kahani

میٹھے بول میں جادو، سچ کہتے ہیں سیانے ایسا ناکارہ بھی کارآمد

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

( تحریر: —– بریکہ زاہرہ ) میٹھے بول میں جادو

ندیم اور نعیم دونوں بھائی تھے، دونوں ایک ہی کلاس میں پڑھتے تھے۔ ایک جیسا

لباس ایک جیسے بیگ اور ایک طرح کے جوتے پہنتے تھے۔ پڑھائی میں بھی

تقریباً ایک جیسے تھے، فرق تھا تو بول چال، لب و لہجے کا۔

—————————————————————————–
یہ بھی پڑھیں : کیا واقعی پیسہ بولتا ہے – – – – – ؟
—————————————————————————–

سب لڑکے محسوس کرتے کہ ندیم دھیمے لہجے، سُلجھے انداز اور دھیمی سی

مُسکراہٹ چہرے پر سجائے رکھتا ہے، جبکہ نعیم اکھڑے طریقے سے بولتا ہے۔

آنکھیں سُرخ اور منہ سے جھاگ نکلتی محسوس ہوتی ہے۔ والدین بھی اُس کی

عادت سے پریشان تھے، محسوس ہوتا کہ کسی سے لڑ رہا ہے۔ اکثر اُس کی بات

سچ ہوتی مگر طرز بیان بُرا لگتا تھا۔

منجن بیچنے والا اور نعیم

اساتذہ کرام بھی اُس کی اس عادت سے نالاں تھے، مگر اس کی فطرت بن چکی

تھی اور فطرت بدلتی نہیں۔ ایک بار شیخوپورہ جارہے تھے کہ گاڑی میں منجن

بیچنے والا آگیا۔ (منجن دانت صاف کرنیوالا پاؤڈر ہوتا ہے )۔ اس نے اپنے منجن

کی تعریفیں شروع کردیں۔ سب مسافر سنتے رہے مگر یہ باز نہ رہ سکا اور کہنے

لگا ” پہلے اپنے میلے کچیلے دانت دیکھو،انہیں صاف کرو پھر کسی کو بیچنا “۔

باؤجی! روزی کمانے دو

وہ بیچارا کہنے لگا:”باؤجی ! روزی کمانے دو آپ کی مہربانی ہو گی۔ مگر یہ کب

باز آنے والا تھا۔ بولا: ” پہلے تو لو پھر بولو، تمہارے دانت پیلے ہیں اور اور تم

منجن کی تعریفیں کر رہے ہو، تمہیں پہلے خود ۔۔۔۔ سبھی اس کی طرف دیکھنے

لگے بات تو ٹھیک تھی، مگر طرز بیان اچھا نہ تھا۔ وہ بیچارا اگلے سٹاپ پر اُتر

گیا۔ اکثر مسافر ہنسنے لگے۔ یہی بات آرام سے بھی کی جا سکتی تھی تو شاید وہ

عمل کر لیتا۔

دھیمے انداز میں طرز گفتگو ”موضوع “ بحث

ایک دن کلاس میں دھیمے انداز میں طرز گفتگو ”موضوع “ بحث تھا۔ ایک

سٹوڈنٹ نے ٹیچر کی توجہ نعیم کی طرف دلائی، ٹیچر نے اسے سمجھانے کے

لئے ایک واقعہ سنایا کہ بات کرتے ہوئے الفاظ کا چناؤ اور شیریں لہجہ کتنا

ضروری ہے۔

ایک بادشاہ کا دوسرے بادشاہ کے مُلک پر حملہ

کسی بادشاہ نے دوسرے بادشاہ کے ملک پر حملہ کر دیا۔ بادشاہ نے حکم دیا ہم

جنگ پر جارہے ہیں، فوراً دست شناس کو بلایا جائے کہ ایسی کون سی تدبیر ہو

گی کہ ہم فاتح رہیں۔

شاہی دست شناس اور اس کا شاگرد

جب شاہی دست شناس کو بادشاہ کا حکم سنایا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ کئی دنوں

سے بیمار ہے۔ بادشاہ کے دربار میں حاضر نہیں ہو سکتا، مگر بادشاہ کا حکم بھی

ٹالا نہیں جا سکتا تھا۔ اس نے ایک ہونہار شا گرد کو یہ کہہ کر بادشاہ کی طرف

روانہ کیا کہ یہ میری طرح کا دست شناس ہے، میری اور اِس کی باتوں میں کچھ

فرق نہ ہو گا۔ جب شاگرد بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا تو بادشاہ نے اس کے

