نئے سیاسی تجربات نہیں قائد کی سیاسی بصیرت سے رہنمائی ضروری

Spread the love

(تحریر:… شیخو جی)

شہر قائد کراچی میں انسانی حقوق کی ممتاز علمبردار عاصمہ جہانگیر کی یاد میں

گزشتہ دنوں منعقد ہونے والی تقریب سے خطاب میں سابق چیئرمین سینٹ میاں

رضا ربانی کا کہنا تھا پارلیمانی نظام خطرے میں ہے، آج پھر صدارتی نظام کی

باتیں کی جارہی ہیں جبکہ پاکستان کے عوام نے بار بار صدارتی نظام کو ٹھکرایا،

قائداعظمؒ نے پاکستان کے لئے پارلیمانی نظام کو ترجیح دی، صوبائی خودمختاری

18ویں ترمیم کے تحت دی گئی ہے اگر وفاق اس ترمیم کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہے تو

اس پر عوامی ردعمل وفاق کے لئے خطرناک ہوگا۔ ملک کے آئین کو تحفظ دینا ہم

سب کی ذمہ داری ہے اگر آئین کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی گئی تو قوم سراپا احتجاج

ہوگی،

ملک میں پارلیمانی و صدارتی نظام کی بحث بہت پرانی ہے آج کل پھر اسکی شدت

میں اضافہ ہو چکا ہے، صدارتی نظام کے حامی اس کے حق میں ادھر ادھر سے

دلائل ڈھونڈ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملک کے مسائل کی

وجہ یہ ہے کہ یہاں صدارتی نظام نہیں ہے اور اگر ہوتا تو یہ مسائل بھی نہ ہوتے۔

حالانکہ پاکستان میں صدارتی نظام کا تجربہ بھی ملک کے پہلے فوجی حکمران

نے اپنی من مرضی سے کیا تھا، لیکن انہوں نے جو صدارتی نظام نافذ کیا اور جو

صدارتی آئین عالمی ماہرین قانون سے بنوایا وہ بمشکل 6 سال چل سکا۔ یہ صدارتی

آئین کسی اسمبلی نے یا منتخب عوامی نمائندوں نے نہیں بنایا تھا۔ صدر اور چیف

مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے اپنی مرضی سے ماہرین منتخب کئے اور انہوں نے

ایک آئین کا مسودہ بناکر فوجی حکمران کی خدمت میں پیش کردیا، ان ماہرین کی

قانونی اہلیت کیا تھی اور وہ قانون کی باریکیوں کو کس حد تک سمجھتے تھے۔ اس

بحث میں پڑے بغیر سوال صرف یہ ہے جو آئین انہوں نے بنایا اس میں عوامی

جذبات و احساسات تو نہیں سموئے جا سکتے تھے، کیونکہ بنانے والوں کو عوام

سے براہ راست کوئی سروکار نہیں تھا۔ نہ وہ عوامی نمائندے تھے۔ انہوں نے تو

مسودہ قانون بنا کر اپنی مہارت کا معاوضہ وصول کرلیا جو فوجی صدر کو پسند

آگیا اور انہوں نے اسے نافذ کردیا ، یہ ماہرین قانون حق الخدمت لے کر الگ ہو

گئے۔ اب یہ آئین جتنا عرصہ بھی چلا اس عرصے میں بھی اس کی کتنی مخالفت

ہوئی اور ملک پر اس کے کتنے دور رس منفی اثرات مرتب ہوئے، اس سب کچھ

کو بھول کر اگر صرف یہی بات یاد رکھی جائے کہ اتنی محنت سے بنایا ہوا آئین

صرف چھ برس سے بھی کم عرصے میں اس کو نافذ کرنے والے ہی کے ہاتھوں

فنا کے گھاٹ کیوں اتر گیا تو ساری بات سمجھ میں آجاتی ہے۔

ایوب خان کے بنائے ہوئے آئین میں عوامی جذبات و احساسات کا عمل دخل اس

لئے نہیں تھا کہ اس پر عوام یا ان کے نمائندوں کی پرچھائیں ہی نہیں پڑی تھیں

اس لئے عوام ہی نے اسے مسترد کردیا اور جب ایوب خان کے اقتدار کا آخری

وقت آیا تو وہ اپنے نظام کی ناکامی کا عملی اعتراف کرتے ہوئے دو ایوانی مقننہ

اور پارلیمانی نظام نافذ کرنے پر اصولاً متفق ہو چکے تھے اور اگر جنرل یحییٰ

خان ان پر دبائو ڈال کر اقتدار پر قبضہ نہ کرتے تو شاید ملک کی تاریخ مختلف

ہوتی، لیکن جنرل یحییٰ خان نے اپنے ڈھائی سالہ اقتدار میں ملک کو توڑنے کا وہ

عمل مکمل کردیا جس کے بیج ایوب خان نے دانستہ یا نادانستہ بو دیئے تھے۔ یہ

صدارتی آئین ملک ٹوٹنے کا سبب ضرور بنا، لیکن ملک کے مسائل حل نہ کرسکا۔

اس لئے آج جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ صدارتی نظام ہونا چاہئے اور ان میں حکمران

جماعت کے لوگ بھی شامل ہیں جن میں وہ سیاسی نابالغ بھی ہیں جنہیں ملک کی

تاریخ معلوم ہے نہ جغرافیہ، انہیں شاید یہ بھی معلوم نہیں اس ملک کی سرحدیں

قیام کے بعد ایک ہی بار وسیع ہوئی تھیں جب ملک میں پارلیمانی نظام نافذ تھا، اور

اس دور کے وزیراعظم کا نام فیروز خان نون تھا، جنہوں نے گوادر کا علاقہ خرید

کر پاکستان کا حصہ بنایا۔ جی ہاں اس علاقے کی باقاعدہ قیمت ادا کرکے اسے

پاکستان میں شامل کیا، کیا کوئی دوسرا حکمران وہ فوجی ہو یا سول، صدر ہو یا

وزیراعظم یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس نے پاکستان کی سرحدیں وسیع کی تھیں،

اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ پارلیمانی نظام کی بدولت پاکستان کی سرحدیں وسیع

ہوئیں اور صدارتی نظام کی ’’برکت‘‘ سے ملک آدھا رہ گیا، جب ملک ٹوٹا اس

وقت ایک فوجی صدر ملک کا چیف ایگزیکٹو تھا۔ صدارتی نظام کی ناکامی کی اس

سے بڑی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے۔ پی ٹی آئی کے جن بچونگڑوں نے صدارتی

نظام کے حق میں مہم چلا رکھی ہے پہلے وہ اپنے کسی بڑے سے معلوم کرلیں

اس ملک کو صدارتی نظام نے کیا دیا؟

پاکستان کو اس وقت جن مسائل کا سامنا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہاں

پارلیمانی نظام نافذ رہا یا صدارتی نظام، وجہ اس کی یہ ہے کہ حکمرانوں کا مزاج

جمہوری نہیں تھا۔ چاہے یہ حکمران جمہوریت کا نام لے کر برسراقتدار آئے یا غیر

جمہوری راستوں سے اقتدار پر قبضہ کیا، جونہی انہوں نے حکومت سنبھالی ان

کے اندر کا آمر زندہ ہوکر سامنے آگیا اور وہ جمہوریت کے لبادے میں آمر ثابت

ہوئے، جو لوگ غیر جمہوری راستے سے برسراقتدارآئے ان کا تو جمہوریت کے

ساتھ کوئی تعلق واسطہ ہی نہیں تھا۔ انہوں نے تو اپنے غیر قانونی اقتدار کو جواز

بخشنے کے لئے جمہوریت کا نام لینا شروع کردیا، ورنہ انہیں اپنے اقتدار کے سوا

کسی سے دلچسپی نہیں تھی۔ وہ اپنے سارے دور حکومت میں اسی تگ و دو میں

لگے رہے کہ انہیں جائز حکمران تسلیم کرلیا جائے، لیکن جو شخص ناجائز ذرائع

سے برسراقتدار آتا ہے وہ جتنا عرصہ بھی حکومت کرتا رہے جونہی اس کا اقتدار

ختم ہوتا ہے پتہ چلتا ہے ملک پھر خانہ نمبر ایک میں چلا گیا ہے۔

اس وقت ملک میں جو نظام نافذ ہے اس کی اصلاح کی جاسکتی ہے جو آئین نافذ

ہے اس میں ترمیم آئینی طریقِ کار کے تحت ہوسکتی ہے، کسی آئینی شق میں ابہام

ہے تو اسے دور کیا جاسکتا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے جن شقوں کو بدلا گیا

ان میں کسی کے مطلوبہ نتائج نہیں نکلے تو اس میں کوئی تبدیلی لائی جا سکتی

ہے، لیکن کسی کی خواہش پر ہر چند سال بعد نظام نہیں بدلا جاسکتا۔ خالق سے

زیادہ اپنی تخلیق کو کون سمجھ سکتا ہے۔ یہ ملک قائداعظم محمد علی جناحؒ نے

اپنی بے بدل سیاسی بصیرت اور انتھک سیاسی جدوجہد کے ذریعے بنایا تھا، عوام

کو اس کے حق میں ووٹ دینے کے لئے آمادہ کیا تھا، وہ دلائل کی بے پناہ طاقت

سے مالا مال تھے جس کے سامنے غیر ملکی حکمران بھی بے بس تھے، اور

قومیت کے سحر میں گرفتار علما بھی، قائداعظمؒ اگر چاہتے تو اپنے بنائے ملک

میں صدارتی نظام نافذ کردیتے۔ ان کا ہاتھ کس نے روکا تھا، انہوں نے اگر ملک

کی جغرافیائی حیثیت کو سامنے رکھ کر یہاں پارلیمانی نظام نافذ کیا تو کچھ سوچ

سمجھ کر ہی کیا تھا، جو لوگ ان کے بنائے ہوئے ملک میں رہ رہے ہیں انہیں ان

کے دیئے ہوئے نظام کے اندر ہی سیاسی زندگی گزارنا ہوگی۔ اس ملک کو نئے

سیاسی تجربات کی نہیں، اس بات کی ضرورت ہے کہ اس کے رہنما قائداعظمؒ کی

سیاسی بصیرت سے رہنمائی حاصل کریں اور ان کی دکھائی ہوئی روشنی میں

آگے بڑھیں، باقی سارے راستے تاریکی کی طرف جاتے ہیں!

Leave a Reply