زرداری نواز ٹیلیفونک رابطہ

نوازشریف جنگ کیلئے تیار ہیں تو واپس آئیں سب کو مل کر جیل جانا پڑے گا ،آصف زرداری

Spread the love

نوازشریف جنگ کیلئے تیار

اسلا م آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے

حکومت کے خلاف لانگ مارچ ملتوی کردیا۔پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کے بعد جمعیت علمائے

اسلام و اپوزیشن اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا

کہ سربراہی اجلاس میں نوازشریف، آصف زرداری، ڈاکٹر جمالدین ویڈیو لنک کے ذریعے شریک

ہوئے اور اجلاس کا ایجنڈا 26 مارچ کے لانگ مارچ کے حوالے سے تھا۔انہوں نے کہا کہ سربراہی

اجلاس میں 9 جماعتیں استعفوں کے حق میں تھیں اور اس کیلئے پیپلزپارٹی نے وقت مانگا ہے لہٰذا 26

مارچ کا لانگ مارچ پیپلزپارٹی کے جواب تک ملتوی تصور کیا جائے۔اجلاس کے دوران 9جماعتیں

استعفوں لانگ مارچ کے ساتھ منسل کرنے کے حق مین تھیں تاہم پیپلز پارٹی نے تھفظات کا اظہار کیا

اور اس معاملے کے اپنی پارٹی کی سی ای سی کے اجلاس میں رکھنے کیلئے وقت مانگا ۔ اب جب

تک پیپلز پارٹی اس حوالے سے جواب نہیں دیتی اس وقت تک لانگ مارچ ملتوی سمجھا جائے اس

اعلان کے ساتھ ہی مولانا فضل الرحمان پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ کر چلے گئے۔ اس سے قبل پی

ڈی ایم کے اجلاس میں مسلم لیگ ن نے تجویز دی کہ استعفے دینے کی واضح ڈیڈ لائن کا اعلان کیا

جائے، تمام ارکان اسمبلی اپنے استعفے مولانا فضل الرحمان کے پاس جمع کروا دیں، مولانا فضل

الرحمان کو لانگ مارچ اور استعفوں کا آپشن استعمال کرنے کا اختیار دیا جائے پی ڈی ایم کے صدر

مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ہوا، اجلاس میں لانگ مارچ اور

استعفوں کے متعلق تجاویز پیش کیگئیں۔ن لیگ نے تمام اراکین پارلیمنٹ کے استعفے مولانا فضل

الرحمن کے پاس جمع کرانے کی تجویز دی۔ اسی طرح اپوزیشن کی تمام چھوٹی جماعتوں نے

اسمبلیوں سے استعفوں کے حق میں رائے دے دی۔ محمود خان اچکزئی، آفتاب شیر پا، امیر حیدر خان

ہوتی نے کہا کہ اسمبلیوں سے استعفوں کے حق میں ہیں۔ن لیگ نے تجویز دی کہ فضل الرحمان کو

دھرنے کے دوران یا بعد میں استعفوں کا آپشن استعمال کرنے کا اختیار دینے کی تجویز دی۔ مولانا

فضل الرحمان نے کہا کہ مولانا غفور حیدری کو7 ووٹ کم ملنے کی تحقیقات ضروری ہیں۔ پیپلزپارٹی

نے مؤقف اپنایا کہ پی ڈی ایم کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کو سب نے ووٹ دیا۔ پریزائیڈنگ افسر

نے جانبداری اور بدنیتی سے ووٹ مسترد کیے۔ متعلقہ ریکارڈ ملتے ہی ووٹ مسترد کرنے کا معاملہ

عدالت لے جائیں گے۔اس سے قبل گزشتہ مسلم لیگ ن کے اجلاس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف

نے مولانا فضل الرحمان کو بڑی آفر کی تھی کہ آپ جب چاہیں استعفے دے سکتے ہیں، آپ بطور پی

ڈی ایم صدر استعفوں کے اعلان میں بااختیار ہیں، ہم استعفے دینے کو تیار ہیں۔ مسلم لیگ ن کے تمام

ارکان کے استعفے آپ کے حوالے کرنے کو تیار ہیں، کوئی اور جماعت مانے نہ مانے ہم استعفے

دینے کیلئے تیار ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ میاں

نواز شریف صاحب پلیز پاکستان تشریف لائیں۔ نواز شریف اگر جنگ کے لئے تیار ہیں تو لانگ مارچ

ہو یا عدم اعتماد کا معاملہ، انہیں وطن واپس آنا ہوگا۔ اسمبلیوں کو چھوڑنا عمران خان کو مضبوط

کرنے کے مترادف ہے۔ ہم پہاڑوں پر سے نہیں بلکہ پارلیمان میں رہ کر لڑتے ہیں۔ آصف زرداری کا

کہنا تھا کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ جمہوری قوتوں نے دھاندلی کا سامنا کیا ہے، میں نے اپنی زندگی

کے 14 برس جیل میں گزارے ہیں۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میاں صاحب پلیز

پاکستان تشریف لائیں، اگر لڑنا ہے تو ہم سب کو جیل جانا پڑے گا۔ جب 1986 اور 2007 میں شہید بی

بی وطن آئیں تو ہم نے پورے ملک کو متحرک کیا تھا۔سابق صدر کا کہنا تھا کہ ہمیں لانگ مارچ کی

ایسی ہی منصوبہ بندی کرنا ہوگی کہ جیسے 1986 اور 2007 میں شہید بی بی کی آمد پر کی تھی۔

مجھے کسی کا کوئی ڈر نہیں۔ تاہم جدوجہد ذاتی عناد کے بجائے جمہوری اداروں کے استحکام کی

جدوجہد کیلئے ہونا چاہیے۔آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ہم نے سینیٹ انتخابات لڑے اور سینیٹر

اسحاق ڈار ووٹ ڈالنے نہیں آئے، میاں صاحب، آپ کیسے عوامی مسائل حل کریں گے؟ آپ نے اپنے

دور میں تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا، میں نے اپنے دور میں تنخواہوں میں اضافہ کیا۔ان کا کہا تھا کہ

نواز شریف اگر جنگ کے لئے تیار ہیں تو لانگ مارچ ہو یا عدم اعتماد کا معاملہ، آپ کو وطن واپس

آنا ہوگا۔ میں جنگ کے لئے تیار ہوں مگر شاید میرا ڈومیسائل مختلف ہے۔ آپ پنجاب کی نمائندگی

کرتے ہیں، میں نے پارلیمان کو اختیارات دیئے۔سابق صدر کا کہنا تھا کہ میں نے 18ویں آئینی ترمیم

اور این ایف سی منظور کیا جس کی مجھے اور میری پارٹی کو سزا دی گئی۔ ہم اپنی آخری سانس تک

جدوجہد کے لئے تیار ہیں۔ اسمبلیوں کو چھوڑنا عمران خان کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔ ایسے

فیصلے نہ کئے جائیں کہ جس سے ہماری راہیں جدا ہوجائیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے انتشار کا فائدہ

جمہوریت کے دشمنوں کوہو گا، پاکستان پیپلزپارٹی ایک جمہوری پارٹی ہے، ہم پہاڑوں پر سے نہیں

بلکہ پارلیمان میں رہ کر لڑتے ہیں۔جواب میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے سابق

صدر آصف علی زرداری سے کہا کہ وہ گارنٹی دیں کہ میرے والد کی جان کو وطن واپسی پر کوئی

خطرہ نہیں ہوگا۔ مریم نواز شریف نے آصف زرداری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد

صاحب کی جان کو خطرہ ہے، وہ وطن واپس کیسے آئیں؟مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ آصف

زرداری آصف زرداری گارنٹی دیں کہ میرے والد کی جان کو پاکستان میں خطرہ نہیں ہوگا۔ دریں اثنا

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہی اجلاس میں ہونے والی گرما گرمی پر سابق

صدر آصف علی زرداری نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز سے معذرت کرلی۔ آصف علی

زرداری نے کہا کہ میرا مقصد آپ کا دل دکھانا نہیں تھا۔ مریم نے جواب میں کہا کہ میں نے خود

کوآصفہ یا بختاورسمجھ کرآپ سے بات کی، میرا مقصد آپ کی دل آزاری نہیں تھا اور نہ ہی میرا

مقصد آپ سے معذرت کروانا تھا۔ مریم نواز نے کہا کہ میں نے خود کو آپ کی بیٹی سمجھ کرآپ سے

گلہ کرنا اپنا حق سمجھا، اس بات کو یہاں اب ختم کردیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم

لیگ ن کی نائب صدر مریم نوازنے کہاسب سے سخت اور لمبی جیل میاں نواز شریف نے کاٹی

ہے،نواز شریف ابھی صحت یاب نہیں ہوئے، کسی کو انہیں بلانے کا حق نہیں پیپلز پارٹی کے استعفوں

کے فیصلے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ جب تک پیپلز پارٹی

واپس آکر جواب نہیں دیتی قیاس آرائی نہیں کرسکتی۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو واپس

بلانا ان کی زندگی قاتلوں کے حوالے کرنا ہوگا، انہیں بلا کر ان کی زندگی خطرے میں نہیں دال

سکتے، ملک کو نواز شریف کی صلاحیتوں اور بصیرت کی ضرورت ہے۔

نوازشریف جنگ کیلئے تیار

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply