181

نئی دہلی میں موت کا رقص جاری ،انٹیلی جنس افسر سمیت مزید15افراد ہلاک، 200سے زائد زخمی

Spread the love

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میںمتنازع شہریت قانون کے خلاف شروع ہونے

والا احتجاج مسلم کش فسادات میں تبدیل ہو گیا بھارتی دالرالحکومت میں بدھ کے

روز تیسرے دن بھی موت کا رقس جاری رہا اور پر تشدد واقعات کے دوران

ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی جبکہ مرنے والوں میں انٹیلی جنس افسر بھی شامل

ہے۔نئی دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں زخمیوں کی تعداد 200 سے زائد ہو

گئی ہے جبکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے دہشت گرد مسلمانوں کو ڈھونڈ

دھونڈ کر اور شناخت کرنے کے بعدنشانہ بناتے رہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے

کے مطابق نئی دہلی میں ہونے والے حالیہ فسادات میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب

سے مسلمانوں کو شناخت کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف ہوا

ہے۔ نئی دہلی میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر

پولیس اور ہندو انتہا پسندوں نے اس وقت دھاوا بولا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

سرکاری دورے پر بھارت پہنچے۔نئی دہلی میں ہونے والے احتجاج پر ہندو انتہا

پسندوں کے حملوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی اور شہر کے شمال مشرقی

علاقوں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں ہلاکتیں 28ہو گئی ہیں۔ نئی دہلی میں

مسلمانوں کی املاک کے ساتھ ساتھ درگاہ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا گیا۔بھارتی

میڈیا کے مطابق نئی دہلی کے علاقے چاند باغ میں ایک انٹیلی جنس افسر کی لاش

ملی ہے، ہلاک ہونے والا انٹیلی جنس بیورو میں سکیورٹی اسسٹنٹ کے عہدے پر

فائز تھا۔اس سے قبل نئی دہلی ہائیکورٹ نے سماعت کے دوران دہلی پولیس پر کی

سرزنش کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس کی نا اہلی کی سزا عوام بھگت رہے ہیں۔

نئی دہلی ہائیکورٹ نے یہ ریمارکس شہری کی طرف سے بی جے پی کے انتہا

پسند رہنما انو راگ ٹھاکر، پرویش ورما اور کپل شرما کے خلاف مقدمہ درج

کرنے کی درخواست کے دوران دیئے۔نئی دہلی ہائیکورٹ کا پولیس حکام کو کہنا

تھا کہ ابھی تک کوئی ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی، پولیس تماشا دیکھ رہی

ہے ایف آئی آر درج نہیں کرینگے تو کارروائی کیسے آگے بڑھے گی۔

درخواستگزار کا کہنا تھا کہ نئی دہلی میں شروع ہونے والے فسادات کے پیچھے

بی جے پی کے رہنما انو راگ ٹھاکر ہیں جنہوں نے اشتعال انگیز بیانات دیئے

تھے۔دوسری طرف بھارتی سپریم کورٹ بھی مودی سرکار کے نقش قدم پر چل

پڑی ہے جہاں پر عدالت عظمیٰ نے نئی دہلی کی ہائیکورٹ کو حکم دیا ہے کہ بی

جے پی رہنماؤں کے خلاف ایف آئی ا?ٓر درج کرنے کا حکم جاری نہ کیا جائے۔

اپوزیشن جماعت کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے نئی دہلی فسادات پر کہا ہے

کہ یہ سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے، وزیر داخلہ نے گزشتہ روز

ایکشن کیوں نہیںلیا جب مسلمانوں پر تشدد ہو رہا تھا، وزیراعلیٰ نئی دہلی کیجروال

کی خاموشی بھی بہت سارے سوال اٹھا رہی ہے۔۔نئی دہلی کی صورتحال پر

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی بنائی گئی ایک ویڈیو میں مسلمان نوجوان

سرفراز علی نے ہندو انتہا پسندوں کے تشدد کے بارے میں بتایا۔زخمی حالت میں

نوجوان نے ایمبولینس میں بیان دیا کہ وہ اور اس کے والد ساتھ تھے کہ کچھ لوگوں

نے ان سے نام پوچھے، انہیں گھیر لیا اور پھر نعرے لگانے کو کہا۔ اسے اور اس

کے والد کو ہندو انتہا پسندوں نے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگانے پر مجبور کیا

جس کے بعد نوجوان سے شناختی کارڈ مانگا گیا۔بی بی سی کی ویڈیو میں دکھائی

گئی ایمبولینس بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور اس کا شیشہ ٹوٹا ہوا ہے۔ ایمبولینس

میں موجود ریسکیو اہلکار کا کہنا تھا کہ مریض کو طبی امداد کے لیے لے جایا

جارہا تھا کہ راستے میں موجود لوگوں نے گاڑی پر ڈنڈوں سے حملہ کیا۔ جس

گاڑی پر حملہ کیا گیا وہ سرکاری ہے، اس میں ہندو مسلمان سب کو علاج کے لیے

لے جایا جاتا ہیاپوزیشن جماعت کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے نئی دہلی

فسادات پر کہا ہے کہ یہ سب کچھ پری پلان (منصوبہ بندی) کے تحت ہو رہا ہے،

وزیر داخلہ نے گزشتہ روز ایکشن کیوں نہیں لایا جب مسلمانوں پر تشدد ہو رہا تھا،

وزیراعلیٰ نئی دہلی کیجروال کی خاموشی بھی بہت سارے سوال اٹھا رہی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں