مسلمانوں کے حق میں

نئی طالبان حکومت کا اعلان موخر

Spread the love

لندن، کابل، واشنگٹن (جے ٹی این نیوز) نئی طالبان حکومت

افغان طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ اور قطر میں سیاسی دفتر کے نائب انچارج شیر محمد عباس ستانکزئی نے کہا

ہے امارت اسلامی کی حکومت کا اعلان آج موخر کر دیا گیا ہے، طالبان رہبر شوریٰ نے اس ضمن میں مشاورت کر لی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں شیر محمد عباس ستانکزئی نے جلد کابل ایئرپورٹ سے پروازوں کی بحالی کا

دعویٰ کیا اور بتایا کہ کابل میں حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی بحالی و مرمت پر 25 سے 30 ملین ڈالر خرچہ ہو گا

جس میں قطر اور ترکی مدد کریں گے۔ ایئرپورٹ دو دن میں فنکشنل ہو جائیگا جس کے بعد صرف قانونی دستاویزات کے

حامل افراد کو ملک سے باہر جانے کی اجازت ہو گی۔ اس موقع پر طالبان رہنماء نے انکشاف کیا کہ بغیر دستاویزات کی وجہ

سے ہی ایئرپورٹ پر بدنظمی پیدا ہوئی تھی اب امریکہ دو سے آڑھائی ہزار افغانوں کو واپس بھیج رہا ہے جو ان کے بقول

قانونی دستاویزات کے بغیر امریکہ پہنچے تھے۔

=-= دنیا بھر سے مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

طالبان رہنما شیر محمد عباس ستانکزئی کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان کی اسلامی امارت ایک ایسی حکومت بنائے

گی جس میں تمام اقوام اور طبقات کی نمائندگی ہو گی اور جسے اندرونی و بیرونی طور حمایت بھی حاصل ہو گی۔نئی

حکومت میں تقویٰ دار، پرہیزگار اور تعلیم یافتہ افراد شامل ہونگے۔ خواتین بھی حکومت کا حصہ ہونگی تاہم 20 برسوں سے

کسی نہ کسی شکل میں حکومت میں رہنے والے ہماری حکومت میں نہیں ہونگے۔ عباس ستانکزئی نے مزید کہا طالبان کی

حکومت میں خواتین کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں اور انھیں شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے دفاتر میں کام کرنے کی مکمل

آزادی بھی ہو گی۔ طالبان رہنما نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں 40 برس کے دوران پہلی مرتبہ گزشتہ 15 دنوں میں کہیں

جنگ نہیں ہوئی اور اس صورتحال کا نہ صرف افغانوں کو بلکہ بین الاقوامی برادری کو بھی فائدہ اٹھانا چاہئیے اور ہماری

حکومت کو تسلیم کر لیںے میں ہچکچاہٹ سے کام نہ لیں۔

=-،-= امریکہ سمیت دنیا بھر سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، عباس ستانکزئی

شیر محمد عباس ستانکزئی نے یہ بھی کہا کہ امارت اسلامی امریکہ سمیت یورپی یونین اور دنیا کے تمام ممالک کیساتھ اچھے

تعلقات چاہتی ہے، اور قطر میں ان کے سیاسی دفتر کے اراکین مختلف ممالک سے مذاکرات میں مصروف ہیں۔ افغان طالبان

نے کہا ہے کہ افغانستان میں نئے نظام میں طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ سربراہ ہوں گے، وزیراعظم یا صدر ان کے ماتحت

ہوں گے۔ طالبان کے ثقافتی کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی نے بتایا ہمارے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نئی حکومت کے

بھی سربراہ ہونگے، نئی حکومت سے متعلق مشاورت مکمل ہو گئی ہے، کابینہ کے ارکان سے متعلق بھی ضروری بات چیت

کی جا چکی ہے۔ ہم جس اسلامی حکومت کا اعلان کریں گے وہ لوگوں کیلئے ایک ماڈل ہو گی، افغان میڈیا نے بھی غیر

مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر رپورٹ کیا کہ طالبان کی نئی حکومت میں وزیراعظم کا عہدہ بھی موجود ہو گا جو ہیبت اللہ کے

ماتحت کام کرے گا۔

=-،-= صوبائی و ضلعی سطح پر حکومتی نمائندے موجود ہیں، عبدالحنان حقانی

طالبان کے ایک اور رکن عبدالحنان حقانی نے بتایا ہر صوبے میں امارت اسلامی فعال ہے، ہر صوبے میں گورنر موجود ہیں

جنہوں نے کام بھی شروع کردیا ہے، ہر ضلعے میں ضلعی گورنر بھی موجود ہیں، پولیس چیفس بھی تعینات ہیں جو لوگوں

کے لیے خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ دوسری طرف طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ افغانستان کی ترقی کا

مستقبل چین کے ہاتھوں میں ہے، چین نے افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کی حامی بھری ہے۔ اطالوی اخبار کو انٹرویو

میں ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ چین افغانستان کا پڑوسی بلکہ سب سے اہم شراکت دار سمجھا جاتا ہے، نیا افغانستان اپنی

معیشت کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے چین کی مدد لےگا۔ ون بیلٹ ون روڈ خطے سے گزرنے والے سلک روڈ کی بحالی کا

سنگ میل ہے، افغانستان میں تانبے کے وافر ذخائر ہیں، تانبے کے ذخائرکو چینی دوستوں کی مدد سے افغانستان کی ترقی

کیلئے استعمال کیا جائیگا-

=-،-= ہمارے لئے

ہم چین کو عالمی منڈی تک رسائی کا پاسپورٹ سمجھتے ہیں۔ طالبان روس کے ساتھ بھی مضبوط سفارتی اور تجارتی تعلقات

قائم کرنے کے خواہاں ہیں، روس نے عالمی امن کے قیام کے لیے طالبان کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ پنجشیرکے حوالے سے

ترجمان طالبان نے کہا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی لیکن احمد مسعود کی ملیشیا نے دو بار حملہ کر

کے منفی پیغام دیا، پنجشیر میں مسلح مزاحمت نے افغان امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے جسے کچلنا ناگزیر ہو گیا ہے۔

افغانستان میں خواتین کے کردار کے حوالے سے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا افغان خواتین تمام شعبہ ہائے زندگی میں اہم کردار ادا

کر سکتی ہیں، افغان خواتین کے جامعات میں تعلیم حاصل کرنے پر کوئی روک ٹوک نہیں ہو گی، خواتین افغان سوسائٹی کی

ناقابل تسخیر ہیرو ہیں، قرآن کریم اور شریعت کی رو سے خواتین سرکاری محکموں میں کردار ادا کرسکیں گی، تاہم آئندہ

حکومت میں خواتین کی بطور وزیر تقرری خارج از امکان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں افغانستان کی تمام دولت جنگوں پر خرچ کی گئی، اب افغانستان میں تعمیر نو کا آغاز ہونے جا رہا

ہے، طالبان عالمی برادری سے تعلقات کی بہتری کے لیے پوری کوشش کریں گے، ہمیں بین الاقوامی برادری کا اعتماد

حاصل کرنا ہو گا۔ طالبان ذرائع کے حوالے سے بی بی سی کا کہنا ہے طالبان نے آج نماز جمعہ کے بعد کابل اہم اجلاس طلب

کر لیا ہے جس میں نئے حکومتی سربراہ اور کابینہ کے ناموں کا اعلان کیا جا سکتا ہے، ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے

کہ ملا عبالغنی برادر متوقع طور پر حکومت کے سربراہ ہونگے جبکہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ حکومت کے سپریم لیڈر ہوں گے۔

اسی طرح شیر محمد ستانکزئی کو وزیر خارجہ بنایا جا سکتا ہے، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد، صدر ابراہیم ، سراج الدین

حقانی، ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب کو بھی کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔ عبداللہ عبداللہ، حامد کرزئی، گلبدین حکمت یار بھی

کابینہ کا حصہ ہونگے، قیوم ذاکر اور گل آغا کو کابینہ میں شامل کیا جا سکتا ہے جبکہ ملا عبدالسلام ضعیف کو پاکستان میں

دوبارہ سفیر مقرر کیا جا سکتا ہے-

رہنماء شمالی اتحاد احمد مسعود نے کہا ہے طالبان کو افغانستان کے تمام نسلی گروہوں پرمشتمل جامع حکومت کی صورت

میں ہی تسلیم کیا جائیگا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں سابق جہادی کمانڈر احمد شاہ مسعود

کے بیٹے احمد مسعود نے کہا کہ ہم مذاکرات کے حق میں ہیں، تاہم طالبان کیساتھ ابھی مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہیں ہو

سکی ہے۔ ادھر طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے شمالی اتحاد کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ہم نے ان

کیخلاف آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ طالبان کے جنگجو پنجشیر میں داخل ہو گئے ہیں اور انہوں

نے بعض علاقوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے-

امریکہ نے افغانستان میں طالبان کیساتھ مل کر داعش کیخلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ پریس کانفرنس کے

دوران امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملی نے کہا کہ امریکہ مستقبل میں افغان طالبان کے ساتھ مل کر

افغانستان میں داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے سکتا ہے۔ طالبان کے ساتھ محدود

روابط ہیں جس کا مقصد افغانستان سے شہریوں کا محفوظ انخلا ممکن بنانا تھا کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ جنگ میں جیسا آپ

چاہتے ہوں ویسا ہی ہو بلکہ اپنے مشن اور فورسز کو پیش خطرات کو کم کرنے کے لیے فیصلہ کرنا پڑتے ہیں، برطانوی

وزیرخارجہ ڈومِنیک راب افغانستان کی صورت حال پر بات چیت کے لیے قطر پہنچ گئے ہیں۔ جہاں وہ قطری امیر شیخ تمیم

بن حماد الثانی سے ملاقات کریں گے، برطانوی دفتر برائے خارجہ کے مطابق اس دورے کا مقصد کابل کے ہوائی اڈے اور

دیگر سرحدی گزرگاہوں کو فعال اور کھلا رکھنے کی کوشش ہے، تاکہ غیر ملکی شہریوں کے افغانستان سے نکلنے کے لیے

محفوظ راستے قائم رہیں، امریکی انخلا کے بعد طالبان کی عمل داری میں کابل ایئرپورٹ پر پہلے جہاز کی لینڈنگ ہوئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایئرپورٹ آپریشن کی بحالی پر بات چیت کے لیے قطر ایئر لائنز کا طیارہ تکنیکی ٹیم کو لے کر

کابل ایئرپورٹ پہنچا۔ طالبان نے بارودی سرنگیں صاف کرنے والے ایک بڑے خیراتی ادارے ہالو ٹرسٹ کو افغانستان میں اپنا

مشن بحال کرنے کی اجازت دے دی ہے، افغانستان میں گذشتہ دو دہائیوں میں ہونے والی جنگ کے دوران کئی بارودی

سرنگیں بنائی گئی ہیں، جن کی صفائی اب شہریوں کے تحفظ کیلئے انتہائی ضروری ہیں۔ اس سے قبل برطانوی خیراتی

ادارے ہالو ٹرسٹ نے کابل پر طالبان سے قبضے سے قبل افغانستان سے اپنا غیر افغان عملہ واپس بلا لیا تھا۔ طالبان کی طرف

سے اجازت ملنے کے بعد اب یہ ادارہ پھر سے اپنے ایک ہزار سے زائد ملازمین کے ساتھ پانچ صوبوں سے اپنے کام کا

دوبارہ آغاز کر رہا ہے۔

نئی طالبان حکومت ، نئی طالبان حکومت ، نئی طالبان حکومت ، نئی طالبان

حکومت ، نئی طالبان حکومت ، نئی طالبان حکومت ، نئی طالبان حکومت

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply