میر شکیل الرحمن مزید 11روزہ جسمانی ریمانڈ پرنیب کے حوالے

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت کے جج جوادالحسن نے غیرقانونی پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں گرفتار جنگ و جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن کومزید 11روزہ جسمانی ریمانڈ پرنیب کے حوالے کردیا ،دوران سماعت کمرہ عدالت میں ریکارڈنگ کرنے پر فاضل جج نے میرشکیل الرحمن کی بیٹی پر برہمی کا اظہار کیا،جس پر میر شکیل الرحمن کی بیٹی نے ریکارڈنگ ڈیلیٹ کر کے فاضل جج سے معذرت کرلی ،کیس سما عت شروع ہوئی تو سپیشل پراسکیوٹر عاصم ممتاز کی طرف سے میر شکیل الرحمن کا مزید 15 روزہ جسمانی دینے کی استدعا کی گئی ،

سپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت کوبتایا کہ لاہور ہائیکورٹ نے ملزم کی ضمانت پر رہائی کی درخواستیں خارج کر دی ہیں، میرشکیل الرحمن اور ان کی اہلیہ شاہینہ شکیل نے لاہور ہائیکورٹ میں گرفتاری چیلنج کی تھی، درخواستوں میں احتساب عدالت کے جسمانی ریمانڈ کے فیصلے بھی چیلنج کئے گئے تھے، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ بڑا ریکارڈ سیز کیا جا چکا ہے، ایم اے جوہر ٹائون کا اصل نقشہ ایل ڈی اے سے منگوایا ہے، میر شکیل پر بے مثال نوازشا ت کی گئیں، فاضل جج نے استفسار کیا کہ اس وقت کے وزیراعلیٰ کا پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں کیا کردار تھا؟جس پر سپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب نے نواز شریف کو سوالنامہ تیار کر کے بھیجا ہے مگر بد قسمتی سے اس وقت کا وزیراعلیٰ پاکستان میں موجود نہیں ، 180 کنال اراضی کی 30 فیصد ایگزمپشن 54 کنال بنتی ہے،

ایگزمپشن پالیسی کے تحت ایک مالک کو 15 کنال زمین ایک جگہ الاٹ ہو سکتی تھی، میر شکیل نے محمد علی کے مختار عام پر ڈی جی ایل ڈی اے کو تمام پلاٹ یکجا کرنے کی درخواست دی، فاضل جج نے استفسار کیا کہ کیا اس وقت کے وزیراعلیٰ نے پالیسی میں کوئی نرمی کی تھی؟ جس پر پراسیکیوٹر نے کہا اس وقت کے وزیراعلیٰ نواز شریف نے میر شکیل کو خصوصی رعایت دی، دوران سماعت میرشکیل الرحمن کی بیٹی کی جانب سے موبائل پر کارروائی کی ریکارڈنگ کرنے فاضل جج نے برہمی اظہار کرتے ہوئے نائب کورٹ کو حکم دیا کہ اس خاتون کو فوری طور پر باہر نکالاجائے ،خاتون پولیس اہلکار کو بلائو اور اس کے موبائل کی ریکارڈنگ ڈیلیٹ کروائی جائے،میڈیا والے کوئی آسمان سے نہیں اترے، جس پر عدالت میں موجود میڈیا کے افراد نے کہا یہ خاتون میر شکیل کی بیٹی ہے جس نے ریکارڈنگ کی ہے، فاضل جج نے کہا کہ کیس کی کارروائی آگے نہیں بڑھائوں گا جب تک ریکارڈنگ ڈیلیٹ نہیں کی جاتی،

جس کے بعد میر شکیل الرحمن کا بیٹا میر ابراہیم اپنی بہن کو لے کر کمرہ عدالت میں داخل ہوا،وہاں مذکورہ خاتون نے عدالت سے معذرت کی ،فاضل جج نے کہا کہ اس ریکارڑنگ کو فوری طور پر ڈیلیٹ کریں،عدالت کے اندر کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ کی اجازت نہیں ہوتی، آئندہ ایسی حرکت نہ کی جائے، میرشکیل الرحمن کے وکیل امجد پرویز نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ گزشتہ ریمانڈ کے دوران بھی نیب نے ڈی جی ایل ڈی اے سے آمنا سامنا کروا نے کا کہا تھا آج بھی یہی کہا جا رہا ہے، نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم اپنے بھائی کی وفات کی وجہ سے 7 روز تک کراچی رہا، نیب نے انسانی بنیادوں پر راہداری ریمانڈ کی مخالفت نہیں کی تھی، ملزم میر شکیل کے کراچی میں موجود ہونے کی وجہ سے تحقیقات مکمل نہیں ہو سکیں، ا مجدپرویز نے کہا کہ ملزم کا ایل ڈی اے کے نقشہ سے کوئی تعلق نہیں،

ملزم کے جسمانی کی درخواست مسترد کی جائے، نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ میر شکیل الرحمن نے اس وقت کے وزیراعلیٰ نواز شریف کی ملی بھگت سے ایک ایک کنال کے 54 پلاٹ ایگزمپشن پر حاصل کئے، ملزم کا ایگزمپشن پر ایک ہی علاقے میں پلاٹ حاصل کرنا ایگزمپشن پالیسی 1986ء کی خلاف ورزی ہے، ملزم میر شکیل نے نواز شریف کی ملی بھگت سے 2 گلیاں بھی الاٹ شدہ پلاٹوں میں شامل کر لیں، ملزم میر شکیل نے اپنا جرم چھپانے کیلئے پلاٹ اپنی اہلیہ اور کمسن بچوں کے نام پر منتقل کروا لئے، ملزم کو جسمانی ریمانڈ کے دوران 7 روز کیلئے راہداری ریمانڈ پر ملزم کے بھائی کی عیادت کیلئے کراچی منتقل کیا گیا، ملزم سے 13 روزہ جسمانی ریمانڈ کے دوران تحقیقات مکمل نہیں کی جا سکیں،

عدالت نے دلائل سننے کے بعد میر شکیل الرحمن کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 11روز تک توسیع کرتے ہوئے انہیں18اپریل کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔علاوہ ازیں کیس کی سماعت ملتوی ہونے کے بعدمبینہ طور پرایک غریب محنت کش جو پانی فروش کرتاہے نے اپنا1800روپے کا بل مانگنا تواسے پولیس کے حوالے کروا دیاگیا ،معلوم ہواہے کہ غریب مزدور صبح سے اپنا بل لینے کیلئے بیٹھاا ہواتھا،بل مانگنے پر اس پرجیب تراشی کی کوشش کا الزام لگا کرمبینہ طور پرمیرشکیل الرحمن کے ساتھیوں نے اسے پولیس کے حوالے کروادیا ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply