ناراض بلوچوں سے بات چیت کیلئے بااختیار مذاکرات کار، سنجیدگی ضروری

ناراض بلوچوں سے بات چیت کیلئے بااختیار مذاکرات کار، سنجیدگی ضروری

Spread the love

کوئٹہ(جے ٹی این آن لائن نیوز) ناراض بلوچوں سے بات

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی سرداراختر جان مینگل نے

کہا ہے کہ بیرون ملک بیٹھے لوگوں سے بات چیت کیلئے پہلے راہ ہموار کی

جائے، کیا شازین بگٹی کو صرف پیغام رسائی کرنے یا پھر فیصلہ کرنے کا اختیار

دیا گیا ہے؟ شخصیات تو نواز شریف اور آصف علی زرداری بڑی تھیں لیکن

اداروں نے اختیارات اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت بیرون

ملک بیٹھے لوگوں سے مذاکرات کیلئے سنجیدہ نہیں ہے، فیصلے عسکری قیادت

کرتی ہے سیاسی قیادت کچھ نہیں کرسکتی۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی

رہنماء نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ ناراض بلوچوں سے

مذاکرت کے معاملے پر اگر حکومت اور ریاست ایک پیج پر ہیں تو زیادہ دور

جانے کی ضرورت نہیں، وفاق و صوبے میں اعتماد کی فضاء بحال کر کے قائد

اعظم محمد علی جناحٌ اور خان آف قلات کے مابین معاہدے پر عملدرآمد، لاپتہ افراد

کو بازیاب، اٹھارویں ترمیم کے تحت بلوچستان کو حاصل اختیارات اور وسائل

بلوچستان کو منتقل کئے جائیں

=-= پاکستان سے متعلق مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

تفصیلات کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی سردار

اختر مینگل نے کہا کہ شازین بگٹی صرف ایک میسینجر ہوں گے، حالانکہ اب

پیغام رسائی کا جدید زمانہ ہے، انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا کا بھی استعمال کرتے ہیں۔

بلوچستان گزشتہ 20، 25 برسوں میں اتنا پیچیدہ ہو گیا ہے کہ میں نے اعتماد سازی

کے لیے چھ نکات دیے تھے وہ مسائل حل کرنے تک کا بھی اختیار حکومت کے

پاس نہیں تھا، جب وزیراعظم سے ملاقات کرتے تو کہتے جا کر آرمی چیف سے

ملیں، اتنے بے اختیار وزیراعظم مذاکرات کے لیے کسی کو اپنا مشیر بناتے ہیں۔

جو بیرون ملک بیٹھے ہیں ان کے مطالبات تو بہت سخت ہیں، پہلے انکی تو سنیں۔

لوگوں کو غلط فہمی میں مبتلا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے-

=-،-= ناراض بلوچوں کیساتھ بہت محنت سے مذاکرات کئے پیشرفت نہ ہوئی

نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ

نے کہا آل پارٹیز کانفرنس نے ہمیں بیرون ملک بیٹھے افراد سے بات چیت کیلئے

بھیجا اس کے بعد ملٹری اورسیاسی قیادت دونوں کی رضا مندی شامل تھی ہم نے

بہت محنت سے مذاکرات کئے مگر اسکے بعد پیشرفت نہیں ہوئی۔ وہ پہلے

مرحلے میں خان آف قلات اور نوابزادہ براہمدغ بگٹی کے پاس گئے تھے مذاکرات

میں جو مطالبات سامنے آئے وہ کوئی اتنے مشکل نہیں تھے، وہ ایسے تھے کہ اگر

بطور صوبائی حکومت اس کو حل کرنا چاہتا تو حل ہو جاتے، مطالبات عام

ضروریات وہ بھی علاقے کی ضروریات کے مطابق مطالبات تھے، کوئی ذاتی

مطالبہ نہیں تھا۔ بس یہ سمجھ لیں جب تک عسکری قیادت فیصلہ نہیں کرتی سیاسی

قیادت کچھ نہیں کر سکتی۔

=-،-= حقوق و اختیارات نہیں دیئے جائینگے تو بغاوت جنم لے گی

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی

نے کہا پنجاب کے سرداروں کو گلے لگانے والے بلوچستان کے سرداروں کو قتل

کراتے ہیں، حقوق واختیارات نہیں دیں گے تو لوگوں میں بغاوت جنم لے گی۔ پہلے

دیکھنا یہ ہے کہ ناراض بلوچوں سے مذاکرات کے حوالے سے حکومت اور

ریاست میں کتنی ہم آہنگی ہے، اگر عمران خان نے ریاست کے مشورہ اور باہمی

ہم آہنگی سے ناراض بلوچوں سے مذاکرات کا اعلان کیا اور وہ مذاکرات میں

سنجیدہ اور بااختیار ہیں تو انہیں شخصیات سے مذاکرات کیلئے دور جانے کی

بجائے مذاکرات کی ابتداء میں بلوچستان اور وفاق کے درمیان اعتماد کی فضاء قائم

کر کے پاکستان کے بانی محمد علی جناحٌ اور خان آف قلات کے درمیان 1948ء

میں ہونیوالے معاہدہ پر عملدرآمد کرائیں، کوئٹہ پریس کلب کے سامنے اپنے پیاروں

کی بازیابی کیلئے چار ہزار روز سے احتجاج پر بیٹھے لاپتہ افراد کے لواحقین

سے باضابطہ مذاکرات کریں، جو حصول انصاف کیلئے تین ہزار کلومیٹر کا فاصلہ

پیدل طے کر کے سپریم کورٹ گئے تھے-

=-،-= بلوچوں کی محرومیاں دور، لاپتہ افراد کا شفاف ٹرائل کیا جائے

اٹھارویں ترمیم کے تحت بلوچستان کو حاصل اختیارات اور وسائل بلوچستان کو

منتقل کئے جائیں، آئین کے آرٹیکل سات سے سولہ تک انسانی حقوق کے تحفظ پر

مشتمل ہیں ان پر عملدرآمد کیا جائے نہ کہ ہر چیز کا الزام بھارت پر لگایا جائے،

بلوچستان کے لوگوں کو بغاوت پر ریاست نے اکسایا، پنجاب کے سرداروں کو گلے

لگانے والے بلوچستان کے سرداروں کو قتل کراتے ہیں، صوبے کی سیاست میں

دخل اندازی کر کے لوگوں کا پرامن سیاسی راستہ روک کر اختیارات صوبے کو

نہیں دیئے جائیں گے اور لوگوں میں احساس محکمومی ہو گا تو لوگ بغاو ت کریں

گے، جنہوں نے راتوں رات پارٹی بنا کر جام کمال کو منصب اقتدار پر بیٹھا کر

نااہل لوگوں کو بلوچستان پر مسلط کیا، انہی کی وجہ سے بلوچستان کے لوگوں نے

پہاڑوں کا رخ کیا۔ لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کر کے ان کا شفاف ٹرائل کیا

جائے اگر ریاست ان کا ٹرائل نہیں کر سکتی تو اس کی کمزوری ہے، اس کی سزا

بلوچستان کے لوگوں کو نہ دی جائے۔

=-،-= خان آف قلات، قائد اعظم ٌ میں 1948ء میں ہوئے معاہدے سے کی جائے

قانون ساز اداروں میں پیسے لے کر ٹھیکیداروں کو بھیجا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا

کہ بلوچستان میں فرقہ واریت کے نام پر ہزاروں افراد مارے گئے جبکہ سانحہ آٹھ

اگست سمیت دہشت گردی کے واقعات میں ملوث کوئی ایک قاتل بھی پکڑا نہیں گیا

جس کا عدالتوں میں ٹرائل کیا جائے، سانحہ درینگڑھ میں ملو ث ملزمان گرفتار

نہیں ہوتے، ماسٹر مائنڈ تین مرتبہ مارا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات جس

سے بھی ہوں ہمیں کوئی اعتراض نہیں مگرمذاکرات کی ابتداء ملک کے آئین، خان

آف قلات اور قائد اعظم محمد علی جناح کے 1948ء میں ہونے والے معاہدے اور

لاپتہ افراد کی بازیابی سے کی جائے۔

ناراض بلوچوں سے بات ، ناراض بلوچوں سے بات ، ناراض بلوچوں سے بات ، ناراض بلوچوں سے بات

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply