sachi kahaniya jtnonline

ندیم کی ماں سے محبت، خاتون گاہک اور سٹور مالکان

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(جے ٹی این آن لائن بچوں کی دنیا) ندیم محبت خاتون گاہک

تنگ دستی اورغربت بڑھ رہی تھی۔ حالات ایسے تھے کہ ندیم اور نعیم جودونوں

بھائی تھے سکول بھی نہیں جا سکتے تھے۔ ان کے ابو نے حالات میں بہتری لانے

کے لئے گاوؤں چھوڑ کر شہر جانے کا فیصلہ کیا۔

=—= ندیم اور نعیم شہر منقتل ہو گئے

شہر میں آکر ان کے والد نے محنت مزدوری شروع کردی اور حالات بہتر کرنے

کے لئے ان دونوں بھائیوں کو بھی چھوٹے چھوٹے کاموں پر لگا دیا۔

=—= ندیم اور نعیم نے سٹور پر ملازمت کر لی

ندیم کو ایک سٹور پر ملازمت ملی۔ اب وہ سارا دن سٹور پر رہتا۔ گاہک آتے رہتے۔

وہ انہیں ان کی مطلوبہ چیزیں نکال کر دیتا۔ کاپیاں، پنسلیں، کلرزوغیرہ، ویسے بھی

اس سٹور پر زیادہ پڑھنے لکھنے کی چیزیں تھیں۔

=—= خاتون گاہک کی نصیحت نے ندیم کی زندگی ہی بدل دی

ایک دن سٹور پر ایک خاتون آئیں۔ وہ بچوں کی کہانیاں لکھتی تھیں۔ ندیم کو معلوم

ہوا تو اس نے کہا میری کہانی بھی لکھ دیں۔ وہ خاتون بولیں تمہیں کیسی کہانیاں

پسندہیں؟ ندیم نے کہا، آنٹی ماں کی کہانی لکھ دیں، کیونکہ میری امی فوت ہو چکی

ہیں۔

=—= ندیم کی ماں سے محبت اور خاتون گاہک کی حوصلہ افزائی

ٹھیک ہے، آنٹی نے کہا، لیکن ایک بات مانو گے؟ جی، ندیم نے کہا، تم نے کہا کہ

ماں کی کہانی لکھ دیں۔ اس کا مطلب ہے کہ تمہیں اپنی ماں سے بہت محبت ہے اور

ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بیٹا پڑھے، اگر تم سکول نہیں جا سکے تو

فارغ وقت میں پڑھ سکتے ہو، تھوڑی سی کوشش سے اور کسی کی مدد سے تمہیں

لکھنا پڑھنا آجائے گا، اس طرح تمہیں کہانیاں پڑھنی آجائیں گی اچھائی اور برائی

کا پتہ چلے گا۔ کیونکہ تعلیم ہی اچھی زندگی گزارنے کا طریقہ بتاتی ہے۔ ایک

پڑھے لکھے انسان اور ان پڑھ میں بہت فرق ہوتا ہے۔ بہت سے ایسے بچوں کی

مثالیں موجود ہیں جو چھوٹی عمر میں سکول نہیں جا سکے، لیکن جب انھیں تعلیم

کی اہمیت کا احساس ہوا تو انہوں نے پڑھنا شروع کر دیا۔ تعلیم کے لئے عمر کی

کوئی قید نہیں ہوتی۔

=—= ندیم کے سٹور مالکان کی خدا ترسی اور ندیم کی مستقل مزاجی

ندیم جس سٹور میں کام کرتا تھا اس کے مالکان بہت اچھے لوگ تھے۔ انہوں نے

ارشد کا شوق دیکھ کر اسے کام کے بعد فارغ وقت میں پڑھنے کا موقع دیا۔ ندیم نے

سوچا وہ پڑھے لکھے گا، اچھی باتیں سیکھے گا تو یقینا اس کی ماں کی روح

خوش ہو گی۔ اس طرح اس نے پڑھنا لکھنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ اس نے تعلیم

مکمل کرلی۔ اب وہ ایم کام کر چکا ہے، ایک فیکٹری میں منیجر کی جاب کر رہا

ہے۔ آج بھی وہ اس خاتون کو یاد کرتا ہے جس نے اس کو نصیحت کی اور بات اس

کے دل میں اتر گئی اس طرح اس نے تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور آج ایک باوقار

زندگی گزار رہا ہے۔ دوسری طرف نعیم نے تعلیم کی جانب کوئی توجہ نہ دی اس

لئے وہ آج بھی اس سٹور پر محنت مزدوری کر کے اپنا وقت گزار رہا ہے-

=—= ندیم اور نعیم کی کہانی سے ملنے والا سبق

پیارے بچو! اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اپنے بہتر مستقبل کیلئے دور

اندیشی سے کام لینا، بڑوں کی باتوں کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے،

جبکہ ساتھ ساتھ مستقل مزاجی سے اپنے اہداف کے حصول کیلئے محنت کرتے

رہنا بھی کامیاب زندگی کی بڑی شرط ہے، امید ہے آپ بھی ایسا ہی کریں گے،تاکہ

والدین اور ملک کا نام روشن کرنے سمیت اپنی زندگی کو بھی بہتر سے بہتر بنا

سکیں-

=—–= قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں
=—–= ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )

ندیم محبت خاتون گاہک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply