Captain M.Sarwar Shaheed

دشمن آج بھی خائف، پہلا نشان حیدر پانیوالے کیپٹن سرور کا 72 واں یوم شہادت

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) نشان حیدر کیپٹن سرور

کیپٹن محمد سرور شہید کا 72 واں یوم شہادت آج منایا جارہا ہے، آئی ایس پی

آر کی جانب سے ان کے یوم شہادت پر جاری خصوصی پیغام میں کہا گیا ہے

کہ قوم 1948 کی کشمیر جنگ میں نشان حیدر پانے والے کیپٹن محمد سرور

شہید کی عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ ان کا ناقابل تسخیر

حوصلہ اور غیر متزلزل وفاداری ہمیشہ کیلئے عزم و ہمت کی مثال بنے رہے

گی-

یہ بھی پڑھیں : شہید میجر محمد اکرم ( نشان حیدر) کا یوم پیدائش

شہید کیپٹن محمد سرور 10 نومبر 1910 کو راولپنڈی کی تحصیل گوجر خان

کے قصبے سنگھوری میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم فیصل آباد سے حاصل کی،

1929 میں انہوں نے فوج میں بطور سپاہی شمولیت اختیار کی، 1944 میں

پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا، جس کے بعد انہوں نے برطانیہ کی جانب

سے دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا، شاندار فوجی خدمات کے پیشِ نظر

1946 میں انہیں مستقل طور پر کیپٹن کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔

1948 میں کشمیر میں آپریشن پر مامور تھے

قیام پاکستان کے بعد سرور شہید نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کرلی۔ 1948 میں جب وہ پنجاب رجمنٹ کے سیکنڈ بٹالین میں کمپنی کمانڈر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے، جب انہیں کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا۔

دشمن کی اہم فوجی پوزیشن میں داخل ہو کر حملہ بیمثال جذبہ

27 جولائی 1948 کو انہوں نے کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا۔ اس حملے میں مجاہدین کی ایک بڑی تعداد شہید اور زخمی ہوئی لیکن کیپٹن سرور نے پیش قدمی جاری رکھی۔ دشمن کے مورچے کے قریب پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ دشمن نے اپنے مورچوں کو خاردار تاروں سے محفوظ کر لیا ہے، اس کے باوجود کیپٹن سرور مسلسل فائرنگ کرتے رہے ۔ کارروائی کے دوران دشمن کی کئی گولیاں ان کے جسم میں پیوست ہو چکی تھیں لیکن انہوں نے بے مثال جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسی گن کا چارج لیا جس کا جوان شہید ہو چکا تھا-

دشمن پر ایسا بھرپور حملہ کیا کہ وہ مورچے چھوڑ کر بھاگ گئے

اپنے زخموں کی پروا کیے بغیر 6 ساتھیوں کے ہمراہ انہوں نے خاردار تاروں کو عبور کر کے دشمن کے مورچے پر آخری حملہ کیا۔ دشمن نے اس اچانک حملے کے بعد اپنی توپوں کا رخ کپٹن سرور کی جانب کر دیا، یوں ایک گولی کپٹن سرور کے سینے میں لگی اور انہوں نے وہاں شہادت پائی، مجاہدین نے جب انہیں شہید ہوتے دیکھا تو انہوں نے دشمن پر ایسا بھرپور حملہ کیا کہ وہ مورچے چھوڑ کربھاگ گئے۔

نشانِ حیدر شہید کی بیوہ کرم جان نے 3 جنوری 1961 کو وصول کیا

ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں جہاں انہیں مختلف اعزازات سے نوازا گیا، وہیں 27 اکتوبر 1959 کو انہیں نشانِ حیدر کے اعلی ترین اعزاز سے نوازا گیا، انہیں پہلا نشانِ حیدر پانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہ اعزاز انکی بیوہ کرم جان نے 3 جنوری 1961 کو صدر پاکستان محمد ایوب خان کے ہاتھوں وصول کیا تھا۔

کیپٹن سرور شہید آج بھی پاک فوج کے جری سپوتوں کیلئے بہادری کی مثال

مادر وطن کی خاطر بیرونی دشمنوں کیخلاف جنگ لڑنے والے کیپٹن سرور شہید آج دہشتگردوں اور اندرونی چیلنجز سے نبردآزما پاک فوج کے جری سپوتوں کے لئے بہادری کی روشن مثال ہیں۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

نشان حیدر کیپٹن سرور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply