97

قائد مسلم لیگ (ن) نوازشریف نے ایک اور غلطی کا اعتراف کر لیا

Spread the love

لاہور(جے ٹی این آن لائن کر ائم رپو رٹر) نوازشریف اعتراف

احتساب عدالت کے جج چودھری امیرخان نے چودھری شوگر ملز کیس میں سابق

وزیراعظم نواز شریف کو 14روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا ہے ۔

عدالتی سماعت کے موقع پر نواز شریف نے کہا گوانتا ناموبے یاکالے پانیوں کو

بھجوانا چاہتے ہیں بھجوا دیں مگر سر نہیں جھکائوں گا۔ عدالتی سماعت کے موقع

پر کارکنوں اور مسلم لیگ (ن) کے وکلا ء کی طرف سے نعرے بازی کی جاتی

رہی جبکہ دھکم پیل کی وجہ سے عدالت میں رکھی میز بھی ٹوٹ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان جلد انجام کو پہنچنے والے ہیں، نوازشریف

گزشتہ روز نواز شریف کو نیب نے سخت سکیورٹی میں کوٹ لکھپت جیل سے

لا کر احتساب عدالت میں پیش کیا، کیس کی سماعت شروع ہوئی توعدالتی حکم پر

نواز شریف روسٹرم پرپیش ہوئے، نیب کے تفتیشی افسرنے 15 روزہ جسمانی

ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا نواز شریف منی لانڈرنگ میں ملوث رہے جس

کی تفتیش باقی ہے، آف شور کمپنی بنا کر رقوم چودھری شوگر ملز کے اکائونٹ

میں ٹرانسفر ہوئیں، نواز شریف ملک کے وزیراعظم تھے جب چودھری شوگر

ملز قائم ہوئی، انہوں نے اختیارات کا ناجائزاستعمال کیا، سابق وزیراعظم نواز

شریف نے عدالت میں کہا انہیں راستے سے ہٹانے کیلئے جھوٹے کیس بنائے

گئے، یہ چاہتے ہیں ان کے سامنے جھک جاؤں، میں نے کب نیب سے تعاون نہیں

کیا؟ جو معلوم تھا انہیں بتا دیا، ان کے پاس میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں، آجا کر

ہمارے کاروبار اوراثاثوں کی چھان کرتے ہیں، اگرمجھے کالا پانی یا گوانتا

ناموبے لے جانا چاہتے ہیں لے جائیں، میں توپہلے ہی قید کاٹ رہا ہوں، ہم ڈٹے

اور کھڑے ہیں، جم کر مقابلہ کریں گے، اگر یہ سمجھتے ہیں مسلم لیگ (ن ) کو

دیوار سے لگا دیں گے تو یہ ان کی بھول ہے، نواز شریف کے اس بیان پرکمرہ

عدالت نعروں سے گونج اٹھا جس پر عدالت نے ناراضی کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کی بریت کیخلاف نیب کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

نیب کی جانب سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا نواز شریف چودھری شوگر

مل کے شیئر ہولڈر تھے، ان کے اکائونٹ میں بیرون ملک سے ایک کروڑ 55

لاکھ روپے کی رقم ایک کمپنی نے بھجوائی، اسی طرح کافی رقم آنے کی

اطلاعات ہیں، اس حوالے سے مزید تفتیش درکارہے، فاضل عدالت سے استدعا

ہے نواز شریف کا 15 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے، نواز شریف کے وکیل امجد

پرویز ملک نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا نیب کے پاس تمام

ریکارڈ موجود ہے، نیب سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے، جے آئی ٹی پاناما کیس

کے دوران تفتیش کر چکی ہے، شیئرز کی منتقلی کی تمام باتیں بے بنیاد ہیں،

عدالت نے نیب کی استدعا منظور کرتے ہوئے 14 روز کے جسمانی پر نواز

شریف کو نیب کے حوالے کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزید سماعت 25 اکتوبرتک

ملتوی کردی۔

نیب ڈے کیئر سینٹر سب جیل قرار

نوازشریف کیلئے نیب ڈے کیئر سینٹر کو سب جیل کا درجہ دیا جائے گا جبکہ

سکیورٹی کیلئے اضافی نفری تعینات رہے گی۔ نواز شریف کو احتساب عدالت

سے سب جیل پہنچاتے ہی انکا تفصیلی طبی معائنہ کیا گیا۔

کالے پانی بھیج دیں سر جھکایا نہ جھکائوں
گا، نواز شریف

قبل ازیں عدالتی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے

کہا جینا ذلت سے ہو تو مرنا اچھا! اللہ کے فضل سے کوئی ہمارا سر نہیں جھکا،

ایک دمڑی کی کرپشن نہیں کی، جہاں مرضی لے جائیں ایک پیسہ بھی کرپشن کا

ثابت نہیں کر سکتے، نواز شریف کا کہنا تھا ان کا سرجھکایا نہیں جا سکتا ووٹ

کو عزت دو پر پہلے بھی ڈٹا تھا اور اب بھی قائم ہوں، کرپشن نہیں بلکہ ووٹ کو

عزت دو کے نعرہ کی وجہ سے آج اس جگہ پر ہوں، دنیا میں عزت کمانے کیلئے

ووٹ کو عزت دینا ہو گی۔ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کی مکمل حمایت

کرتے ہوئے قائد (ن) لیگ نوازشریف اعتراف کیا کہ عام انتخابات کے بعد

مولانا نے اسمبلیوں سے استعفے دینے اور احتجاج کا کہا، اب سمجھتا ہوں ان کی

بات کو رد کرنا بالکل غلط تھا، شہباز شریف کو خط میں سب کچھ لکھ کر بھیج

دیا ہے اور مسلم لیگ (ن) مولانا فضل الرحمن کیساتھ ہے۔

لیگی رہنمائوں، کارکنوں کا قائد سے اظہار یکجہتی،
عوام خوار

عدالتی پیشی کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں کی بڑی تعداد اپنے قائد

سے اظہار یکجہتی کیلئے احتساب عدالت میں موجود تھی، عدالتی سماعت کے

موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس کی بھاری نفری

عدالت کے اندر اور باہر تعینات کی گئی تھی، عدالت جانیوالے راستوں کو خار

دار تاریں اور کنٹینرز لگا کر بن کردیا گیا جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا

سامنا کرنا پڑا۔

نوازشریف اعتراف

Leave a Reply