آنے کی وجہ پوچھی۔ جب اسے بتایا گیا کہ شاہی دست شناس بیمار ہے اور اس نے

اپنے شاگرد کو بھیجا ہے، بادشاہ نے کہا فوراً میرا ہاتھ دیکھو اور بتاؤ کہ جنگ کا

کیا ہو گا؟“

بادشاہ کا ہاتھ اور احوالِ جنگ

شاگرد نے بادشاہ کا ہاتھ دیکھا اور بتانا شروع کر دیا۔ آپکو اور آپکی فوج کو بڑی

شکست ہو گی۔ اِن میں کچھ لوگ آپ کا ساتھ چھوڑ جائیں گے اور جنگ میں آپ

پکڑے جائیں گے، آپ کو میدان جنگ میں گھسیٹا جا ئے گا۔

سولی چڑھانے کا حکم اور آخری خواہش

بادشاہ کاغصے سے برا حال ہو گیا۔ اس نے حکم دیا کہ اِس کی آخری خواہش

پوری کرکے سولی پر لٹکا دو۔ سپاہی نے اس کی آخری خواہش پوچھی۔ اس نے

کہا: ” میری خواہش ہے میرے استاد محترم سے ملاقات ہو جائے۔ شاہی ہرکارے

دوڑے گئے اور دست شناس کو سارا ماجرا کہہ سنایا۔ استاد دست شناس کسی نہ

کسی طرح شاہی دربار میں پہنچا، تو بادشاہ نے کہا: کس نالائق کو ہمارے پاس

بھیجا تھا؟

آپ آخر دم تک مقابلہ کریں گے

دست شناس نے کہا:” اسے چھوڑئیے میں آپ کا ہاتھ دیکھتا ہوں اور ہاتھ دیکھ کر

کہنے لگے:” جہاں پناہ آپ بہت جو انمردی اور بہادری سے لڑیں گے، آپ کی فوج

سے ڈرپوک اور بزدل لوگ بھاگ جائیں گے اور کچھ نمک حرام آپ کا ساتھ چھوڑ

دیں گے، مگر آپ آخر دم تک مقابلہ کریں گے، اور رہتی دنیا تک آپ کا نام بہادر

لوگوں میں سے ہو گا، اورمرنے کے بعد تو کسی کیساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے،اِس

لئے وہ بزدل دُشمن اپنے انتقام کی خاطر آپ کی لاش کو گھوڑوں کے پیچھے باندھ

کر آپ کی لاش کی بے حرمتی کریں گے۔

دست شناس مالا مال

بادشاہ پامسٹ کے تعریفانہ جملوں سے بہت خوش ہوا۔ شاہی دست شناس کو مالا

مال کرنے کا حکم دیا۔

شاہی دست شناس نے کہا:” بادشاہ سلامت مجھے انعام نہیں چاہئے میرے نالائق

شاگرد کو بھی رہا کر دیا جائے۔ بادشاہ نے حکم دیا اِسے انعام بھی دیا جائے اور

اِس کے شاگرد کو بھی چھوڑ دیا جائے۔

شاگرد کا اُستاد سے سوال

شاہی پامسٹ اور اس کا شاگرد جب دربار سے باہر نکلے لگے تو شاگرد نے کہا

”استاد جی! جو باتیں میں نے بتائیں وہی باتیں آپ نے بتائیں مجھے سزا اور آپ کو

انعام کیوں؟

شاہی دست شناس نے جواب دیا:” باتیں تو ہم دونوں کی ایک طرح کی تھیں لیکن

دونوں کا طرز گفتگو الگ الگ تھا۔

میرے ہر جملے سے بادشاہ خوش ہوتا گیا، اور تمہارے جملے سے بادشاہ کو غصہ

آتا گیا۔ اس لئے سیانے کہتے ہیں” میٹھے بول میں جا دو ہے “۔

نعیم کی شرمندگی اور عہد

بات ندیم اور نعیم کی ایک جیسی بھی ہو مگر طرز تخاطب میں زمین و آسمان کا

فرق ہے۔ ندیم کا لہجہ دھیما اور سلجھا ہوا اور نعیم کا انداز غصیلا ہوتا ہے اب نعیم

شرمندہ ہورہا تھا۔

ٹیچر کی بات ٹھیک تھی۔ اس نے دل میں ارادہ کر لیا کہ وہ بھی اپنی گفتگو میں

نرمی اور لہجہ درست رکھے گا۔ پیارے ساتھیو! اسی لیے کہتے ہیں کہ میٹھے بول

میں جادو ہے۔

——————————————————————————
دوستو : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر کریں، فالو کریں اپڈیٹ رہیں
——————————————————————————

میٹھے بول میں جادو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply