکتی ہیں جو سروسز ہسپتال میں زیرعلاج نوازشریف کے تمام ٹیسٹ رپورٹس کا ازسرنو جائزہ اور میڈیکل بورڈ میں شامل ڈاکٹرز سے بات چیت کرینگی۔ دوسری طرف شریف خاندان میڈیکل بورڈ کی مشاورت سے ہسپتال تبدیلی کا فیصلہ کرے گا۔

ہسپتال میں عیادت کیلئے سیاسی شخصیات کی آمد جاری

مریم نواز، والد کی تیمارداری کیلئے سروسز ہسپتال میں موجود ہیں۔ نوازشریف دونوں کیسز میں ضمانتیں ہونے کے بعد قانونی طور پر آزاد ہیں، ضمانت کے بعد سابق وزیراعظم کو شریف میڈیکل کمپلیکس یا اتفاق ہسپتال منتقل کئے جانے کا امکان ہے، سیاسی شخصیات کی جانب سے نواز شریف کی تیمارداری کیلئے ہسپتال آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

نوازشریف طبعیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply