معروف جاسوسی ناول نگار ابن صفی کو بچھڑے41 برس بیت گئے

معروف جاسوسی ناول نگار ابن صفی کو بچھڑے41 برس بیت گئے

Spread the love

لاہور( جے ٹی این آن لائن ادبی نیوز) ناول نگار ابن صفی

اردو کے معروف شاعر، مزاح و ناول نگار، ادیب ابن صفی کی 41 ویں برسی آج

بروز پیرمنائی جا رہی ہے۔ ابن صفی 6 جولائی 1928ء کو بھارتی شہر اتر پردیش

کے ضلع آلہٰ آباد کے معروف قصبے نارا میں پیدا ہوئے اور ان کا اصل نام اسرار

احمد تھا۔ انہوں نے آگرہ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی اور بطور شاعر وہ

اپنا نام اسرار ناروی لکھتے تھے۔ ابن صفی 1952ء میں آلہٰ آباد سے ہجرت کر کے

کراچی آ گئے۔

=–= ادب و شوبز دنیا سے مزید دلچسپ خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

ابن صفی نے اپنی زندگی کی شروعات شاعری سے کی تھی۔ پھر طنزیہ و مزاحیہ

مضامین لکھے۔ انہوں نے کئی انگریزی ناولوں کے اردو میں ترجمے بھی کئے

لیکن انہیں تو خود اردو کا عظیم جاسوسی ناول نگار بننا تھا۔ اس لئے انہوں نے

شاعری و مزاح نگاری ترک کر کے جاسوسی ناول لکھنا شروع کر دیئے۔ 1952ء

میں انکا پہلا جاسوسی ناول دلیر مجرم شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے اپنے لا فانی

کردار فریدی اور حمید کو پیش کیا۔ بعد میں ایک دوسرے سیریز میں انہوں نے

جاسوس عمران کا کردار پیش کیا اور یہ کردار بھی یادگار بن گیا۔ انہوں نے 20

برس کے مختصر عرصے میں 250 سے زیادہ جاسوسی ناول لکھے۔ انکے ناولوں

کی مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ بک سٹالز پر آتے ہی یہ ناول ختم ہو جاتے تھے۔

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

بے حد تیز رفتاری سے لکھنے والے ابن صفی 1957ء میں شدید طور پر بیمار ہو

گئے اور تین برسوں تک انہوں نے کچھ بھی نہیں لکھا، لیکن صحت یابی کے بعد

ان کا پہلا ناول 1960ء میں ڈیڑھ متوالے کے نام سے شائع ہوا اور اس کی اتنی

زبردست پذیرائی ہوئی کہ پندرہ دنوں کے اندر ہی اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنا

پڑا۔ ابن صفی کے ناول درجنوں زبانوں میں ترجمہ ہو کر مقبول ہو چکے ہیں۔ اردو

کے عظیم ادیب 52 سال کی عمر میں 26 جولائی 1980ء کو کراچی میں انتقال کر

کے خالق حقیقی سے جا ملے۔ حق مغفرت فرمائے

=–،–= دانشور، ادیب سیف الدین سیف کی یاد میں خصوصی تقریب

نامور دانشور، ادیب سیف الدین سیف کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے خصوصی

تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں مصطفی قریشی، ڈاکٹر امجد طفیل، انور رفیع،

پروفیسر ناصر بشیر سمیت دیگرنے شرکت کی۔ شرکاء نے کہا سیف الدین سیف

اپنی ذات میں ایک ادارہ تھے، بہت سے لوگوں نے ان سے بھرپور استفادہ حاصل

کیا۔ ان جیسے درویش صفت انسان کی کمی آج شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ سیف

الدین سیف نے بہت ساری کتابیں لکھیں جو ایک اثاثہ ہیں۔

ناول نگار ابن صفی ، ناول نگار ابن صفی ، ناول نگار ابن صفی ، ناول نگار ابن صفی

Leave a Reply